فخر المجودین مولانا قاری محمد یوسف صدیقی، لاہور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاذ القراء حضرت مولانا ابو عطاء المصطفےٰ قاری محمد یوسف صدیقی بن حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی [۱] ۲۴؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۹ھ ، ۱۷ ؍ اکتوبر ۱۹۳۰ء میں ضلع مانسہرہ (ڈویژن ہزارہ) کے مضافات میں واقع موضع ہاتھی میرا کے ایک علمی و روحانی خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلۂ نصب خلیفہ اوّل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ [۱۔ حضرت مولانا پیر محمد حبیب صدیقی، ایک جید عالم، ماہر طبیب اور شب زندہ دار عابد و زاہد تھے۔ آپ کے عقیدت مند کشمیر، کاغان، بالاکوٹ اور ہزارہ ڈویژن کے دوسرے علاقوں کے علاوہ لاہور میں بھی بکثرت موجود ہیں۔ آپ کی پر تاثیر تبلیغ سے لا تعداد افراد، عیسائیت، مرزائیت اور نجدیت کا شکار ہونے سے محفوظ رہے اور کئی&n۔۔۔
مزید
شیخ ابو عمران موسی المیرتلیّ کے بارے میں فرماتے ہیں: آپؓ اپنے نفس کو اذیتیں دینے والوں میں سے تھے ساٹھ سال گھر میں رہے باہر نہ نکلے، آپ حارث بن اسد المحاسبی کے راستے پر تھے۔ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا جو آپ کے مقام سے بلند مقام میں آپ کا جانا بتاتا تھا، میں نے یہ خوشخبری آپ کو دی تو آپ نے فرمایا تو نے مجھے خوشخبری دی ہے اللہ تجھے جنت کی خوشخبری دے۔ کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ آپ نے وہ مقام حاصل کر لیا میں اگلے ہی دن آپ کے پاس گیا آپ کے چہرے پر خوشی تھی ، میرے لئے کھڑے ہوئے اور مجھے گلے لگایا۔ میں نے کہا آپ نے تو یہ مقام حاصل کر لیا میرے وعدے کا کیا ہوا فرمایا انشاء اللہ ایسا جلد ہو گا چناچہ ایک مہینہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ اللہ نے مجھے اپنے پاس سے خاص نشانی ایجاد کر کے جنت کی بشارت دی لہذا اب میں قطعاً اپنے جنتی ہونے کا یقین رکھتا ہوں اور اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں کرتا کہ میں اہل جنت م۔۔۔
مزید
شیخ یوسف الکومی کے بارے میں فرماتے ہیں: جب میں آپؓ یا اپنے دیگر شیوخ کے سامنے بیٹھتا تو میں تیز آندھی میں رکھے ورق کی طرح پھڑپھڑاتا میرا بولنا تبدیل ہو جاتا میرے اعضاء سن ہو جاتے یہانتکہ یہ سب میری حالت سے عیاں ہوتا۔ آگے فرماتے ہیں کہ میرا آپ (یوسف الکومیؓ) کی صحبت میں اتنا صدق تھا کہ جب میں رات کو کسی ایسے مسئلے کے لئے جو میرے ذہن میں وارد ہوتا آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا تو آپؓ کو اپنے سامنے پاتا، آپ سے وہ پوچھتا اور آپ مجھے بتانے کے بعد چلے جاتے اور صبح صبح میں آپ کو یہ رات کا واقعہ بتاتا۔۔۔۔
مزید
رسالہ القدس میں فرماتے ہیں کہ طریق اللہ میں میری سب سے پہلی ملاقات شیخ ابو العباس ابو جعفر العریبی سے ہوئی۔ آپؓ ہمارے شہر اشبیلیہ تشریف لائے، میں ان چند لوگوں میں سے تھا جو پہلے پہل آپ کی طرف لپکے میں نے آپ کے پاس آنا جانا شروع کیا تو میں نے آپ کو ذکر پر فریفتہ شخص پایا۔ جب میں نے آپ کو آپ کے نام سے پکارا تو آپ بغیر میرے بتائے ہی میرے دل کا حال جان گئے فرمانے لگے: ’’کیا تو نے اللہ کے راستے پر چلنے کا پکا ارادہ کرلیا ہے‘‘ میں نے عرض کی: ’’بندہ ارادہ ہی کر سکتا ہے اور ثبات دینے والی ذات خدا کی ہے‘‘ یہ سن کر بولے :’’سد الباب واقطع الاسباب و جالس الوہاب یکلمک اللّٰہ من دون حجاب‘‘ سب دروازے بند کر دے اور اسباب سے منہ موڑ لے اور وہاب کی صحبت اختیار کر، اللہ تجھ سے بغیر حجاب کے خطاب کرے گا۔ میں نے اس نصیحت پر عمل کیا یہاں تک۔۔۔
مزید
حضرت فاضلِ شہیر مولانا الحاج محمد عبدالرشید جھنگوی، جھنگ علیہ الرحمۃ استاذ العلماء حضرت مولانا ابوالضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ/ ۳؍فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ/ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی۔[۱] [۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴] تعلیم و تربیت: چونکہ حضرت مولانا عبدالرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں۔۔۔
مزید
حضرت سید بہاؤالدین جونپوری رزق کشا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ جونپور کے علاقہ کے مشہور مشائخ میں سے تھے۔ حضرت شیخ محمد عیسیٰ کے مرید تھے ترک و تجرید اور صدق و ورع میں ثابت قدم تھے کہتے ہیں کہ ایک شخص شیخ حسین نام تھا جو گجرات سے چل کر آپ کی زیارت کے لیے آیا یہ شخص شیخ محمدعیسیٰ کی زیارت کرنا چاہتا تھا شیخ بہاْؤالدین طالب علم تھے وہ اِس نوجوان کے ساتھ بھی اٹھنے بیٹھنے لگا اُس نے دیکھا کہ شیخ بہاؤالدین نوجوان بھی ہے اور فقیر مستحق بھی ہے اُسے اس پر بڑا ترس آیا کہنے لگا کہ میرے ساتھ جنگل میں چلو وہ ساتھ ہولیے جنگل میں پہنچ کر اُس نے کیمیا کا ایک نسخہ نکالا اور اُس کو دے کر کہا یہ لے لو اور جب تجھے ضرورت ہو اِس کا استعمال کرنا اگر ختم ہوجائے تو پھر مجھے آکر کہنا تاکہ تمہیں میں کوئی اور عمل سِکھا دوں شیخ بہاؤالدین نے عرض کیا میں تو آپ سے کسی اور کیمیا کی امید لے کر آیا تھا مجھے اِس کیمیا کی ضرو۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی جعفر بن احمد بن محمد تھا، نیشاپور کے رہنے والے تھے، ابن عطاء محمد بن الجواری، ابو علی رودباری کی مجالس میں بیٹھتے تھے اپنے والد سے بہت سا مال ورثہ میں ملا، تمام کا تمام صوفیہ میں تقسیم کردیا جب انتقال ہوا، تو ایک گودڑی کے بغیر کوئی چیز نہ تھی۔ مشائخ اقلیم رہے فرمایا کرتے تھے کہ شیخ ابوالقاسم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چار چیزیں تھیں جمال باکمال (ظاہری بھی اور باطنی بھی) زہد و تقویٰ بے پناہ مال و دولت اور پھر سخاوت میں کھلا ہوا ہاتھ۔ آپ نے ۳۷۸ھ میں وفات پائی۔ زاہد متقی ابو القاسم سال وصلش چو جستم از دلِ خود اہل جاہ و سخی ابوالقاسم گفت کامل ولی ابوالقاسم ۳۷۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ صلاح الدین درویش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ شیخ صدرالدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے، بڑے بزرگ اور عالی مرتبت تھے، شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے معاصر اور ہمسایہ تھے، سلطان محمد تغلق بادشاہ کی طرف سے مشائخ کو جو تکالیف پہنچائی جاتی تھیں، میر سید شیخ نصیرالدین نے تو ان سب کو اپنے شیخ کی وصیت کے مطابق برداشت کیا، لیکن شیخ صلاح الدین درویش بادشاہ سے ہمیشہ ترش کلامی سے پیش آتے تھے شیخ صلاح الدین نے ملتان سے رحلت فرماکر دہلی کو اپنا وطن بنالیا تھا اور دہلی ہی میں انتقال فرمایا، نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے مزار کے قریب ہی آپ کا مزار ہے، 22؍صفرالمظفر کو آپ کا عرس ہوتا ہے، آپ کی مناجات ہے جس کو لوگ مناجات صلاح کہتے ہیں، اس میں آپ کہتے ہیں کہ اے اللہ عزوجل مجھے اس گھڑی اور وقت کی قسم جب کہ تو نے صلاح الدین درویش کو سفید ہاتھی کہا، اے اللہ عزوجل! مجھے قسم اس وقت اور گھڑی کی ج۔۔۔
مزید