منگل , 02 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 19 May,2026

سیّدنا مخاشن الحمیری رضی اللہ عنہ

جو انصار کے حلیف تھے۔ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا تذکرہ کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مخاشن الحمیری رضی اللہ عنہ

جو انصار کے حلیف تھے۔ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا تذکرہ کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مختار بن حارثہ رضی اللہ عنہ

ابو بکر بن ابی علی نے ان کا ذکر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ مغازی ابن اسحاق میں ان کا تذکرہ آیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اسی طرح مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ

بن عاص: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں عددی کا قول ہے کہ انھیں رسولِ کریم کی صحبت میسّر آئی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ جوان تھے واقدی لکھتا ہے کہ محمد بن عمرو بن عاص جنگ صفین میں موجود تھے انھوں نے لڑائی میں حصّہ لیا، لیکن ان کے بھائی عبد اللہ شریک نہ ہوئے یہی رائے زبیر کی ہے محمد بن عمرو بے اولاد مرے: زہری لکھتا ہے کہ جناب محمد نے میدان جنگ میں اپنی بہادری کے خوب خوب جوہر دکھائے اور ذیل کے اشعار کہے۔ (۱) اگر جنگِ جمل: صفین کے میدانِ جنگ میں کسی دن میرے مقام اور طریق جنگ کا مشاہدہ کرتی، ترو دہشت سے اس کے بال سفید ہوجاتے۔ (۲) جس دن اہلِ عراق ہم پر حملہ آور ہوئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا سمندر میں طوفان اٹھا ہے کہ جس کی موجیں اوپر نیچے تہ در تہ ہیں۔ (۳) اور ہم یوں ان کی طرف بڑھے، گویا ہمارے بہادروں کی صفیں کالی گھٹا۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ

ابو موسیٰ اشعری کے بھائی تھے ہم ان کا نسب ابو موسیٰ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں طلحہ بن یحییٰ نے ابی بردہ سے اس نے ابن موسیٰ سے اس نے اپنے والد سے روایت کی کہ میں اور تیرا بھائی بذریعہ سمندر(یمن سے) مکّے پہنچے اور میرے ساتھ ابو بردہ بن قیس، ابو عامر بن قیس، ابور ہم بن قیس اور محمد بن قیس کے علاوہ پچاس آدمی قبیلہ اشعری کے اور چھ افراد قبیلہ عک کے تھے۔ چنانچہ ہم پھر سمندر کے راستے سے مدینے پہنچے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا، لوگوں نے ایک ہجرت کی ہے اور تم نے دو ہجرتیں کی ہیں۔ ابن ابی بردہ نے اپنے بزرگوں سے اسی طرح روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم روانہ ہوئے اور میرے ساتھ میرے بھائی تھے۔ انھوں نے محمد بن قیس کا ذکر نہیں کیا ابو مندہ اور ابو نعیم کی تخریج یہی ہے لیکن ابو نعیم کہتا ہے کہ یہ فاش غلطی ہے۔ ابو کرین نے ابو اسامہ سے اُس نے یزید سے اُس نے ابو ب۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن قیس رضی اللہ عنہ

بن مخرمہ بن مطلب بن عبد المناف بن قصی: عبد اللہ بن محمد بن عبد العزیز لکھتے ہیں کہ مَیں نے ابن ابی داؤد کی کتاب میں جو صحابہ کے بارے میں ہے دیکھا کہ مصنّف نے محمد بن قیس بن مخرمہ کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سُنی ہے۔ احمد بن عبد اللہ بن یونس نے ثوری سے اس نے عبد اللہ بن مؤمل سے اُس نے محمد بن عباد بن جعفر سے اُس نے محمد بن قیس بن مخرمہ سے سُنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حرمین میں فوت ہُوا۔ وہ قیامت کے دن امن و امان میں اُٹھے گا۔ غریانی نے ثوری سے اُس نے محمد بن قیس بن مخرمہ سے اور انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ابو احمد عسکری نے قیس بن مخرمہ کے ترجمے میں لکھا ہے کہ اِن کے دونوں بیٹے محمد اور عبد اللہ جو ابھی بچّے تھے وہ والد کے ساتھ ہولیے تھے اور جس حدیث کا ہم نے ذک۔۔۔

مزید

سیدنا محرز بن زہیر الاسلمی مدنی رضی اللہ عنہ

اُنہیں حضور اکرم کی صحبت میسر آئی۔ ان کی حدیث کبیر بن زید نے ام ولد محرز سے اس نے محرز سے روایت کی۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاموشی عالم کی زینت ہے، ان کی بیٹی نے ان سے روایت کی کہ میرے ابا اکثر کہا کرتے تھے۔ اے اللہ میں جھوٹوں کے زمانے سے پناہ مانگتا ہوں۔ بیٹی نے پوچھا، ابا، وہ کیسا زمانہ ہوگا؟ باپ نے جواب دیا، اس زمانے میں جھوٹ الم نشرح ہوچکا ہوگا۔ پھر ایک آدمی ان میں آشریک ہوگا۔ لیکن جب موضوع زیرِ بحث آئے گا، تو وہ بھی اپنی ٹانگ اُڑا کر گناہ میں شریک ہوجائے گا۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے اور بیان کیا ہے کہ ابو نعیم نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ابن مندہ کو اس باب میں وہم ہوا ہے اور اس نے ان کی ولدیت ابنِ زہر لکھی ہے۔ جعفر نے ابن زہیر اور ابن زہر کو دو مختلف آدمی قرار دیا ہے۔ امام بخاری نے اپنی ت۔۔۔

مزید

سیدنا محرز القصاب رضی اللہ عنہ

اُنہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ امام بخاری نے ان کا تذکرہ موسیٰ بن اسماعیل سے، اس نے اسحاق بن عثمان سے، اُس نے اپنی دادی ام موسیٰ سے سُنا کہ ابو موسیٰ اشعری نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے جانور ذبح کرنے کی اجازت صرف اسے دی جائے گی، جسے سورۂ فاتحہ آتی ہے اور سوائے جناب محرز کے اور کسی کو سورۂ فاتحہ نہیں آتی تھی۔ اس لیے یہ خدمت ان سے لی جاتی تھی۔ یہ بنو عدی کے آزاد کردہ غلام تھے اور زمانۂ جاہلیت میں جنگی قیدی رہے تھے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مُحِرشْ الکعبی رضی اللہ عنہ

ابن ماکو لانے حرف اول پر پیش (ضمہ) اور حرف ثالث راکو مشدد کر کے کسرہ پڑھا ہے۔ ابو عمر نے بہ کسر میم و سکون حا بیان کیا ہے۔ علی بن مدینی آخر الذکر کو درست کہتا ہے۔ ابو عمر نے اسماعیل بن امیّہ سے اس نے مزاحم سے، اُس نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید سے اس نے مخرش الکعبی سے روایت کی۔ کہ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکلے اور پھر اس نے حدیث نقل کی۔ ابن المدائنی کہتا ہے۔ کہ مزاحم سے مراد مزاحم بن ابی مزاحم ہے اس سے ابن جریج وغیرہ نے روایت کی ہے اور اس سے مراد مزاحم بن زفر نہیں ہے۔ ابو حفص القلاس کا بیان ہے کہ مَیں مکہ کے ایک شیخ کو جس کا نام سالم تھا ملا۔ اور منی تک اس سے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اُس نے مجھ سے یہ حدیث سنانے کی خواہش کی۔ کہنے لگا۔ محرش بن عبد اللہ میرا دادا تھا۔ پھر اُس نے وہ حدیث بیان کی اور نیز بتایا کہ کس طرح حضور اکرم صلی ۔۔۔

مزید

سیدنا محصن الانصاری رضی اللہ عنہ

یہ جعفر کا قول ہے اور اُس نے مروان بن معاویہ سے، اُس نے عبد الرحمٰن بن ابی شمیلۃ الانصاری سے جو اہلِ قبا سے تھا۔ اس نے سلمہ بن محصن الانصاری سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص صبح کو اپنی جماعت میں امن و امان میں بیدار ہو اور اس کا جسم بہ خیر و عافیت ہو، اور اس دن کے کھانے کا معقول بندوبست ہو۔ یوں سمجھے، گویا تمام دُنیا اسے عطا کردی گئی ہے۔ جعفر نے اسی طرح روایت کی ہے اور اس کا ترجمہ بیان کیا ہے۔ راویوں میں تھوڑا سا فرق ہے: سلمہ بن عبد اللہ محصن نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔ کئی راویوں نے اس روایت کو مروان سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ہم اس کا ذکر عبید اللہ کے ترجمے میں کر چکے ہیں۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً ابن ابی عاصم سے۔ اس نے کثیر بن عبید اللہ الخداء سے، اس نے مروان بن معاویہ سے اس نے عبد الرحمان بن شمیلۃ الانصاری سے۔ اس ۔۔۔

مزید