ابن اسحاق نے ان کی ولدیت مرہ لکھی ہے ابوموسیٰ نے اسی طرح اس کی تخریج کی ہے اور جو لوگ ان کا نام مالک بن مرارہ بتاتے ہیں۔ ان سے اس نام کے پڑھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدۃ الانصاری الخزرجی الساعدی: یہ صحابی ابواسید الساعدی کے چچا زاد بھائی تھے۔ بدر اور احد کے غزوات میں شامل رہے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
خارفی، الیامی، ارحبی (حسب روایت مختلفہ) ابن الکلبی کے قول کے مطابق ان کا نام نمط بن قیس بن مالک بن سعد بن مالک بن لائی بن سلمان بن معاویہ بن سفیان بن ارحب اور اس کا نام مرہ بن دعام بن مالک بن معاویہ بن صعب بن دومان بن بکیل بن جشم بن حیوان بن نوف بن ہمدان ہے اور ان کی کنیت ابو ثور ہے۔ یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک فرمان لکھ کر دیا جس میں انھیں جاگیر دی گئی تھی۔ ان کی حدیث کو غریب احادیث جمع کرنے والوں اور اہل الاخبار نے اس کی غرابت کی وجہ سے مفصلاًبیان کیا ہے لیکن محدثین کی حدیث مختصر ہے۔ ابواسحاق ہمدانی سے مروی ہے کہ ہمدان کا وفد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جن میں ابوثور مالک بن نمط بھی تھے (ان کے لمبے لمبے بال تھے) ان کے علاوہ مالک بن الیفع۔ صمام بن مالک السلمانی اور عمیرہ بن مالک الخارفی بھی تھے۔ ان۔۔۔
مزید
بن عوف الاشجعی: ایک روایت میں ابو عوف ہے۔ ابوموسیٰ نے (کتابۃً) ہمیں بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی زبانی سنا کہ ہمیں سلیمان بن ابراہیم نے۔ اسے علی بن محمد الفقیہ نے، اسے احمد بن محمد بن ابراہیم نے، اسے محمد بن عبدالوہاب نے، اسے آدم بن ابو ایاس نے اسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اسے عبداللہ بن ولید نے، محمد بن اسحاق سے جو آلِ قیس بن مخرمہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ بیان کیا کہ مالک الاشجعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا بیٹا عوف قید میں ہے۔‘‘ حضور نے فرمایا؛ اسے کہلا بھیجو کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرے۔ دشمنوں نے انہیں چمڑے میں جکڑ رکھا تھا اس ورد سے وہ ان کے جسم سے علیحدہ ہوکر گر پڑا، ان کی ایک اونٹی پاس کھڑی تھی، اس پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب ان لوگوں کے گھر کے پاس سے (جنھوں نے انھیں قید کیا ہوا ۔۔۔
مزید
بن عوف الاشجعی: ایک روایت میں ابو عوف ہے۔ ابوموسیٰ نے (کتابۃً) ہمیں بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی زبانی سنا کہ ہمیں سلیمان بن ابراہیم نے۔ اسے علی بن محمد الفقیہ نے، اسے احمد بن محمد بن ابراہیم نے، اسے محمد بن عبدالوہاب نے، اسے آدم بن ابو ایاس نے اسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اسے عبداللہ بن ولید نے، محمد بن اسحاق سے جو آلِ قیس بن مخرمہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ بیان کیا کہ مالک الاشجعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا بیٹا عوف قید میں ہے۔‘‘ حضور نے فرمایا؛ اسے کہلا بھیجو کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرے۔ دشمنوں نے انہیں چمڑے میں جکڑ رکھا تھا اس ورد سے وہ ان کے جسم سے علیحدہ ہوکر گر پڑا، ان کی ایک اونٹی پاس کھڑی تھی، اس پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب ان لوگوں کے گھر کے پاس سے (جنھوں نے انھیں قید کیا ہوا ۔۔۔
مزید
بن عرفجہ بن کعب بن النحاط بن کعب بن حارثہ بن غنم بن السلم بن امرء القیس بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی: ابو عمر نے ان کا سلسلۂ نسب اسی طرح لکھا ہے، لیکن بقولِ ابن الکلبی ان کا سلسلۂ نسب مالک بن قدامہ بن الحارث بن مالک بن کعب بن النحاط ہے۔ یعنی ابن الکلبی نے عرفجہ کی جگہ الحارث کا ذکر کرکے، مالک بن کعب کا اضافہ کردیا ہے۔اور باقی وہی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ ابن اسحاق اور ابن کلبی کی روایت ہے کہ یہ صحابی غزوہ بدر میں شریک تھے اور ان کے بھائی المنذر بھی۔ بنو سلم کی نسل ہی ختم ہوگئی ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے، لیکن ابن مندہ نے غنم بن سالم لکھا ہے، حالانکہ صحیح لفظ مسلم بہ کسرۂ اول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن صحیح روایت کعب بن مالک ہے۔ عبدالوہاب بن سجدہ نے ولید بن مسلم سے، اُس نے مرزوق بن ابی ہذیل سے، اس نے زہری سے اس نے عبدالرحمان بن کعب سے۔ اُس نے عبداللہ بن کعب سے، اس نے اپنے چچا مالک بن کعب سے روایت بیان کی کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب کے تعاقب سے واپس مدینہ میں تشریف لے آئےتو آپ نے ذرہ اُتاری، خوشبو لگائی اور غسل فرمایا۔ یہ روایت اسی طریقے سے ابن بجدہ نے ولید سے بیان کی ہے۔ اس نے صحابی کا نام مالک بن کعب بتایا ہے۔ حالانکہ صحیح نام کعب بن مالک ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایک روایت میں قحطم آیا ہے، جو ابو العشراء دارمی کے والد تھے۔ ابو العشراء اور اُن کے والد کے ناموں کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام بخاری ان کا نام اسامہ بتاتے ہیں اور والد کا نام مالک بن قحطم۔ یہ روایت امام احمد بن حنبل کی ہے۔ ایک روایت کی رو سے ان ک نام عطار دبن بلر قال تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام یسار ن بلز بن مسعود بن خولی بن حرملہ بن قتادہ تھا (جو بنو مولہ بن عبداللہ بن فقیم بن دلرم سے تھا) جو بصرہ میں رہتا تھا (یہ ساری روایت ابوالعشراء کے بارے میں امام بخاری سے منقول ہے)۔ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے لکھا ہے کہ ابوالعشراء کا نام اسامہ بن مالک تھا۔ ابو عمر کا قول ہے کہ ابوالعشراء کا نام بکر بن قہطم تھا۔ اور ایک روایت میں عطاء بن برز آیا ہے۔ (یہ فتحہ را و سکونِ را) یہ شخص بنو دلرم بن مالک بن زید مناہ بن تمیم سے تھا (یہ کلام ابو عمر کا ہے) امام بخاری ا۔۔۔
مزید
ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن صحیح روایت کعب بن مالک ہے۔ عبدالوہاب بن سجدہ نے ولید بن مسلم سے، اُس نے مرزوق بن ابی ہذیل سے، اس نے زہری سے اس نے عبدالرحمان بن کعب سے۔ اُس نے عبداللہ بن کعب سے، اس نے اپنے چچا مالک بن کعب سے روایت بیان کی کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب کے تعاقب سے واپس مدینہ میں تشریف لے آئےتو آپ نے ذرہ اُتاری، خوشبو لگائی اور غسل فرمایا۔ یہ روایت اسی طریقے سے ابن بجدہ نے ولید سے بیان کی ہے۔ اس نے صحابی کا نام مالک بن کعب بتایا ہے۔ حالانکہ صحیح نام کعب بن مالک ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایک روایت میں ان کا نام ابن مرہ اور دوسری میں ابن فزارہ ہے، لیکن صحیح ابن مرہ ہے۔ حمید بن عبدالرحمان نے ابن مسعود سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہاں مالک بن مرارہ بیٹھے ہوئے تھے اور عطاء بن میسرہ نے مالک بن مرارہ سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بہشت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں رائی کے برابر بھی غرور ہوگا اور اسی طرح وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا‘‘۔ اس کی تخریج تینوں نے کی ہے۔ ابو عمر لکھتا ہے کہ مالک بن مرارہ کا شمار صحابہ میں نہیں ہوتا۔ عبدالغنی بن سعید کی رائے ہے کہ مالک بن مرارہ کو حضور اکرم کی صحبت میسر آئی۔ ان کا سلسلہ نسب رہا بن یزید بن حرب بن علہ بن خالد بن مالک بن ادو سے ملتا ہے، جو بنو مذحج کی ایک شاخ تھی۔ ابن الکلبی لکھتے ہیں کہ حضور ۔۔۔
مزید