منگل , 02 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 19 May,2026

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن سنان بن مالک النمری: یہ صحابی صہیب بن سنان کے بھائی تھے۔ اسی نے ابو عمر پر بطورِ استدراک بیان کیا۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عامر ابو عطیہ الوداعی: اہل کوفہ سے تھے اور تابعی تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ وہ زمانۂ قبل از اسلام میں موجود تھے۔ ابوموسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عامر ابو عطیہ الوداعی: اہل کوفہ سے تھے اور تابعی تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ وہ زمانۂ قبل از اسلام میں موجود تھے۔ ابوموسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبادۃ الہمدانی: یہ صاحب مالک بن مرہ اور عقبہ بن نمرہ کی معیت میں ہمدانی وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبادۃ الہمدانی: یہ صاحب مالک بن مرہ اور عقبہ بن نمرہ کی معیت میں ہمدانی وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبداللہ بن خیبری بن افلت بن سلسلہ بن عمرو بن سلسلہ بن غنم بن ثوب بن معن بن عتود بن سلامان بن عنین بن سلامان بن ثعل بن عمرو بن الغوث بن طئی الطائی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے دو بیٹے تھے، مروان اور ایاس اور دونوں شاعر تھے۔ یہ روایت ابن الکلبی کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبداللہ بن خیبری بن افلت بن سلسلہ بن عمرو بن سلسلہ بن غنم بن ثوب بن معن بن عتود بن سلامان بن عنین بن سلامان بن ثعل بن عمرو بن الغوث بن طئی الطائی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے دو بیٹے تھے، مروان اور ایاس اور دونوں شاعر تھے۔ یہ روایت ابن الکلبی کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مہران رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے نام کے متعلق کئی روایات ہیں: کیسان، طہمان، ذکوان، میمون، ہرمز۔ اس اختلاف کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ روایت ہے کہ آلِ ابی طالب کے مولی تھے۔ عبد الواہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ، عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے وکیع سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے سائب سے روایت کی، ان کا بیان ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم کے پاس صدقہ لے کر گئے۔ انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور وجہ یہ بیان کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام مہران نے انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت کے لیے صدقہ حرام قرار دیا ہے اور قبیلے کا غلام ان ہی سے شمار کیا جائے گا۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مُعَّرِض رضی اللہ عنہ

بن علاط سلمی: حجاج بن علاط کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ان کی والدہ ام شیبہ بنتِ طلحہ تھیں۔ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے: ابو عمر کی یہی رائے ہے ارباب سیرو تاریخ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن مبارک نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے۔ ان کے بھائی حجاج نے ان کی موت پر ذیل کا شعر کہا۔ وَلَمْ اَوَیَوْمَا کَانَ اکثر سَاعِیْاً بِکَفِّ شِمَالٍ فَارَقتھا یَمْنُھَا ترجمہ: مَیں نے کوئی ایسا دن نہیں دیکھا۔ جِس میں اس نے بائیں ہاتھ سے، بغیر دائیں کے اتنی محنت کی ہو۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ جناب حجاج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدح میں کئی اشعار کہے ہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مُعَّرِض رضی اللہ عنہ

بن معیقیب یمامی: شاصویہ بن عبید ابو محمد یمامی نے ان سے حدیث روایت کی ہے، شاصویہ نے معرض بن عبد اللہ بن معرض بن معیقیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ حجتہ الوداع میں شامل تھے۔ مکہ میں ایک مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اس سے عجیب تر جو چیز مشاہدہ کی وہ یہ تھی کہ اہلِ یمامہ کا ایک آدمی ایک بچے کو کپڑے میں لپیٹے ہوئے لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے دریافت کیا۔ کیا تم[۱] جانتے ہو کہ مَیں کون ہوں۔ بچّے نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نے فرمایا، تو نے درست کہا۔ اللہ تجھے برکت دے اس کے بعد وہ بچہ جوانی تک خاموش رہا۔ لوگ اسے مبارک الیمامہ کہتے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [۱۔ حدیث اس بے مخدوش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پوچھنے کی کیا ضرورت ۔۔۔

مزید