بن عبد اللہ بن خرشہ: ابن شاہین نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور انہوں نے باسنادہ ابو معشر سے، انہوں نے یزید بن رومان سے روایت کی، کہ موہب بن عبد اللہ بنو ثقیف کے وفد میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج سے تم موہب ابو سہل ہو۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
جب بنو سکاسک اور بنو سکونی میں جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا تو حضرت معاذ بن جبل نے انہیں ایک وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برائے مصالحت روانہ کیا تھا۔ اسماعیل بن عباس نے اس حدیث کو صفوان بن عمر اور عمرو بن قیس بن ثور بن مازن بن خیثمہ سے روایت کیا ہے۔۔۔۔
مزید
جب بنو سکاسک اور بنو سکونی میں جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا تو حضرت معاذ بن جبل نے انہیں ایک وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برائے مصالحت روانہ کیا تھا۔ اسماعیل بن عباس نے اس حدیث کو صفوان بن عمر اور عمرو بن قیس بن ثور بن مازن بن خیثمہ سے روایت کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ازہر: بعض نے ان کے والد کا نام ابی ازہر اور بعض نے زاہر لکھا ہے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ آپ اپنے پاؤں کے تلوے صاف کر رہے تھے۔ ابو عمر نے ان کے والد کا نام زاہر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ازہر: بعض نے ان کے والد کا نام ابی ازہر اور بعض نے زاہر لکھا ہے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ آپ اپنے پاؤں کے تلوے صاف کر رہے تھے۔ ابو عمر نے ان کے والد کا نام زاہر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
الاشجعی: ان کا ذکر ہم مالک بن عوف، اشجعی کے تذکرے میں لکھیں گے، ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے اور ان سے ایک حدیث نقل کی ہے، جسے ہم مالک بن عوف کے تذکرےمیں بیان کریں گے۔۔۔۔
مزید
الانصاری: ان سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مروی ہے، حضور اکرم نے فرمایا کہ مجالس کو ان کا حق ادا کرو۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
: یہ صحابی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں البتہ ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
: یہ صحابی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں البتہ ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ثابت الانصاری: ان کا تعلق بنو النبیت یعنی عمرو بن مالک بن اوس سے تھا، جناب مالک اور ان کے بھائی ان لوگوں میں شامل تھے، جنھیں وعر کے سے بئر معونہ کے مقام پر شہید کردیا گیا تھا۔ واقدی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید