منگل , 02 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 19 May,2026

سیدنا محمد بن محمود رضی اللہ عنہ

عبدان بن مروزی نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے نیز انھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرفِ سماع حاص ہوا اور ابو سعید الاشح نے ابو خالد سے اُنھوں نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے محمد بن محمود سے سُنا کہ رسول کریم نے ایک اندھے کو وضو کرتے دیکھا جب وہ اپنے ہاتھ اور مُنہ دھو چکا تو آپ نے اسے فرمایا کہ پاؤں کے تلووں کو بھی اچھی طرح دھو چنانچہ اس نے تعمیل ارشاد میں پاؤں کو چھی طرح دھویا۔ عبدان کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بن ابی امّیہ اور ابو موسیٰ نے بتایا کہ ہمیں ابن نمیر نے انھوں نے یحییٰ سے اسی طرح سُنا ابنِ ابی حاتم کہتے ہیں کہ محمد بن محمود بن عبد اللہ بن مسلمہ نے میرے بھائی محمد بن مسلمہ سے اُنھوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کی اور یحییٰ بن سعید نے محمد بن محمود سے روایت کی۔ ابو موسیٰ نے تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد ابو مہند المزنی رضی اللہ عنہ

مطین نے الوحدان میں ان کا ذکر کیا ہے۔ نصر بن مزاحم نے عمر الاعراج المزنی سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص کسی کو دو دفعہ قرض دیتا ہے۔ اسے اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ وہ ایک دفعہ صدقہ کرے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی صحبت ثابت نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ

بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری اوسی حارثی: یہ بنو عبد الاشہل کے حلیف تھے، اور کنیت عبد الرحمٰن تھی ایک روایت میں ابو عبد اللہ مذکور ہے۔ سوائے حجوک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے ان کی وفات مدینہ میں ہوئی۔ وہ مدینہ کو چھوڑ کر کہیں نہ جاسکے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انصار کے قبیلے بنو عبد الا شہل سے ان لوگوں کے ناموں کے سلسلے میں جو بدر میں موجود تھے بتایا کہ ان کے حلیفوں میں محمد بن مسلمہ بھی تھے۔ جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا۔ یہ محمد بن مسلمہ ان لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے کعب بن، اشرف یہودی کو قتل کیا تھا۔ بعض غزوات کے موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مدینے کی امارت تفویض فرمائی اک روایت کے رو سے اس غزوے کا نام قر قرۃ الکدر، اور ایک دوسری روایت کے مطابق غزوہ تب۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن ہشام رضی اللہ عنہ

ان کا شمار اہلِ مدینہ سے ہوتا ہے۔ ان کا نام صحابہ میں لیا جاتا ہے، لیکن غیر معروف آدمی ہیں۔ قاضی ابو احمد نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے مدنی ہیں اور غیر معروف۔ ان سے مروی حدیث کی لیث نے تصدیق نہیں کی ابن الہاد نے صفوان بن نافع سے اُنہوں نے محمد بن ہشام سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری باہمی گفتگو امانت ہوتی ہے، اس لیے مومن کے لیے یہ حلال نہیں۔ کہ وہ اپنے بھائی سے بُری بات منسوب کرے۔ علی بن المدینی سے کسی نے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا غیر معروف ہے۔ میں اسے نہیں جانتا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن یغدیذویہ رضی اللہ عنہ

کہتے ہیں ان کا نام بفودان تھا۔ حضور نے ان کا نام محمد رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا نام یفودان تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھ دیا۔ ابو اسحاق بن یاسین نے ان کا تذکرہ (اپنی کتاب تاریخ الہرات میں) ان صحابہ کے ساتھ کیا ہے۔ جو کسی نہ کسی طرح ہرات آگئے تھے۔ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بالویہ الزنجانی بہراہ سے انہوں نے محمد بن مردان شاہ زنجانی سے (جسے وہ قابلِ اعتماد خیال کرتے ہیں اور اس باب میں ان سے ۱۶۹ آدمی متفق ہیں) انہوں نے احمد بن عبدۃ الجرجانی سے، انہوں نے بفودان بن یغدیذویہ الہروی سے روایت کی کہ میں نے شرک کی حالت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی۔ پھر میں اسلام لے آیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام محمد رکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دعائیں کم ہوجاتی ہیں تو آسمانی بلاؤں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جب ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن یغدیذویہ رضی اللہ عنہ

کہتے ہیں ان کا نام بفودان تھا۔ حضور نے ان کا نام محمد رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا نام یفودان تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھ دیا۔ ابو اسحاق بن یاسین نے ان کا تذکرہ (اپنی کتاب تاریخ الہرات میں) ان صحابہ کے ساتھ کیا ہے۔ جو کسی نہ کسی طرح ہرات آگئے تھے۔ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بالویہ الزنجانی بہراہ سے انہوں نے محمد بن مردان شاہ زنجانی سے (جسے وہ قابلِ اعتماد خیال کرتے ہیں اور اس باب میں ان سے ۱۶۹ آدمی متفق ہیں) انہوں نے احمد بن عبدۃ الجرجانی سے، انہوں نے بفودان بن یغدیذویہ الہروی سے روایت کی کہ میں نے شرک کی حالت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی۔ پھر میں اسلام لے آیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام محمد رکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دعائیں کم ہوجاتی ہیں تو آسمانی بلاؤں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جب ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد غیر منسوب رضی اللہ عنہ

ابو حفص بن شاہین نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ سلام بن ابی الصہباء نے ثابت سے روایت کی، ایک سال میں حج کو گیا، اور ایک ایسے حلقے میں جا پہنچا۔ جس میں دو ایسے آدمی بیٹھے تھے، جو حضور اکرم کی صحبت میں بیٹھ چکے تھے، وہ دونوں بھائی تھے۔ ان میں ایک کا نام محمد تھا اور وہ دونوں ’’وسواس‘‘ پر تبادلۂ خیال کر رہے تھے وہ کہنے لگے۔ اتنے میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، حضور نے دریافت فرمایا۔ کس بات پر بحث کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم وسواس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ بخدا اگر ہم سے ایک، آسمان سے زمین پر گِر پڑے، تو ہمیں یہ اس سے کہیں بہتر معلوم ہوتا ہے، کہ ہم اپنے توہمات کا ذکر ہی کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تمہیں ایسی صورتحال پیش آئی ہے۔ انہوں نے کہا۔ ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا۔ یہ خالص ایمان ہے۔ اس پر ج۔۔۔

مزید

سیّدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ

بن سراقۃ الانصاری الخزرجی: کہتے ہیں کہ ان کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ بنو سالم بن عوف سے، ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق بنو عبد الاشہل سے تھا۔ اس بنا پر وہ اوسی ہوئے۔ ان کی کنیت ابو نعیم اور ایک روایت کے مطابق ابو محمد تھی۔ اور ان کا شمار اہل مدینہ میں ہوتا ہے اور انہوں نے اس ڈول سے، جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن پانی میں ملا کر اس پانی کو ان کے کنویں میں انڈیلا تھا، گھونٹ بھر پانی اپنے لیے علیحدہ کرلیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کی عمر چار یا پانچ سال کی تھی۔ ان سے انس بن مالک، زہری اور رجاء بن حیات نے روایت کی ہے۔ انہوں نے ۹۹ یا ۹۶ ہجری میں وفات پائی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمود بن عمر بن سعد رضی اللہ عنہ

عبدان نے ان کا یہی نام لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خدا [۱] وند تعالیٰ نے میری اُمت میں سے تین لاکھ کی مغفرت کا وعدہ کیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اس تعداد کو بڑھائیے۔ اس کے اسناد میں اختلاف ہے ۱۔ سعید بن بشیر نے قتادہ سے انہوں نے ابو بکر بن انس سے انہوں نے محمود بن عمیر سے ۲۔ معمر نے قتادہ سے انہوں نے انس سے یا نفر بن انس سے اور انہوں نے انس سے ۳۔ معاذ بن ہشام نے اپنے باپ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابوبکر بن عمیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے ۴۔ ثابت نے ابویزید سے اور انہوں نے عمر یا عامر بن عمیر سے، انہوں نے ابوبکر بن عمیر سے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ [۱۔ حدیث مخدوش ہے۔ مترجم] ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمود بن عمیر رضی اللہ عنہ

بن سعد الانصاری: ان سے حدیث ابو بکر بن انس نے روایت کی۔ سعید بن بشیر نے قتادہ سے، انہوں نے ابوبکر بن انس سے انہوں نے محمود بن عمیر سے روایت کی کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میرے خاندان سے تین لاکھ کو جنت عطا کرے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اس تعداد کو بڑھا دیجیے آپ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا، اتنے؟ (یعنی پانچ لاکھ) حضرت ابو بکر نے پھر درخواست کی، یا رسول اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھادیے۔ فرمایا، کیا اتنے؟؟ حضرت ابوبکر نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زرا اضافہ فرما دیجیے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے۔ کہنے لگے۔ ابو بکر بس بھی کرو، یہی کافی ہے۔ اگر اللہ چاہے تو کسی ایک فعل کے بدلے میں جتنی تعداد کو چاہے جنت میں داخل کردے گا۔ حضور اکرم ۔۔۔

مزید