حضرت سلطان التارکین حضرت شیخ حمیدالدین قرشی الہنکاری علیہ الرحمۃ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا ابولظفر سید شریف قادری نوشاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ راقم سطور کے کر مفر ما مولوی حکیم محمد امر تسری مدظلہٗ نے آپ کے احوال میں ذیل کی معلومات فراہم کیں ہیں موصوف بانی سلسلۂ عالیہ نوشاہیہ حضرت شیخ الاسلام حاجی محمد نوشہ گنج بخش قادری رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد امجاد سے ہیں،اور موجود الوقت سجادہ نشین ہیں،ان کی پیدائش ۱۹؍شعبان ۱۳۲۵ھ مطابق ۲۸؍ستمبر ۱۹۰۷ھ کو بمقام ساہن پال شریف ضلع گجرات میں ہوئی،درس نظامی کی تکمیل والد ماجد حضرت مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ اور دادا جان حضرت مولانا حافظ سید محمد شاہ نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ سے کی،فن کتابت اور علم تفسیر کا فیض مولانا محمد حسین صاحب حنفی، ‘‘مبارک رقم’’ رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا،۔۔۔۔۔آپ فنانی العلم بزرگ ہیں،اس وقت تک دو سو۲۰۰ سے زائد رسائل وکتب تصنیف فرماچکے ہیں جو فن تاریخ،تصوف ،فقہ،حدیث، عملیات،۔۔۔
مزید
حضرت محمد کامل میاںعلیہ الرحمۃ ف ۱۲۳۹ھ میاں محمد کامل بن محمد جام بن سلیمان ، مخدوم میاں محمدصدیق گھڈواری شریف والے کے صحبت یافتہ تھے، شرح ملا جامی تک علوم ظاہریہ کے حصول کے بعد حضرت مخدوم کے فیض باطنی سے کندن بنے۔ حضرت مخدوم، میاں محمد کامل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں فرماتے تھے۔ ‘‘اے محمد کامل ، تو جگر گوشہ من ہستی کہ ہمہ فیض و فقر مرا فائزو حاوی مے باشی’’۔ حضرت مخدوم نے میاں صاحب کو کٹبار المعروف بہ گودہ میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کہ آپ کو اور آپ کی اولاد کو وہیں سر بلندی حاصل ہوگی۔ میاں صاحب کٹبار میں رہائش پذیر ہوگئے، گذر اوقات کے لیے کھیتی باڑی کرتے تھے، مسجد کی امامت بھی فرماتے تھے اپنے مرشد کی طرح شروع میں اخفا میں رہے۔۔۔
مزید
حضرت میر محمد احمد صدیق قاتل شاہ علیہ الرحمۃ ف۱۳۷۰ھ / ۱۹۵۰ء حضرت سید محمد احمد صدیق شاہ المعروف بہ قاتل شاہ علیہ الرحمۃ صاحب حال و قال بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ کے مزار پر جوکتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر آپ کااس طرح تعارف تحریر ہے۔ قطب الالیاء ، نائب ختم المرسلین شیخ الاسلام و المسلمین امیر الصادقین، سیف الکلام، ابو القاسم شاہ سید میر محمد احمد صدیقی المتخلص بہ قاتل لکھنؤی ثم الاجمیری قادری ابو العلائی شکوری رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ آپ کے مزار پر ایک مجاور نے یہ روایت کی ہے کہ آپ کے متعلق یہ مشہور ہے کہ آپ ریلوے میں گارڈ کی پوسٹ پر ملازم تھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ گاڑی کو جھنڈی دکھا کر گاڑی سے اتر جاتے اور کسی مسجد میں جاکر نماز پڑھتے پھر جب گاڑی اگل۔۔۔
مزید
حضرت محمود خلیفہ نظامانی علیہ الرحمۃ و ۱۱۸۹ھ/ ۱۷۷۴ء ف ۱۲۶۷ھ/۱۸۵۱ء آپ رئیس گھنور خان مبارکانی نظامانی کے فرزند تھے۔ آپ کی پیدائش کڑیو گھنور خان (تحصیل ٹنڈو محمد خان) میں ۱۱۸۹ھ/ ۱۷۷۴ء میں ہوئی ہے۔ ابتدائی تعلیم میاں عبدالکریم بلڑی والے سے حاصل کی۔ پھر آپ کے والد نے اپنی ہی بستی میں آپ کی مزید تعلیم کے واسطے حافظ عثمان درویش کو مقرر فرمایا۔ آپ خود فرماتے تھے کہ گلستان سعدی کی دو یاتین حکایات سے میں نے زیادہ نہیں پڑھیں۔ آپ کی طبیعت کا میلان شروع ہی سے درویشوں اور فقیروں کی طرف تھا۔ چوبیس سال کی عمر میں (۱۲۱۳ھ) حضرت سید پیر محمد راشد المعروف روضی وھنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دست مبارک پر بیعت فرماکر سلسلہ قادریہ میں داخل ہوئے۔ حضرت نے آپ کوخصوصی عنایات سے نوازا اور خرقہ خلافت۔۔۔
مزید