جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

محمد ابراہیم

۔۔۔

مزید

حضرت سید نوراللہ منصور

حضرت سید نوراللہ منصور (نجف شریف) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد فاروقی

حضرت مولانا محمد فاروقی (جونپور) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا نادر حسین نگرامی

حضرت مولانا نادر حسین نگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ کمال الدین محمد بن عارف عیسے رومی

حضرت خواجہ کمال الدین محمد بن عارف عیسے رومی (بارہ بنکی) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ شمس الدین

حضرت علامہ شمس الدین (بیت المقدس) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

مولوی علی محمد جماعتی

مولوی علی محمد جماعتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا علی محمد ابن مولوی احمد الدین ، موضع فتو والا ضلع فیروز پور (بھارت) میں تقریباً ۱۳۰۸ھ میں پیدا ہوئے ۔ آباء واجداد نہایت نیک سیرت تھے۔ آپ نے قرآن کریم اپنے والد ماجد سے پڑھا اور جب حضرت مولانا محمد حسین ساکن انگہ شریف ضلع سرگودھا (تلمیذ رشید امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خاں قدس سرہٗ) بریلی شریف میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے فرعوز پور پلٹن میں تشریف لائے تو درس نظامی کی تحصیل کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ معمول یہ تھا کہ مغرب کی نماز پلٹن میں ادا کرتے اور رات کے بارے بجے اسباق سے فارغ ہو کر واپس آتے نیز روزانہ گائے کا دودھ استاد کی خدمت میں پیش کرتے ۔ مولانا محمد حسین آپ پر نہایت مہربان تھے ۔ مولانا علی محمد کو بھی ان سے حدودرجہ عقیدت تھی ،وہ نہصرف ایک بلند پایہ فاضل تھے بلکہ ولی کامل بھی تھے ، دوران تدریس ہاتھ ہلا ہلا ۔۔۔

مزید

حضرت پیر سید بشیر حسین جماعتی

حضرت پیر سید بشیر حسین جماعتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مفتی رضوان الرحمٰن

حضرت مفتی رضوان الرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ توکل شاہ انبالوی

حضرت خواجہ توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (مشتمل بردوازدہ باب) ولادت اور نسب شریف: آپ موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابانانک کے درمیان واقع ہے۔ قریباً ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے۔ والدین کا سایۂ عاطفت نہایت خرد سالی میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ایک موقع پر خود آپ نے فرمایا: ’’میرے نانا صاحب کے صرف دو بچے تھے۔ ایک والدہ صاحبہ دوسرے ماموں صاحب جو دو مرتبہ انبالہ میں میرے ملنے کو تشریف لائے۔ ماموں صاحب نے شادی نہیں کی۔ تمام عمر تجرد میں بسر کردی۔[۱] [۱۔ تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر ۶۲۱۔] نام مبارک: آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی چنداں ضرورت نہیں۔ جناب مولوی حاجی سید ظہورالدی۔۔۔

مزید