ہفتہ , 29 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 16 May,2026

سیّدنا عمرو ابن سعید رضی اللہ عنہ

بن ازعربن زیدبن عطاف اوسی انصاری جعفرنےان کا تذکرہ شرکائے بدرمیں کیاہے ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ سے اس میں غلطی ہوگئی ہے کہ انھوں نے ان کے والد کانام سعیدبتایاحالاں کہ ان کانام معبد ہے اورانھوں نے خود بھی عمروبن اور عمیربن معبدکے نام میں ان کاتذکرہ لکھاہے اورہم نے بھی ان دونوں ناموں میں ان کا ذکرکیاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن شعواء رضی اللہ عنہ

   بعض لوگ کہتے ہیں شعواء یافعی تھے۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا شمارصحابہ میں ہے ان سے سلیمان بن زیاد اورابومعشرحمیری نے روایت کی ہے ابن امیہ نے عیاش بن عباس قتبانی سے انھوں نے ابومعشرحمیری سے انھوں نے عمروبن شعواء یافعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات آدمیوں پرمیں نے لعنت کی ہےاور ہرنبی کی دعامقبول ہوتی ہے جن سات آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہےوہ یہ لوگ ہیں۔کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا اورتقدیر الٰہی کی تکذیب کرنے والااوراللہ کی حرام کی ہوئی چیزکوحلال کرنے والااورمیری عترت کی بےحرمتی کوجائزجاننے والا اور میری سنت کو ترک کرنےوالااور مال غنیمت کواپنے لیے مخصوص کرنے والااوراپنی سلطنت کے غرورمیں اس شخص کوعزت دینے والاجسے خدانے ذلیل کیااوراس کو ذلت دینے والاجسے خدانے عزت دی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن شعواء رضی اللہ عنہ

   بعض لوگ کہتے ہیں شعواء یافعی تھے۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا شمارصحابہ میں ہے ان سے سلیمان بن زیاد اورابومعشرحمیری نے روایت کی ہے ابن امیہ نے عیاش بن عباس قتبانی سے انھوں نے ابومعشرحمیری سے انھوں نے عمروبن شعواء یافعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات آدمیوں پرمیں نے لعنت کی ہےاور ہرنبی کی دعامقبول ہوتی ہے جن سات آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہےوہ یہ لوگ ہیں۔کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا اورتقدیر الٰہی کی تکذیب کرنے والااوراللہ کی حرام کی ہوئی چیزکوحلال کرنے والااورمیری عترت کی بےحرمتی کوجائزجاننے والا اور میری سنت کو ترک کرنےوالااور مال غنیمت کواپنے لیے مخصوص کرنے والااوراپنی سلطنت کے غرورمیں اس شخص کوعزت دینے والاجسے خدانے ذلیل کیااوراس کو ذلت دینے والاجسے خدانے عزت دی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعدی رضی اللہ عنہ

     قبیلۂ بنی قریظہ سے ہیں بنی قریظہ کے قلعہ سے اسی شب میں اترےتھے جس کی صبح کو قلعہ فتح ہواتھاشب کو یہ مسجد رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم میں رہے مگرصبح کو نہ معلوم ہواکہ کہاں چلے گئے پھراس  وقت سے آج تک ان کا پتہ نہ ملا ابن شاہین نے اس کو بیان کیاہے ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعد رضی اللہ عنہ

   کنیت ان کی ابوکبشہ ہے۔انماری یحییٰ بن یونس نے نام ان کا اسی طرح بیان کیاہے اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام عمروبن سعیدہے ۔یہی زیادہ مشہورہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سعد رضی اللہ عنہ

   اوربعض لوگ کہتےہیں کہ یہ سعدالخیرکے بیٹے ہیں نام ان کا عامر بن مسعود تھا۔جعفرنے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمروابن سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ

  انصاری اشہلی۔یہ انہیں سعد کے بیٹے ہیں جن کی وفات سے رحمن کا عرش ہل گیا تھاکنیت ان کی ابوواقد تھی بیعتہ الرضوان میں شریک تھے۔ان سے ان کے بیٹے واقد نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قباپہنی جس میں ریشمی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں لوگ اس قباکوتعجب کی نظرسے دیکھنے لگےتو آپ نے فرمایا کہ جنت میں سعد کے رومال اس سے بہترہیں۔ان کی اولاد میں سے محمد بن حصین بن عبدالرحمن بن عمروبن سعد بن معاذ ہیں جو علمائے انصارمیں سے ایک شخص ہیں محمدبن عبداللہ بن حسن کے ساتھ یہ بھی تھے اور انصارکاجھنڈاانھیں کے ہاتھ میں تھا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔(اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ

   بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبعہ بن حارث بن فہر قریشی فہری ۔کنیت ا ن کی ابوسعید ہے یہ اور ان کے بھائی وہب بن ابی سرح مہاجرین حبش سے تھےاوردونوں غزوہ بدرمیں شریک تھے یہ ابن عقبہ اورابن اسحاق اور کلبی کاقول ہے اورواقدی اورابومعشر نے کہاہے کہ ان کا نام معمرہےاوران دونوں نے بیان کیاہے کہ یہ بدراوراحداورخندق اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ہمیں ابوجعفرنے اپنی سندکے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں روایت کیاہے کہ بی حارث بن فہرکے خاندان سے عمروبن ابی سرح بن ربیعہ تھے ان کی کوئی اولاد نہ تھی نیزاس سندکے ساتھ ابن اسحاق سے مہاجرین حبش کے ناموں میں بھی عمرو بن ابی سرح بھی تھے۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی وفات مدینہ میں بعہد خلافت حضرت عثمان ۳۰ھ؁ ہجری میں ہوئی طبری نے اس کوبیان کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ

   بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبعہ بن حارث بن فہر قریشی فہری ۔کنیت ا ن کی ابوسعید ہے یہ اور ان کے بھائی وہب بن ابی سرح مہاجرین حبش سے تھےاوردونوں غزوہ بدرمیں شریک تھے یہ ابن عقبہ اورابن اسحاق اور کلبی کاقول ہے اورواقدی اورابومعشر نے کہاہے کہ ان کا نام معمرہےاوران دونوں نے بیان کیاہے کہ یہ بدراوراحداورخندق اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ہمیں ابوجعفرنے اپنی سندکے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں روایت کیاہے کہ بی حارث بن فہرکے خاندان سے عمروبن ابی سرح بن ربیعہ تھے ان کی کوئی اولاد نہ تھی نیزاس سندکے ساتھ ابن اسحاق سے مہاجرین حبش کے ناموں میں بھی عمرو بن ابی سرح بھی تھے۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی وفات مدینہ میں بعہد خلافت حضرت عثمان ۳۰ھ؁ ہجری میں ہوئی طبری نے اس کوبیان کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سراقہ رضی اللہ عنہ

   ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ یہ دوسرے شخص ہیں۔جعفر نےبھی ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ حضرت عمربن خطاب نےوادی القری میں ان کو حصہ دیاتھا۔جعفرنے ان دونوں کے درمیان فرق پیداکیاہے۔اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ اسحاق سے اس کو روایت کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ حافظ ابوعبداللہ نے عمروبن سراقہ انصاری کا ذکرکیاہے شاید وہ انہیں  دونوں میں سے ایک ہیں۔میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ کا یہ کہنا کہ شاید وہ انہیں دونوں میں سے ایک ہیں تعجب انگیزبات ہے کیوں کہ پہلے عمروبن سراقہ کو عدوی بیان کیاگیاہے پس لامحالہ یہ عمرو بن سراقہ انصاری ہوں گےواللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید