بن الحمراء: ایک روایت کے رو سے ان کا نام ہلال بن حارث ابو الحمراء ہے اور یہی درست ہے اور ایک روایت میں ان کا نام ہانئی بن حارث ابو الحمراء خادمِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مذکور ہے انہوں نے حمص میں سکونت اختیار کرلی تھی امام بخاری لکھتے ہیں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن ان کی حدیث درست نہیں۔ ابو اسحاق سبیعی نے ابو داؤد القاص سے، انہوں نے ابو الحمراء سے روایت کی کہ وہ ایک مہینہ مدینے میں ٹھہرے رہے، انہوں نے دیکھا، کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز صبح کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لاتے۔ الصلوۃ، الصلوۃ فرماتے اور پھر آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ واللہ اعلم۔ ابو عمر اور ابو موسےٰ نے ان کا ذکر کیا ہے لیکن ابو عمر نے ان کا نام ابن الحمراء ابو الحمراء لکھا ہے اور یہی درست ہے۔۔۔۔
مزید
بن حکم(اگر ثابت ہو) فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے، انہوں نے عطا بن یسار سے انہوں نے ہلال بن حکم سے روایت کی کہ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی امور کی تعلیم حاصل کی، تو ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب چھینک آئے تو الحمدُ للہ کہنا چاہیے، اور اگر دوسرے آدمی کو چھینک آئے تو اس کے لحمدُ للہ کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھا رہے تھے، دورانِ نماز میں ایک شخص کو چھینک آئی، تو میں نے بلند آواز میں یرحمک اللہ کہہ دیا، اس پر تمام نمازیوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے، کہ مجھے گھور رہے ہو جب نماز ختم ہوئی، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ نماز میں کون بول رہا تھا۔ صحابہ نے میرا نام لیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا دیکھوں میاں اعرابی! نماز میں ۔۔۔
مزید
بن ابی خولی: اور ابو خولی کا نام عمرو بن زہیر بن خیشمہ بن ابی حمران نعمان تھا(اور ابو حمران نعمان کا نام: حارث بن معاویہ بن حارث بن مالک بن عوف بن سعد بن عوف بن حریم بن جعفی الجعفی تھا جو عدی بن کعب اور خطاب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے والد کے حلیف تھے) بقولِ موسیٰ بن عقبہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خولی اور مالک دونوں ابو خولی کے بیٹے تھے سب بدر میں شریک تھے ہشام بن کلبی لکھتے ہیں کہ خولی بن ابو خولی مع اپنے بھائیوں ہلال اور عبد اللہ کے غزوۂ بدر میں موجود تھے لیکن انہوں نے مالک بن خولی کا ذکر نہیں کیا ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو قیس سلمی: محمد بن سلام نے عبد القاہر بن السری بن قیس بن ہیثم سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دادا ہیثم کو اپنے قبیلے کے صدقات جمع کرنے کے لیے مقرر فرمایا انہوں نے یہ رقم حضرت ابو بکر کو پوری پوری ادا کردی اور زبرقان نے بھی رقم ادا کردی اس پر حضرت ابو بکر نے کہا کہ زبرقان نے صدقات کی رقم تکرماً ادا کی اور ہیثم نے تحرجاً تنگی سے یا تبرعاً خوشی سے ادا کی۔ اس پر محمد بن سلام نے عبد القاہر سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے؟ تھوڑا سا سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ حمید نے حسن سے سنا ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ اور اس ہیثم سے مراد ابن قیس بن صلت بن حبیب السلمی ہیں، جو قیس بن ہیلیثم کے والد اور عبد اللہ بن حازم بن اسماء صلت السلمی کے چچا تھے انہوں نے خراسان میں فتنہ برپا کیا تھا۔۔۔۔
مزید
بن جذام: عبد الرحمان بن یزید سے مروی ہے کہ ودیعہ نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا تو لڑکی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے والد نے میرا نکاح کردیا ہے لیکن میں اسے نا پسند کرتی ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ودیعہ کو بلایا۔ اور حقیقت حال پوچھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ! لڑکا نیک خو اور لڑکی کا ابنِ عم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تم نے لڑکی سے پوچھا تھا انہوں نے جواب نفی میں دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو منسوخ فرمادیا۔ اس حدیث میں لڑکے کے نام کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمرو بن جراد بن یربوع الجہنی یہ سلسلہ نسب بہ روایت ابو عمر ہے ابن الکلبی نے یوں بیان کیا ہے: ودیعہ بن عمرو بن یسار بن عوف بن جراد بن یربوع بن طحیل بن عدی بن ربعہ بن رشدان بن قیس بن جہینہ یہ لوگ بنو سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار کے حلیف تھے انہوں نے بہ قول موسیٰ و ابن اسحاق غزوۂ بدر میں شرکت کی ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر، ودیعہ بن عمرو الجہنی کا ذکر کیا ہے اور بن اسحاق سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ بنوا شجع سے تعلق رکھتے تھے لیکن پہلی روایت اصح ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
جدملیح بن عبداللہ انصاری الخطمی رضی اللہ عنہ،ابواحمدعسکری اورابن ابی عاصم نےان کاذکرکیا ہے، یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے الحوطی اوررحیم سے،انہوں نے ابن ابی فدیک سے،انہوں نے عمروبن محمداسلمی سے،انہوں نے ملیح بن عبداللہ انصاری سے، انہوں نےوالدسے،انہوں نے داداسےروایت کی،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا،پانچ انبیاء کی سنت ہیں، (۱) حیا (۲)حلم (۳) حجامتہ (۴) مسواک (۵) اورخوشبولگانا۔ ۔۔۔
مزید
بن خفاف ان کی کنیت ابو خفاف غنوی تھی ان کا شمار صحابہ میں درست نہیں ہے ان سے ابو اسحاق سبیعی نے رویت کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے ابو نعیم کا قول ہے کہ بعض متاخرین نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
الطفادی۔ ان کا نام صحابہ میں مذکور ہے براء بن عبد اللہ غنوی نے واصل سے روایت کی کہ انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ناجیہ الطفاوی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر مغرب عشاء اور فجر کی نمازیں ادا فرمائیں۔ ابو نعیم اور ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو السائب آپ غیلان بن سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے غیلان ابھی مشرک ہی تھے کہ نافع بھاگ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کردیا بعد میں جب غیلان مسلمان ہوگئے تو آپ نے نافع کی ولایت غیلان کو منتقل کردی ابو مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید