حضرت سید علی قوام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے صاحب کمال و حال تھے جذب و سکر میں مشہور تھے لیکن آپ کی طبیعت ایک حال پر نہ رہتی تھی کبھی خرقہ مشائخ پہنا کرتے کبھی سپاہیانہ لباس پہن لیتے تھے آپ سادات سوانہ سے تھے مگر خلافت شیخ بہاء الدین جونپوری قدس سرہ سے پائی تھی آپ کو مقبولیت خاص اور حالت مخصوص حاصل تھی فتوحات کے دروازے آپ پر کھلے تھے چار بیویاں تھیں فتوحات مریدوں سے کرتے تھے کہتے ہیں چالیس سال تک آپ نے کسی خادم یا ملازم کو نہ حکم دیا اور نہ کوئی چیز مانگی مگر آپ کا ہر کام آپ کی مرضی کے مطابق ہوتا رہا ایک رات اٹھے اور بیٹھے ہوئے تھے وہ خادم جوہررات آپ کے وضو کے لیے پانی لایا کرتا تھا بھول گیا آپ نے اندھیرے میں ہر طرف ہاتھ مارے مگر پانی کہیں نہ ملا پھر سو گئے چند لمحوں بعد پیاس لگی دوبارہ اٹھے پیاس کی شدت ہوئی موت قریب آتی نظر آئی مگر اس حالت میں بھی کسی کو آواز دے کر پانی نہ مانگا مرنا قبول ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حکیم عبد الماجد بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ مولانا شاہ عبد الماجد قادری بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری وموعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے، آپ بد ایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے، 4؍شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی، تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی، حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بد ایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بد ایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی، دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے۔۔۔۔ ۔۔۔
مزید