پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

حضرت میاں محمد جاں

حضرت میاں محمد جاں علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبدالشکور نظامی کمبل پوش

حضرت مولانا عبدالشکور نظامی کمبل پوش  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درویش بزرگ حضرت صوفی عبدالشکور اکبر آبادی بن آگرہ (یوپی ۔ بھارت ) میں ۲۷، رجب المرجب ۱۳۱۱ھ ؍ ۱۸۹۴ء دو شنبہ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ان کے حقیقی نانا حضرت مولانا الحاج سید محبوب علی عطاء ، قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ مولانا عبدالشکور نے انہی کے دامن فیض میں تربیت پائی اور اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔  (بروایت پروفیسر مرزا سلیم بیگ بحوالہ ماہنامہ نعت لاہور ’’سندھ کے نعت گو ‘‘ دسمبر ۲۰۰۰ئ) حضرت قبلہ سید نواب محمد خادم حسن صاحب زبیری اجمیری مرحوم کی صحبت نے آپ کو ایک اچھا خاصہ شاعر بنا دیا ۔ آپ نے استاد محترم کے متعلق قطعہ کہا ہے: خادم خادمان چشت گئے نیک سیرت تھے خود سرشت گئے آج خادم حسن زبیری بھی کیا کہوں خازن بہشت گئے بیعت : آپ سلسلہ ع۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی

حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔ ۲۶، رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ ھ بمطابق ۲، جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃالعلم بدایون ( بھارت ) میں تولد ہوئے ۔ آپ کے مورث اعلی مولاناخواجہ عبداللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔ تعلیم و تربیت : جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر۔۔۔

مزید

استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی

استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے۔ مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم یاسینی کے بہنوئی تھے۔ تعلیم و تربیت: آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے سالے مولانا حافظ محمد ابراہیم کے پاس پڑھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی میں سکندرنامہ تک صرف و نحو میں کافیہ تک منطق میں مرقاۃ تک ، فقہ میں کنز تک حدیث میں مشکوٰۃ تک، اصول فقہ میں اصول الشاشی اور ترجمہ قرآن پاک پڑھا۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ حضرت مولانا محمد قاسم کا ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ کو انتقال ہوگیا ۔ ان کے وصال کے بعد بقیہ نصابی کتب (درس نظامی) حضرت مولانا محمد ابراہیم کے پاس پڑھیں ، ان میں جلالین ، شرح تہذیب شرح وقایہ، ہدایہ مکمل ، جامی مطول، توضیح تلوی۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فاضلِ نوجوان مولانا محمد شریف،  ہزاروی، ہری پور   مجاہدِ تحریک نفاذ نظام  مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت علامہ مولانا محمد  شریف ہزاروی، سعیدی  ولد مولانا عبد الجلیل ۲۵؍ رجب  المرجب، ۱۲؍ اگست ۱۳۵۷ھ/ ۱۹۳۹ء میں بمقام کھبل علاقہ تربیلا (ہزارہ ڈویژن) پیدا  ہوئے۔ آپ ایک  علمی و  روحانی  خاندان کے چشم و  چراغ ہیں۔ آپ کے والد ماجد عالم با عمل  ہیں اور فقہ  کی جزئیات میں خصوصی دسترس رکھتے  ہیں اور چچا مولانا عبد الباقی اور مولانا حبیب الرحمٰن علم و عمل کے زیور سے آراستہ  ہیں۔ آپ کے دادا  جان کے حقیقی بھائی  حضرت علامہ مولانا میر محمود عرف  خان مولانا علوم ظاہری  و باطنی  کے بحرِ ذخّار اور زہد  و تقویٰ کے مجسمہ ہیں۔ علامہ مولانا محمد  شری۔۔۔

مزید

حضرت شیخ الفقہ مولانا حسن الدین ہاشمی

شیخ الفقہ مولانا حسن الدین ہاشمی، بہاولپور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ الفقہ والقانون حضرت علامہ مولانا حسن الدین ہاشمی بن فرید العصر مولانا فریدالدین (متوفی ۷؍شوال ۱۳۹۲ھ /۱۴؍نومبر ۱۹۷۲ء) بن حضرت مولانا احمد الدین ابن مولانا امیر حمزہ قدست اسرارہم ۲۱؍رجب المرجب ۱۳۴۹/ ۱۲؍دسمبر ۱۹۳۰ء میں قصبہ بھوئی گاڑ (ضلع کیمبپور) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے اور آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے[۱]۔ [۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، تذکرہ اکابر اہل سنّت، ص۳۷۵۔ ۴۱۶] آپ کے والد ماجد حضرت مولانا فریدالدین، تایا حضرت علامہ محب البنی اور جدِّ امجد مولانا احمد الدین متبحر علماء تھے۔ تحصیل علوم: آپ نے ابتدائی تعلیم بھیرہ ضلع سرگودھا میں مولانا محی الدین بھیروی سے حاصل کی پھر صرف و ۔۔۔

مزید

مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی

حضرت مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی ولادت: علامۃ الزماں مولانا الحاج گل محمد بن شیخ الاسلام علامہ مفتی نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کنڈو، تحصیل بھاگ ، ریاست قلات ( بلوچستان ) میں ۲۱، رجب المرجب ۱۲۴۰ھ کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: کنڈو اور شہداد کوٹ میں اپنے والد ماجد کے پاس جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل کی۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس ( ۲۲) برس تھی۔ بیعت: سلسلہ عالیہ قادریہ میں عمدۃ العارفین مولانا میاں غلام حیدر قادری قدس سرہ ( درگاہ کٹبار شریف بلوچستان ) کے دست بیعت ہوئے۔ درس و تدریس : آپ کے والد ماجد کنڈو سے شہداد کوٹ نقل مکانی کر کے آئے تھے لہذا والد ماجد کی قائم کردہ درسگاہ میں تمام سندھ میں علم پھیلا ۔ سندھ میں کوئی ایسا گوٹھ نہیں تھا جس میں آپ کا شاگرد یا پھر اس کا شاگرد نہ ہو۔ ایک روایت کے مطابق آ پ کے فارغ التحصیل شاگردوں کی تعداد ۴۸۶ چ۔۔۔

مزید

زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی

زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی ولادت حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔ خاندانی حالات مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔ تعلیم وتربیت مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء س۔۔۔

مزید

حضرت حافظ اسعد اللہ انصاری محدث حیدر آبادی

حضرت حافظ اسعد اللہ انصاری محدث حیدر آبادی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

خواجہ عبد اللہ المعروف خواجہ خورد

خواجہ عبد اللہ المعروف خواجہ خورد علیہ الرحمہ خواجہ عبد اللہ جوخواجہ خورد خواجہ عبد اللہ جوخواجہ خورد کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ وہ دوسری زوجہ محترمہ  کے بطن سے تھے۔اور اپنے بڑے بھائی سے صرف چار ماہ چھوٹے تھے، شکل و شباہت اور سیرت میں اپنے والد بزرگوار کی ہو بہو تصویر تھے۔ والد بزرگوار کے وصال کے بعد خواجہ عبد اللہ کی کی ابتدائی تعلیم وتربیت بھی خواجہ حسام الدین نے کی جو اپنے مرشد کی وفات کے بعد ان کی درگاہ اور تمام خاندان کے نگران تھے۔ جب آپ سنِ شعور کو پہنچے تو انھیں بھی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کےپاس سرہند شریف بھیجا گیا ، وہاں انھوں نے باطنی اور روحانی تعلیم کے ساتھ ساتھ علم کلام ، تصوف کی اعلیٰ کتابیں بھی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ علم ِکلام اور فلسفہ و تصوف کے بہت بڑے عالم ہو گئے۔ آپ قرآن کریم کے ح۔۔۔

مزید