اباب لعل شاہ وسوارسی والے کئی عرصہ تک دربار برّی امام پر حاضری دیتے رہے اور دربار بری امام سے ہی مستفید ہوئے آ بڑے کشف و کرامات والے جلالی مجذوب بزرگ ہوگزرے ہیں آپ کا مزار سوارسی تحصیل مری میں فیضان عام بنا ہوا ہے۔ (فیضانِ امام برّی) ۔۔۔
مزید
آپ کا مزار کا مرہ شریف تحصیل کہوٹہ میں واقع ہے ۔ آپ بڑے با شریعت باکرامات بزرگ گذرے ہیں آپ کی کچھ تصانیف بڑی مقبول ہوتیں جن میں آفتاب قادری او ر شجرہ قادری بہت مشہور ہیں آپ صوفی شاعر تھے۔آپ نے ایک سی حرفی بھی لکھی جو بڑی مشہور ہوئی۔ آپ کے معقدین میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی شامل ہیں۔ (فیضانِ امام برّی)۔۔۔
مزید
آپ کا مزار دربار بری امام رحمۃ اللہ علیہ بالکل سامنے متصل اڈہ نورپور شاہاں میں مرجع خاص و عام بنا ہوا ہے آپ کئی سال جنگوں میں چلّہ کشی کرتے رہے۔ آپ کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں در بار بری امام میں بے سدوبے ہوش پڑے رہتے جب ریاضت ختم ہوئی تو نور شاہاں میں ہی قیام پذیر ہوئے آپ اپنی زندگی می بلانغہ گیارہویں شریف کا اہتمام فرماتے رہے چنانچہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے آُ کا جب انتقال ہوا تو آپ کے عقیدت مندوں کے جذبہ شوق کا یہ عالم تھا کہ چالیس دنوں میں بری امام کے روضے کی طرح ان کا ہوا بہو روضہ تیارر کردیا۔ (فیضانِ امام برّی)۔۔۔
مزید
آپ کا نام مین جتی تھا اور سائیس نانگا کے نامم سے مشہور ہوئے آپ دربار یری امم سے مستعفید ہوئے۔ آپ کا مزار پنڈوری شریف میں ہے جہاں ہر سال بڑے تزک و احتشام کے شاعر عرس ہوتا تھا ۔ آپ کے مریدین کی خاصی تعداد راولپنڈی میں ہے۔ (فیضانِ امام برّی)۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ موضع کدکن کے رہنے والے تھے۔ یہ گاؤں نیشا پور کے نزدیک تھا۔ آپ نے شیخ مجددالدین بغدادی سے بیعت کی۔ شیخ رکن الدین اکاف کے ہاتھ پر توبہ کی اور وقت کے مشہور مشائخ اور بزرگان دین کی صحبت میں بیٹھتے بڑے صاحب وجد و تواجد بزرگ تھے سماع سے شغف رکھتے تھے۔ بعض صوفیاء لکھتے ہیں کہ آپ حسین بن منصور کے اویسی تھے حضرت مولانا جلال الدین رومی لکھتے ہیں کہ حضرت حسین منصور حلّاج کی روح نے ڈیڑھ سو سال بعد حضرت عطار پر اثر کیا تھا اس طرح حضرت عطار آپ کے زیر اثر آئے حضرت مولانا حاجی نفحات الانس میں تحریر فرماتے ہیں کہ توحید و اسرار کے جتنے معارف حضرت فریدالدین عطار کی مثنویوں اور غزلیات میں پائے جاتے ہیں کسی دوسرے صوفی شاعر کے ہاں نہیں ملتے آپ کی مشہور کتابیں پندنامہ تذکرۃ الاولیاء۔ الٰہی نامہ۔ شتر نامہ۔ منطق الطّیر وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ مولانا جلال الدین ۔۔۔
مزید