بن عمرو بن مالک بن برہہ بن نہشل المجاشی، ابو حفص نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر مالک بن بن برہہ کے تحت کیا جاچکا ہے۔ یہ صحابی ایک جماعت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس زور زور سے چیخنے لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شور کی وجہ دریافت کی، تو معلوم ہوا کہ بنو عنبر کا وفد ہے۔ جو ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں کہو کہ اندر آجائیں اور آرام کریں، انھوں نے کہا ہم اپنے سالارِ قافلہ وردان بن مخرم کا انتظار کر رہے ہیں۔ ارکانِ وفد جلدی میں اپنے سردار کو، اپنی سواریوں اور ساز و سامان کی حفاطت کے لیے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اہل وفد اپنے اس سردار کا انتظار کر رہے ہیں جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ جب وہ حضورِ اکرم صلی اللہ عل۔۔۔
مزید
بن عمیر السلمی: یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ، غزوۂ حنین اور طائف میں شامل تھے۔ ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے۔ ان سے یہ روایت مروی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذکورہ بالا غزوات میں شریک تھے انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں شاعر ہوں، آپ ازراہ کرم اس باب میں میری راہ نمائی فرمائیں۔‘‘ حضورِ اکرم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز[۱] تیرے پیٹ کو پیپ سے بھر دے تو اس سے بہتر ہے کہ اسے اشعار سے بھرا جائے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمیرہ ابوسفیان: عبدان اور ابنِ شاہین وغیرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ایک روایت میں مالک بن عمیر ہے۔ بعض نے انھیں اسدی لکھا ہے اور بعض نے بنو عبدالقیس سے۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم سے ابو یاسر بن حبہ نے اس اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک پہنچتا ہے۔ بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے اس سے شعبہ نے اس نے سماک بن حرب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو صفوان مالک بن عمیر الاسدی سے سنا، محمد بن جعفر نے عمیر کی جگہ عمیرہ لکھ دیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہجرت سے پہلے مکے میں آئے اور ایک شخص نے ان سے شلوار خریدی اور مجھ سے حسنِ سلوک سے پیش آیا۔ ابن مہدی نے شعبہ سے روایت کی ہے اور نام مالک بن عمیرہ بتایا ہے۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اس نے سوید بن قیس سے یہی نام سنا ہے لیکن کنیت نہیں بتائی ہے۔ عمرو بن حکام اور یحییٰ بن ابی طالب نے بروایت یزید بن شعبہ ان کا نام ابن عمی۔۔۔
مزید
بن عمیرہ ابوسفیان: عبدان اور ابنِ شاہین وغیرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ایک روایت میں مالک بن عمیر ہے۔ بعض نے انھیں اسدی لکھا ہے اور بعض نے بنو عبدالقیس سے۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم سے ابو یاسر بن حبہ نے اس اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک پہنچتا ہے۔ بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے اس سے شعبہ نے اس نے سماک بن حرب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو صفوان مالک بن عمیر الاسدی سے سنا، محمد بن جعفر نے عمیر کی جگہ عمیرہ لکھ دیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہجرت سے پہلے مکے میں آئے اور ایک شخص نے ان سے شلوار خریدی اور مجھ سے حسنِ سلوک سے پیش آیا۔ ابن مہدی نے شعبہ سے روایت کی ہے اور نام مالک بن عمیرہ بتایا ہے۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اس نے سوید بن قیس سے یہی نام سنا ہے لیکن کنیت نہیں بتائی ہے۔ عمرو بن حکام اور یحییٰ بن ابی طالب نے بروایت یزید بن شعبہ ان کا نام ابن عمی۔۔۔
مزید
بن عوف الاشجعی: ایک روایت میں ابو عوف ہے۔ ابوموسیٰ نے (کتابۃً) ہمیں بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی زبانی سنا کہ ہمیں سلیمان بن ابراہیم نے۔ اسے علی بن محمد الفقیہ نے، اسے احمد بن محمد بن ابراہیم نے، اسے محمد بن عبدالوہاب نے، اسے آدم بن ابو ایاس نے اسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اسے عبداللہ بن ولید نے، محمد بن اسحاق سے جو آلِ قیس بن مخرمہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ بیان کیا کہ مالک الاشجعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا بیٹا عوف قید میں ہے۔‘‘ حضور نے فرمایا؛ اسے کہلا بھیجو کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرے۔ دشمنوں نے انہیں چمڑے میں جکڑ رکھا تھا اس ورد سے وہ ان کے جسم سے علیحدہ ہوکر گر پڑا، ان کی ایک اونٹی پاس کھڑی تھی، اس پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب ان لوگوں کے گھر کے پاس سے (جنھوں نے انھیں قید کیا ہوا تھا) گزرے تو زور سے نعرہ ۔۔۔
مزید
بن جابر بن مالک بن عدی بن زید مناہ بن عدی بن عمر و بن مالک بن بخارم الانصاری خزر جی غزوۂ احد میں موجود تھے ان کی اولاد تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی فریعہ نبت ابی امامہ اسعد بن زرارہ سے کی تھی اور فریعہ ان عورتوں سے تھیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ان کے بطن سے جو بیٹا پیدا ہوا ان کا نام عبد الملک تھا جناب اسعد بن زرارہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ جناب فریعہ اور ان کی ہمشیرگان کی خانہ آبادی کا انتظام فرمایا جائے جناب نبیط حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرصے تک زندہ رہے۔ ابو عمر کا قول ہے کہ جناب نبیط کا ایک اور بیٹا بھی تھا جن کا نام سلمہ تھا جن سے بعض احادیث مروی ہیں ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ علامہ ابن اثیر، ابو عمر کے اس خیال کو اہم قرار دیتے ہیں ان کے خیال میں سلمہ بن نبیط سے مراد ابن نبیط بن۔۔۔
مزید
ابو مریم الفسانی ابو بکر بن عبد اللہ بن ابو مریم کے دادا تھے ابو حاتم رازی کہتے ہیں، کہ انہوں نے بعض شامیوں سے ابو مریم کا نام دریافت کیا نہوں نے بتایا نذیر بقیر بن دلید نے ابو بکر بن ابو مریم سے انہوں نے اپنے دادا ابو مریم سے روایت کی کہ انہوں ے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شرکت کی چنانچہ آپ نے ان کی تیر اندازی کی تعریف فرمائی ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن غیس بن زید بن عامر بن سواد بن کعب(اور کعب سے مراد ظفر الانصاری الظفری ہیں) انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور روایت کا موقعہ ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کافی غزوات میں شریک رہے عبد اللہ بن محمد بن قداح نے ان کا ذکر انصار میں کیا ہے اور ان کا نام نسیر لکھا ہے دار قطنی نے بشیر تحریر کیا ہے مگر اوّل الذکر ثابت ہے یہی رائے ابن ماکو لاکی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن عبید بن رزاح بن کعب(اور کعب سے ظفر الانصاری اوسی ظفری مراد ہیں) ایک روایت میں ان کا نام ابن عبد رزاح اور بروایت ابو موسیٰ ابن عبد اللہ تھا پہلی دونوں روأیتیں درست تر ہیں اکثر ان کی کنیت ابو الحارث مذکور ہے غزوۂ بدر میں موجود تھے اور ان کے والد ابو الحارث کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی اور اکثر اہل السیر والا نساب نے ان کا نام نصر بن حارث لکھا ہے ابن سعد نے ابن اسحاق سے ان کا نام نمیر بن حارث نقل کیا ہے اب سعد کے خیال ہیں یہ ان صاحب کی غلطی ہے جنہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے وہ ابراہیم بن سعد الزہری تھے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ ابن سعد نے غلطی کا انتساب ابراہیم بن سعد سے کیا ہے حالانکہ یونس بن بکیر اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے نمیر ہی نقل کیا ہے اور ہشام نے بکائی سے انہوں نے ابن اسحاق سے نضر(ضاد سے) روایت کیا ہے یہ۔۔۔
مزید
بن حزن النصری ایک روایت میں عبدہ بن نصر آیا ہے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ابن ابی عدی نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے نصر بن حزن سے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیا کے بکریاں چرانے کے بارے میں روایت بیان کی ابو داؤد نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی اور نام بشر بن حزن لکھا ہے اور ایک روایت میں ابو داؤد نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے عبدہ بن حزن لکھا ہے بقول ابو عمر یہی درست ہے واللہ اعلم تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید