حضرت شیخ فتح بن شجرف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی کنیت ابو نصر تھی، مَرو کے رہنے والے تھے خراسان کے قدیم مشائخ سے تھے کہتے ہیں حالت نزع میں کچھ کہہ رہے تھے جب ہونٹوں سے کان لگائے گئے تو آواز آئی، اے اللہ میرا شوق تیری ذات تک بہت ہے مجھے جلدی اپنے پاس بلالے۔ وفات کے بعد آپ کو غسل دیا گیا تو پنڈلی پر لکھا دیکھا اَلفتح اللہآپ ۱۵شعبان ۲۷۳ھ کو فوت ہوئے۔ آپ کے جنازے میں تیس ہزار افراد شامل ہوئے۔ حضرت ابوالفتح شیخ نامدارسال تاریخ وصالش از خردچوں سفر در زید از دارالافناشدعیاں زاہد امام باصفا۲۷۱ولی اللہ کامل اہل دل(۲۷۱)۔ قبلہ کونین(۲۷۱) ۔ واقف مولا(۲۷۱) (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ علی کردی علیہ الرحمۃ آپ دانا دیوان میں گزرے ہیں۔ان سے طرح طرح کی کرامات،خرق عادات ظاہر ہوئی ہیں۔دمشق کے سبب لوگ ان کے مرید معتقد تھے۔ان پر حکم کیا کرتے تھے۔جس طرح مالک غلام پر کرتا ہے،وہ سب آپ کے حکم کو مانا کرتے تھے۔ایک دن دمشق کے بڑے آدمی سے کہا کہ درویشوں کے لیے دعوت و سماع کا فکر کرو۔اس شخص نے دعوت کی اور قوالوں کو بلایا،اور مشہور درویش کو بلایا۔جب یہ لوگ سب جمع ہوگئےتو شیخ علی کردی اس گھر میں تشریف لائے ۔وہاں پر شکر کے قالب دیکھے۔صاحب خانہ سے کہا کہ ان سب کو حوض میں ڈال دے۔سب کو حوض میں ڈال دیا،اور درویش شربت پیتے تھے۔آخر دن بعد ازاں کچھ کھایااور واپس آگئے۔شیخ علی کردی نے صاحب خانہ سے کہا کہ ان قالبوں کوحوض سے باہر نکال لو۔سب کو باہر نکال لیا وہ ویسے ہی ثابت تھے جیسےکہ پہلے تھے۔ان میں سے کوئی بھی گلا نہ تھا۔اس کے بعد صاحب ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ سلیمان ترکمانی مولہ علیہ الرحمۃ آپ دمشق میں رہتے تھے۔ایک پرانی سیلی عباپہنے رہتے اور اپنی جگہ سے بہت کم اٹھتے تھے۔باتیں بہت کرتے تھے۔بعض علماء ظاہر باوجود اپنی بزرگی کے ان کے سامنے نیاز مندی کیا کرتے تھے اور بیٹھا کرتے تھے"کہتے ہیں کہ وہ رمضان میں کچھ کھایا کرتے اور نماز نہ پڑھتے تھے"لیکن ان کو غائبانہ کشف و اطلاع ہوتی تھی۔اس کی بابت خبریں دیا کرتے۔امام یافعی ؒ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ بات اپنے حال کے چھپانے اور دھوکہ دینے سے ہو۔ایسے وقت وہ نماز پڑھتے ہوں کہ کسی کو اس پر اطلاع نہ ہو"اور جو کچھ منہ میں رکھا اور چبایا ہو۔اس کے گلے میں نہ اترا ہو"اور ایسی باتیں اس گروہ کی بہت دیکھی گئی ہیں۔جیسا کہ قضیب البیان موصلی شیخ ریحان وغیرہ سے منقول ہے۔شیخ سلیمان ۷۱۴ھ میں فوت ہوئے۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت ابو عبد اللہ المعروف بیابن المعروف اندلسی علیہ الرحمۃ آپ مکہ کے مجاور تھے اور رات دن ان کا وظیفہ یہ تھا کہ پچاس دفعہ ساتوں طواف کرتے۔۷۰۷ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔مکہ کے بادشاہ نے اپنے نہایت اعتقاد و خلوص سے ان کے صندوق کو اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔امام یافعی کہتے ہیں کہ شیخ ابو محمد بکری مغربیؒ کا ایک مرید کہتا ہے کہ جب شیخ عبد اللہ فوت ہوئے تو شیخ نجم الدین اصفہانی نے فرمایا۔مات الفقر من الحجاز یعنی عرب سے فقر مرگیا(جاتا رہا) مجھ سے کہا کہ شیخ ابو محمد کا ارادہ ہوا کہ نبیﷺ کی زیارت کرے۔شیخ ابو عبداللہ مطرف کے دواع کے لیے آئے۔شیخ ابو عبد اللہ نے فرمایا"میں نے یوں سنا ہےکہ فلاں منزل پر پانی نہیں ہے۔تم کو سختی تو بہت ہوگی"لیکن آخر بارش برسے گی اور پانی مل جائے گا۔ہم چار شخص تھے۔جب اس منزل میں پہنچے تو واقعی جیسے شیخ نے فرمایا تھا۔وہاں پر پانی نہ تھا۔ہم ر۔۔۔
مزید