منگل , 02 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 19 May,2026

سیّدنا مغیرہ بن نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ

بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی۔ مکے میں قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور ایک روایت میں ہے کہ اُنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے صرف چھ برس نصیب ہُوئے۔ ان کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور ام یحییٰ کا نام امامہ بنت ابو العاص تھا اور جناب امامہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ امامہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعد از وفاتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا شادی کی تھی۔جب حضرت علی ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو وصیت کی کہ ان کے بعد مغیرہ بن نوفل امامہ سے نکاح کر لیں۔ بروایتے ان کی کنیت ابو حلیمہ تھی۔ یہ وہی شخص ہیں، جنہوں نے ابنِ ملجم پر کھیس ڈالا تھا۔ جب اس نے حضرت علی کو زخمی کردیا تھا۔ جب لوگوں نے ابنِ ملجم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو وہ ان پر تلوار سے حملہ آور ہوا، لوگ آگے سے ہٹ گئے۔ اب مغیرہ سے آمنا سامنا تھا۔ انہوں نے کھیس اس پر ڈال کر اسے زمین پ۔۔۔

مزید

سیّدنا مغیرہ بن شعبہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ

بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس: ان کا تعلق بنو ثقیف سے تھا اور ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ایک روایت میں ابو عیسیٰ بھی آئی ہے۔ ان کی والدہ امامہ بنتِ افقم بن عمرو تھیں۔ جو بنو نصر میں معاویہ سے تھیں۔ مغیرہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایمان لائے تھے اور صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے عروہ بن مسعود سے مذاکرے میں حصّہ لیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابو عیسیٰ کی کنیت عطا کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو عبد اللہ کہنا شروع کر دیا تھا۔ جناب مغیرہ اپنی عقل رسا کی وجہ سے مشہور تھے۔ شعبی کہتے ہیں، عرب کے دانشور چار تھے۔ ۱۔ معاویہ بن ابو سفیان ۲۔ عمرو بن عاص ۳۔ مغیرہ بن شعبہ ۴۔ زیاد: اول الذّکر وسیع الظرفی اور حکم کی وجہ سے، عمرو بن عاص حل مشکلات کی بنا پر، مغیرہ بن شعبہ عقلِ رسا اور جودتِ فکر ک۔۔۔

مزید

سیّدنا مہزان رضی اللہ عنہ

یہ میمون کے والد تھے۔ میمون نے اپنے والد سے روایت کی۔ عمرو بن میمون بن مہزان نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص رہی۔ ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معضد رضی اللہ عنہ

p> بن یزید: ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ اہل کوفہ سے تھے۔ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ حضرت عثمان کے عہد میں آذر بائیجان میں مارے گئے تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مہین رضی اللہ عنہ

بن ہیشم بن نابی بن مجموعہ ازآلِ اسود بن اوس بن نابی: یہ لاولد تھے۔ ابن اسحاق نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے۔ جو بیعت عقبہ میں موجود تھے۔ ابن منیع اور جعفر المستغفری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مہین رضی اللہ عنہ

بن ہیشم بن نابی بن مجموعہ ازآلِ اسود بن اوس بن نابی: یہ لاولد تھے۔ ابن اسحاق نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے۔ جو بیعت عقبہ میں موجود تھے۔ ابن منیع اور جعفر المستغفری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ

بن حارث بن صخر بن عامر بن تیم بن مرہ: ہم ان کا نسب اِن کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ حبشہ میں پیدا ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ ان کے والد حبشہ سے دو کشتیوں میں سوار ہوکر مدینہ آئے تھے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن یزید الثقفی ان کا شمار صحابہ میں کیا جاتا ہے لیکن بغیر از ثبوت ابو بکر ہذلی نے حسن سے انہوں نے جناب رافع سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان سرخی کو اور نمائشی لباس کو پسند کرتا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مونس رضی اللہ عنہ

بن فضالہ بن عدی بن حزام بن ہیشم بن ظفر انصاری، ظفری: یہ انس بن فضالہ کے بھائی تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ اُحد سے ایک دن پہلے انہیں لشکر مشرکین کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا تھا۔ جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ غزوۂ احد میں شرکت کے لیے آئے تھے، اور سب لوگ وہاں جمع تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا موہب رضی اللہ عنہ

بن عبد اللہ بن خرشہ: ابن شاہین نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور انہوں نے باسنادہ ابو معشر سے، انہوں نے یزید بن رومان سے روایت کی، کہ موہب بن عبد اللہ بنو ثقیف کے وفد میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج سے تم موہب ابو سہل ہو۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید