اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیّدنا عرفطہ ابن نہیک رضی اللہ عنہ

   تمیمی ہیں یہ صحابی تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہےاورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھ کرکہاہے کہ یزید بن عبداللہ نے صفوان بن امیہ سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھے کہ عرفطہ بن نہیک تمیمی کھڑے ہوئے اورکہایارسول اللہ میں اورمیرے گھروالے شکارسے رزق حاصل کرتے ہیں اوراس میں ہمارے لیے حصہ وبرکت ہے اور وہ اللہ عزوجل کے ذکراورنمازجماعت سے بازرکھنے والاہے اورہم کو اسی کی طرف حاجت ہے کیا پس آپ اس کو حلال کہتےہیں یاحرام آپ نے فرمایاحلال کہتاہوں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیاہے اورپوری حدیث بیان کی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   اسدی ہیں ان کی کنیت ابومکعت تھی ان کا تذکرہ ابومکعت اورابومصعب میں بیان کیاگیاہے پس چاہیے کہ وہاں ان کا حال دیکھاجائے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ ابن حباب رضی اللہ عنہ

   بن حبیب اوربعض نے کہاہے کہ یہ ابن جبیر ازدی ہیں بنی امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے واقعۂ طائف میں شہید ہوئے انھوں نے اولادچھوڑی تھی۔ان کی کوئی  روایت معروف نہیں ان کا ابن اسحاق نے بھی ذکرکیاہے کہ ابن حباب ہیں اورابن ہشام نے کہاہے کہ یہ ابن حباب کہےجاتےتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابن مندہ نے بیان کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفطہ انصاری رضی اللہ عنہ

   ہیں۔کلبی نے ابوصالح سےانھوں نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتےتھےکہ اللہ  برترکاقوللاحال نصیب ترک ابوالدان والاقربون الایہ(اس کی شان نزول یہ ہے کہ)اوس بن ثابت نے وفات پائی اورتین لڑکیاں چھوڑیں اورایک بی بی جو ام کجہ کے نام سے مشہورتھیں پس دوشخص اوس کے چچاکی اولاد سے کھڑے ہوئے جن کا نام قتادہ اورعرفطہ تھااور دونوں نے اوس کامال لے لیا۔توام کجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئیں اورعرض کیا یارسول اللہ اوس بن ثابت نے وفات پائی اورمیرےپاس تین لڑکیاں چھوڑیں اورمیرے پاس کچھ نہیں ہے کہ ان کی معاش میں خرچ کروں حالاں کہ انھوں نے اچھامال چھوڑاہے وہ ان کے چچا کے بیٹے قتادہ اورعرفطہ لے گئےاورانھوں نے لڑکیوں کوکچھ بھی نہیں دیااوروہ لڑکیاں میرے پاس ہیں اوروہ دونوں ان لڑکیوں کو کچھ کھانے پینے کو نہیں دیتے اورمیرے پاس ایسانہیں کہ ان کو کفایت کرے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ا۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن ابی یزید رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ جعفرمستغفری نے ان کوصحابہ میں بیان کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ کہاجاتاہے کہ ان کو شرف صحبت حاصل تھامگرکوئی حدیث ان کی نہیں بیان کی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن ہریمہ رضی اللہ عنہ

   بن عبدالعزی بن زبیربن ثعلبہ بن عمروبارق کے بھائی تھے اوربارق کا نام سعد بن عدی بن حارثہ بن عمرومزیقی یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے موصل میں لشکرجمع کیاتھا۔اوراس کے حاکم ہوئے اور موصل کی نسبت ان کی بہت خبریں ہیں یہ وہی شخص ہیں کہ ان کے ذریعہ سے عمربن خطاب نے عتبہ بن غزوان کو مدددی تھی جب ان کوبصرہ کاحاکم کیاتھا۔اورابن غزوان کے پاس لکھ بھیجاتھا کہ میں عرفجہ بن ہرثمہ سے تمھاری مددکرتاہوں کیوں کہ وہ دشمن سے بڑے لڑنے والے اورمکرکرنے والے ہیں۔جب وہ تمھارے پاس آئیں تو ان سے (امورجنگ میں)مشورہ لیتے رہنا ہشام کلبی نے ان کواس نسب میں ذکرکیاہےاوران کو بنی عمروسے جوبارق کابھائی تھاشمارکیاہےاورکہاہے کہ ان کا شمار بارق میں ہے اورطبرانی میں ذکرکیاہے کہ یہ وہی شخص ہیں کہ جنھیں حضرت عمرنے عتبہ بن غزوان کی امدادکے واسطے بھیجاتھااورابوعمرنےان کوعرفجہ بن خزیمہ کہاہے پس اس میں بصحیف ہوگئی ہے اور ہم اس ۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن شریح رضی اللہ عنہ

   اشجعی ہیں بعض نے کہاکندی ہیں اوربعض نے ان کے والد کانام صریح اوربعض نے ضریح اوربعض نے طریح اوربعض نے شریک اوربعض نے ذریح بیان کیاہے اوربعض لوگوں نے ان کے علاوہ کہاہےاوران میں سے بعض لوگوں نے ان کواسلمی کہاہے یہ کوفہ میں رہتے تھے ان سے قطبہ بن مالک اورزیادبن علافہ اورشبیعی وغیرہم نے روایت کی ہے کہ زیاد بن علاقہ نے قطبہ بن مالک سے انھوں نے عرفجہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ فجر کی نمازپڑھی پھرفرمایاکہ آج کی شب(میں نے خواب میں دیکھاکہ)میرے اصحاب وزن کیے گئے چنانچہ ابوبکروزن کیےگئے پھرعمروزن کیے گئےپھرعثمان وزن کیے گئے یہ سب لوگ بھاری اترے۔ ہم کویحییٰ بن ابی الرجاء نے اپنی سند کوابوبکریعنی احمدابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازۃًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے زیاد ابن علافہ سے انھوں نے عرفجہ بن شریک سے نقل کرکے بیان ک۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن خزیمہ رضی اللہ عنہ

   یہ وہ شخص ہیں کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان سے ان کے حق میں کہا تھااوران کومدد کے لیےبھیجاتھا کہ ان سے مشورہ لیاکرنا کیوں کہ وہ دشمن کو فریب دیے والے اور جہاد کرنے والے ہیں ۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوعمرنے ان کو اسی طرح ذکرکیاہےکہ عرفجہ ابن خزیمہ ہیں میں نے اس کو بہت سے ان صحیح نسخوں میں دیکھاہے جو کہ نہایت معتبرہیں کہ خزیمہ غلط ہے بلکہ وہ ہرثمہ ہیں اوریہ وہی شخص ہیں جن کو عتبہ بن غزوان کی مدد کے لیے حضرت عمرنے بھیجاتھااورابوبکرصدیق نے بھی عمان میں اس سے جیفربن جلندی کومدد دی تھی (یہ اس وقت)کہ جب وہاں کے لوگ لفیط بن مالک ازدی صاحب تاج کے ساتھ مرتد ہوگئے تھے اورعرفجہ کے ساتھ حذیفہ بن محصن علقبانی اورعکرمہ بن ابی جہل تھے پس انھوں نے مرتدوں پر فتح پائی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن اسعد رضی اللہ عنہ

  بن کرب تمیمی ہیں اس کو ابن مندہ اورابونعیم نے کہاہے اورابوعمرنے کہاہے کہ عرفجہ بن اسعدبن صفوان تمیمی ہیں یہ بصری تھےیہ وہی شخص ہیں کہ ایام جاہلیت میں واقعہ کلاب کے دن ان کی ناک کوصدمہ پہنچاتھاہم کوابومنصور بن مکارم مودب نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوالقاسم یعنی نصربن صفان نے اپنی سند کو معافی بن عمران تک پہنچاکرخبردی انھوں نے ابوالاشہب سے انھوں نے عبدالرحمن بن طرفہ بن عرفجہ سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے ان کے دادانے جاہلیت کازمانہ پایاتھااوران کے داداکی ناک واقعہ کلاب میں کٹ گئی تھی توانھوں نے چاندی کی ناک لگالی تھی وہ بدبوکرنے لگی(انھوں نےکہا)مجھ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ سونے کی ناک لگالوں اوراس حدیث کوہاشم بن بریداورابوسعیدصنعانی نے ابوالاشہب سے اپنی سند کے ساتھ نقل کرکے اس کے مثل روایت کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرس ابن قیس رضی اللہ عنہ

   بن سعیدبن ارقم بن نعمان کندی ہیں ان کا صحابہ میں ذکرکیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے اورکہاہے کہ میں ان کو نہیں جانتاہوں بعض لوگوں نے کہاہے کہ عبداللہ بن زبیر کے فتنہ میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید