حضرت حلتہ ورتہ رحمہما اللہ یہ دونوں بزرگ حقیقی بھائی تھے، صاحب کرامات و تصرفات ہوئے ہیں، مکلی کے بارے میں کہا کرتےتھے کہ قیامت کے دن اس قطعہ زمین کو اکھاڑ کر ہم جنت میں لے جائیں گے، غالباً اس لیے کہ یہ لاکھوں اولیاء اللہ کا مدفن ہے، ان کے کشف کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی ضرورت مند اپنے دل میں اپنی مراد لے کر آتا تھا یہ حضرات اس کی آمد سے پہلے ہی اس کے آنے کا اور آنے کے سبب کا ذکر کر دیتے تھے، ثقہ راویوں سے مروی ہے کہ جوشخص کسی مشکل میں مبتلا ہو اس کو چاہیے کہ ان کی قبور کے پاس بیٹھ جائے اور تین دن متواتر روزانہ صلواۃ تنجینا پڑھے اس کی مشکل آسان ہوجائے گی۔ دونوں کے مزارات مکلی پر ہیں۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۰) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حسین حاجی یہ بڑے اعلی درجے کے محدث اور فقیہہ تھے ایک دن اس آیت کی تلافت فرما رہے تھے ۔ وَ لِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ ترجمہ کنزالایمان: اور پورب پچھم سب اللّٰہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللّٰہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے) تھوڑی دیر خاموش ہوئے اس آیت پر غور کیا پھر کھڑے ہوئے اور جنگل کی راہ لی، اولیاء اللہ کے زمرہ میں شامل ہوئے اور تمام عمر صحرا میں تجردکے ساتھ گذرا دی، ٹھٹھہ کے محلہ قند سر میں مزار ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت سید حسین کہتے ہیں کہ آپ کا مزار شریف مرور ایام کے باعث مسمار ہوگیا تھا، ملوک شاہ نے جب مسجد کی بنیاد ڈالی تو معماروں نے عدم تعاون کی بنا پر مسجد کی مشرقی دیوار مزار کے اوپر بنادی رات کو ملوک شاہ نے آپ کو خواب میں دیکھا کہ شکوہ فرما رہے ہیں، صبح اس نے حکم دیا کہ دیوار دو گز ہٹاکر بنائی جائے، اور حضرت کا مزار مسجد کے اندر لے کر باقاعدہ تعمیر کروایا۔محلہ قند ٹھٹھہ میں قبر ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حسام الدین ملتانی آپ ظاہر و باطن کے علم میں یکتائے روزگار تھے ، کہتے ہیں کہ آپ جس شہر میں جاتے داخل ہونے سے پہلے دریافت فرماتے کہ یہاں شرعتہ الاسلام ہے یا نہیں؟ اگر یہ کتاب نہ ہوتی تواس شہر میں داخل نہ ہوتے اور فرماتے کہ جس شہر مین یہ کتا ب نہ ہووہ شریعت اسلامیہ سے دور ہوگا۔ آپ کا مزار شریف حسام پور میں ہے، شاہ عبدالحق نے بھی حسام الدین ملتانی کا ذکرکیا ہےمگر ان کا مزار پٹن میں بتایا ہے جو گجرات کا قدیم شہر ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ دونوں شخصیات ایک ہی ہیں یا الگ الگ ۔ صاحب سید الاولیاء نے آپ مزارگجرات کے شہر پٹن میں بتایاہے۔ آپ سلطان المشائخ نظام الدین کے خلفاء میں سے تھے۔ (سیرالاولیاء از سید محمد بن مبارک کرمانی مہی خور ترجمہ اردو،ص‘ل’۲۶۳ دارلکت۔۔۔
مزید
حضرت تاج محمد قریشی آپ حضرت غوث بہاؤ الدین ذکریا ملتانی کے اولاد امجاد سے ہیں بڑے کمال کے صاحب تھے، آپ حضرت شاہ اسماعیل قادری کی آمد سے بہت پہلے پرانی نورائی شریف میں تشریف لائے تھے آپ کی داڑھی مبارک بہت طویل تھی اور اس سے اس سر زمین کو (جہاں آپ کے پیر و مرشد حضرت شاہ اسماعیل قادری جیلانی علیہ الرحمۃ نے متمکن ہونا تھا) صاف کرتے، اور جھاڑو دیا کرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ یہ سرزمین میرے مرشد کا مسکن بننے والی ہے۔ آپ کی اولاد میں اس وقت سعید محمد قریشی مجذوب صفت اور صاحب کرامت بزرگ موجود ہیں اور آپ کے سجادہ ہیں۔آپ کے مزید حالت معلوم نہ ہوسکے۔ آپ کا مزار پر انوار حضرت شاہ اسماعیل قادری ج۔۔۔
مزید
حضرت تاری بی بی سومرہ خاندان سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون انتہائی خدا رسیدہ خثیت الہٰی سے مسلسل گریہ وزاری کرتی تھی اور کبھی پیر دراز کر کے نہ سوتی ھی وہ دیوار سے ٹیک لگا کر تھوڑی دیر اونگھ لیتی پھرآسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر روتی اور کہتی یا اللہ تو کریم ہے تو نے مجھے تمام آفتوں سے محفوظ رکھا ہے جبکہ میں تجھ سے ٖغافل ہوں اور تجھ کو فراموش کر بیٹھی ہوں تین دن بعد جو کی یخنی کا ایک پیالہ پیتی تھی، جو حاجت مند آتا اور دعا کی درخواست کرتا اس کے حق میں دعا کرتی ، اور اسکی دعا مستجاب ہوتی تھی۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۴۸) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت جعفر المعروف شیخ وریہ شروع میں چوری چکاری آپ کا پیشہ تھا، اتفاقاً شیخ محمد یعقوب قدس سرہ اپنا سامان اٹھائے کہیں جارہے تھے، راستہ میں ایک تالاب تھا آپ اس میں نہانے چلے گئے اور سامان تالاب کے کنارے رکھ دیا جعفر نےموقع پایا اور سامان لے بھاگے شیخ نے ان پر ایک نگاہ ڈالی تو چور سے ولی بنادیا کہتے ہیں کہ شیخ محمد یعقوب نے وفات کے وقت وصیت کی تھی کہ مجھ کو سید عبداللہ کے مقبرہ میں ایک گوشہ میں دفن کردیا شیخ عثمان بھی اس وقت موجود تھے کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ مجھے آپ کے قدموں میں دفن کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا تم شیخ جعفر کے قدموں میں دفن ہوگے اور اور جو سعاددت تم کو مجھے سے ملتی ہے وہیں سے مل جائے گی ۔آپ کا مزار مکلی پر ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۷۳) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت جنید و جنید علیہا رحمۃ اللہ یہ دونوں بھائی صاحب کرامت اور مستجاب الدعوات تھے ، جوزبان سے نکلتا تھا ہوکے رہتا تھا، یہ دونوں حضرات اپنی زندگی میں بارہا فرماتے تھے کہ جو کوئی ہم دونوں کی قبروں کے درمیان سے نکلے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا، اب ان دونوں بزرگوں کا مزار شیخ جیہ قدس سرہ کے شمالی جانب واقع ہے لوگ اب بھی ان دو قبروں کے درمیان سے گذرا کرتے ہیں۔ ان دونوں حضرات کی تاریخ وصال معلوم نہ ہوسکی۔ (تحفۃ الطاہرین ص۳۷) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حاجیانی بی بی جب یہ نیک دل حج سے واپس آئیں تو انہوں نے اپنا نام بدل کر فاطمہ رکھ لیا، کہتے ہیں، حافظ قرآن تھیں ، حج کے ایام میں روزانہ ایک قرآن پڑھ کر اس کا ثواب حضور اکرم ﷺ کی روح کو پہنچاتی تھیں، صاحبہ کرامت خاتون تھیں، مکلی پر مزار ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت حاجی پیر سید حضر سید حاجی پیر علیہ الرحمۃ کاشمار کا ملین میں ہوتا ہے۔ اہل دل اور صاحب نظر درویش تھے آپ کے انتقال کے بعد بھی کئی کرامتیں آپ سے صادر ہوئی ہیں۔ مثلاً آپ کا قبر سے باہر آکر کسی مصیبت زدہ کی امداد کرنا بات کا جواب دینا وغیرہ آپ کے حالات زندگی نسب اور سلسلہ طریقت معلوم نہ ہوسکا۔ آپ کا مزار بھیم پورہ والی گلی نشتر روڈ پر کراچی میں واقع ہے۔ ہر سال گیا رہ ربیع الاول کو آپ کا شاندار عرس منایا جاتا ہے ۔ (مولف کو مزار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا، نیز مجاور صاحب نے یہ معلومات بہم پہنچائیں) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید