اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیّدنا عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ

  امیرالمومنین صاحبُ الِحلم والحَیا ذوالنورین  بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف قریشی اموی ہیں ان کانسب اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب عبدمناف میں مل جاتاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابوعمروبیان کی ہے یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے ان کی کنیت ان کےبیٹے عبداللہ کے نام پررکھی گئی تھی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تھیں پھران کی کنیت ابوعمروہوگئی حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس عبداللہ بن عامرکی پھوپھی زاد بہن تھیں اور اروی کی والدہ بیضابنت عبدالمطلب تھیں جورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی تھیں ذوالنورین انھیں کالقب ہے امیرالمومنین تھے یہ اول(زمانہ)اسلام میں اسلام لائے تھے ان  کوحضرت ابوبکر نے اسلام کی طرف بلایاتھا پس اسلام لے آئےیہ اسلام لانے والوں میں چوتھے شخص ہیں ہم کو ابوجعفرنے اپنی سندکویون۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن عثمان رضی اللہ عنہ

   بن شرید بن سوید بن ہرمی بن عامربن مخزوم قریشی مخزومی ہیں ۔ان کی والدہ صفیہ بنت ربیعہ بن عبدشمس ہمشیرہ عتبہ بن ربیعہ اورشیبہ بن ربیعہ تھیں۔یہ مہاجرین حبشہ میں سے ہیں غزوۂ بدر میں شریک تھے اوراحد میں شہیدہوئے یہ شماس کےنام سے مشہورتھے ۔اوراسی طرح ان کو ابن اسحاق نے ذکرکرکے کہاہے کہ شماس بن عثمان ہیں ہشام بن کلبی نے کہاہے کہ شماس بن عثمان کانام عثمان ہے ان کا نام شماس اس وجہ سے مشہورہوگیا کہ ایام جاہلیت میں نصرانیوں کے بعض سردار مکے میں آئے تھے لوگ ان کی خوبصورتی کودیکھ کر تعجب کرنے لگے توعتبہ بن ربیعہ نے جوان کے ماموں تھےکہا(یہ بات کیاتعجب خیز ہے)میں تمھارے پاس ایسے شماس (یعنی آفتاب تاباں)کو لاؤں جوان سے بھی زیادہ خوبصورت ہواوراپنے بھانجے عثمان بن عثمان کولائے اسی دن سے ان کا نام شماس ہوگیااوراسی نام سے پکارے جاتےتھے ہشام کے قول کے مانند زبیرنے بھی کہاہے اورزہری تک اس کا نسب ۔۔۔

مزید

سیّدنا عکراش ابن ذویب رضی اللہ عنہ

   تمیمی منقری۔ابن مندہ نے ایساہی کہاہے اورابونعیم اورابوعمرنے کہاہے کہ عکراش بن ذویب حرقوس بن جعدہ بن عمروبن نزال بن مرہ بن عبیدنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنی قوم کی زکوۃ لے کرآئے تھے پورانسب انہوں نے بھی ذکرنہیں کیاکیوں کہ عبیدجوان کے نسب میں آخری نام ہے بیٹے تھے مقاعس کے مقاعس کانام حارث بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناہ بن تمیم۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ(زکوۃ کے اونٹوں پر)داغ کردیاجائے۔ ہمیں اسمعیل بن عبدوغیرہ نے اپنی سند کوابوعیسیٰ تک پہنچاکرخبردی ہے وہ کہتے تھے ہم سےمحمد بن بشارنےبیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے علاء بن عبدالملک بن ابی سعد یعنی ابوالہدیل نے بیان کیاوہ کہتے تھےمجھ سے عبیداللہ بن عکراش بن ذویب نے اپنےوالدعکراش سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےمجھے بنی مرہ بن عبیدنے اپنے مال کی زکوۃ دےکررسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا پس میں مدینہ پہنچ۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاف ابن وداعہ رضی اللہ عنہ

   ہلالی۔ہمیں منصوربن ابی الحسن بن ابی عبداللہ نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن علی بن مثنی سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بقیہ بن ولیدنے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سےانھوں نے غضیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بشرمازنی سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ عکاف وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے۔ان سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اے عکاف تمھاری بی بی ہے انھوں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے پوچھاکو لونڈی ہےانھوں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے پوچھاکہ تم تندرست اورمالدارہوانھوں نے عرض کیاہاں خداکاشکرہےآپ نے فرمایاتوتم شیطان کے بھائیوں میں سے ہویاتوتم رہبان نصاری سے ہوجاؤ کیوں کہ تم ان کے مثل ہو اوراگرہم میں رہناچاہتےہوتوجوکچھ ہم کررہے ہیں وہی کرونکاح ہماری سنت ہےتم بدترلوگ وہی ہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاف ابن وداعہ رضی اللہ عنہ

   ہلالی۔ہمیں منصوربن ابی الحسن بن ابی عبداللہ نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن علی بن مثنی سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بقیہ بن ولیدنے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سےانھوں نے غضیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بشرمازنی سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ عکاف وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے۔ان سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اے عکاف تمھاری بی بی ہے انھوں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے پوچھاکو لونڈی ہےانھوں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے پوچھاکہ تم تندرست اورمالدارہوانھوں نے عرض کیاہاں خداکاشکرہےآپ نے فرمایاتوتم شیطان کے بھائیوں میں سے ہویاتوتم رہبان نصاری سے ہوجاؤ کیوں کہ تم ان کے مثل ہو اوراگرہم میں رہناچاہتےہوتوجوکچھ ہم کررہے ہیں وہی کرونکاح ہماری سنت ہےتم بدترلوگ وہی ہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاشہ ابن محصن رضی اللہ عنہ

   بن حرثان بن قیس بن مرہ بن کثیربن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ اسدی۔ بنی عبدشمس کے حلیف تھے۔کنیت ان کی ابومحصن ہے۔سرداران وبزرگان صحابہ میں سے تھے بدر میں شریک تھے اوراس میں ان سے کارنمایاں ظاہرہوئے اس دن ان کے ہاتھ میں ایک تلوار ٹوٹ گئی رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوایک لکڑی دی تھی وہ اسی وقت ان کے ہاتھ میں تلوار ہوگئی نہایت تیزباڑھ دار اورصاف لوہے کی  اسی سے یہ لڑےیہاں تک کہ اللہ نے فتح عنایت کی۔پھربرابر اس تلوارکولے کررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام مشاہد میں شریک ہوئےیہاں  تک  کہ واقعۂ روت میں شہیدہوئےاوریہ تلوار اس وقت بھی ان کےپاس تھی اس تلوار کاعون تھا۔احد میں اورخندق میں اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے ان کو رسول خدا صلی اللہ  علیہ وسلم نےبشارت دی تھی کہ تم جنت میں بغیرحساب کے داخل ہوگے۔قتال اہل روت میں۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاشہ غنوی رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا تذکرہ ابن شاہین نے صحابہ میں کیاہےاوراپنی سندکے ساتھ حفص بن میسرہ سے انھوں نے زید بن اسلم سے انھوں نے عکاشہ غنوی سے روایت کی ہے کہ ان کی ایک لونڈی تھی جو ان کی بکریاں چرایاکرتی تھی اس سے ایک بکری کھوگئی توانھوں نے اس کےمنہ پرایک طمانچہ ماراپھر اپنی یہ  حرکت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی اورعرض کیا کہ اگرمیں جانتا کہ یہ مومن ہے تو یقیناًمیں اس کوآزاد کردیتا پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کوبلوایااور اس سے پوچھا کہ تم مجھے جانتی ہے اس نے کہاہاں آپ خداکے رسول ہیں آپ نے پوچھاپھراللہ (کوجانتی ہے)کہاں ہے اس نے کہا آسمان۱؎ میں پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (عکاشہ سے)فرمایااس کوآزاد کردو یہ مومن ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے مگرصحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ بنی مقرن کاہے(نہ عکاشہ کا)واللہ اعلم۔ ۱؎ ہرشخص اپنی سمجھ کے موافق مکلف ہوتاہے وہ عورت اس سے زیادہ نہ سمجھ س۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ

    ابن ثور بن اصغرغوثی۔رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقام سکاسک اورسکون اورقبیلۂ بن معاویہ میں جوکندہ کی ایک شاخ ہے عامل تھے۔ان کوبسیف نے اپنی کتاب میں ذکرکیاہے۔ان کاتذکرہ  ابوعمرنےلکھاہےاورکہاہے کہ میں ان کاحال اس کے سوااورکچھ نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ

    ابن ثور بن اصغرغوثی۔رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقام سکاسک اورسکون اورقبیلۂ بن معاویہ میں جوکندہ کی ایک شاخ ہے عامل تھے۔ان کوبسیف نے اپنی کتاب میں ذکرکیاہے۔ان کاتذکرہ  ابوعمرنےلکھاہےاورکہاہے کہ میں ان کاحال اس کے سوااورکچھ نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عک رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ذوحیوان تھی۔ان کی ذکرردیف ذال میں ہوچکاہےان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید