بن عبداللہ الہلالی: واقدی نے کبیر بن عبداللہ المزنی سے، اس نے عمر بن عبدالرحمٰن سے، اُس نے عبداللہ المالک الہلالی سے، اس نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضور اکرم سے دریافت کیا، یارسول اللہ! اعراف میں کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: جو لوگ کہ اللہ کی راہ میں بغیر اجازت والدین لڑنے کو نکلے اور شہید ہوگئے۔ اب ان کا درجۂ شہادت پر فائز ہونا، دوزخ سے روکتا ہے اور والدین کی نافرمانی جنت کی راہ میں رکاوٹ ہے تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبداللہ الہلالی: واقدی نے کبیر بن عبداللہ المزنی سے، اس نے عمر بن عبدالرحمٰن سے، اُس نے عبداللہ المالک الہلالی سے، اس نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضور اکرم سے دریافت کیا، یارسول اللہ! اعراف میں کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: جو لوگ کہ اللہ کی راہ میں بغیر اجازت والدین لڑنے کو نکلے اور شہید ہوگئے۔ اب ان کا درجۂ شہادت پر فائز ہونا، دوزخ سے روکتا ہے اور والدین کی نافرمانی جنت کی راہ میں رکاوٹ ہے تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
والدِ عبداللہ آخر حسبِ روایت ابوموسیٰ: عبدان نے اپنی سند سے حسن بن یحییٰ سے اس نے زہری سے اس نے عبداللہ بن مالک سے۔ اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن منادی کرائی کہ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ اور کوئی داخل نہیں ہوگا، اور کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی فاسق و فاجر کو خدمتِ دین پر آمادہ کردیتا ہے بقولِ راوی عبدان سے اسی طرح مروی ہے، نیز اس نے راوی کا نام مالک بن کعب بن عبداللہ لکھا ہے، جو والد کی بجائے دادا سے منسوب ہیں، سفیان بن حسین نے زہری سے یہ روایت کی ہے ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
والدِ عبداللہ آخر حسبِ روایت ابوموسیٰ: عبدان نے اپنی سند سے حسن بن یحییٰ سے اس نے زہری سے اس نے عبداللہ بن مالک سے۔ اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن منادی کرائی کہ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ اور کوئی داخل نہیں ہوگا، اور کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی فاسق و فاجر کو خدمتِ دین پر آمادہ کردیتا ہے بقولِ راوی عبدان سے اسی طرح مروی ہے، نیز اس نے راوی کا نام مالک بن کعب بن عبداللہ لکھا ہے، جو والد کی بجائے دادا سے منسوب ہیں، سفیان بن حسین نے زہری سے یہ روایت کی ہے ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا نام اسود تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مقترب رکھ دیا تھا۔ ہم اسود کے ترجمے میں ان کا ذکر کر آئے ہیں۔۔۔۔
مزید
ان کا نام اسود تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مقترب رکھ دیا تھا۔ ہم اسود کے ترجمے میں ان کا ذکر کر آئے ہیں۔۔۔۔
مزید
بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرود بن عمرو بن سعد بن وہیر بن لوئی بن ثعلبہ بن مالک بن شرید بن ابی ہون بن قاس بن دریم بن قین بن اہون بن بہراء بن عمرو بن حاف بن قضاعہ ہراوی: مقداد بن اسود کے نام سے مشہور تھے اور یہ اسود وہی ہیں۔ جن کی طرف اسود بن عبد یغوث زہری منسوب تھے۔ اس انتساب کی وجہ یہ تھی کہ مقداد نے اسود کو اپنا حلیف بنایا، جس پر انہوں نے مقداد کو اپنا متبنی بنالیا۔ انہیں مقداد کندی بھی کہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے قبیلۂ بہراء کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور وہ بھاگ کر قبیلۂ کندہ میں چلے گئے چنانچہ وہ مقداد کندی کہلائے۔ کچھ دنوں کے بعد انہوں نے قبیلۂ کندہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ اور بھاگ کر مکے چلے گئے۔ وہاں انہوں نے اسود بن عبد یغوث کو اپنا حلیف بنالیا۔ احمد بن صالح المصری کہتے ہیں کہ وہ حضرمی تھے اور ان کے والد نے کندہ کو حلیف بنالیا تھا۔ اور مقداد نے اسود۔۔۔
مزید
الغفاری: نضلہ بن عمرو الغفاری سے مروی ہے کہ بنو غفار کا ایک آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے نام دریافت کیا تو کہنے لگا، مہران، ایک روایت میں نبہان آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مکرم کردیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار ابو الروم العبدری: یہ مصعب بن عمیر کے بھائی تھے، ابو بکر بن درید نے اسی طرح ان کا نام لکھا ہے۔ ابو الروم کا لقب انہیں مہاجرین حبش نے دیا تھا۔ غزوۂ اُحد میں موجود تھے۔ حافظ ابو القاسم و مشقی نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ہم کنیتوں کے تحت ذرا تفصیل سے پھر انکا ذکر کریں گے۔۔۔۔
مزید
ان کے بیٹے کا نام الحکم تھا اور ہ عنہ وہ ابو عامر راہب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ بقول مصعب زبیری جناب مینا غزوۂ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کے بیٹے الحکم نے ابنِ عمر اور ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید