بن بدر: السدی نے ان کا ذکر ابو مالک اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس سے بہ سلسلہ نزول آیت: ولا تر فعوا اصوا تکم فوق صوت النبی: بیان کیا ہے کہ بنو تمیم کا ستر اسی آدمیوں کا وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان میں اقرع بن حابس، زبرقان، عطارد، قیس بن عاصم، نعیم بن بدر اور عمرو بن اہشم بھی تھے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ کتاب میں اسی طرح مذکور تھا لیکن ان کا خیال ہے، کہ ان صاحب کا نام عینیہ بن بدر تھا ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ابو موسیٰ کا خیال غلط ہے کیونکہ عینیہ بن بدر بنو فزارہ سے تھے۔ ۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن کعب اسلمی: یہ صاحب کچھ عرصہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری میں مصروف رہے(اور ایک روایت میں ہے کہ کنْتُ اَخْدِمُ النبی کے راوی ربیعہ بن کعب ہیں، نہ کہ نعیم بن ربیعہ، جیسا کہ ہم باب را میں بیان کر آئے ہیں) اس کے راوی ابراہیم بن سعد ہیں، جنہوں نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے محمد بن عمرو بن عطا سے انہوں نے نعیم بن ربیعہ بن کعب سے روایت کی لیکن یہ وہم ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس کے راوی ربیعہ بن کعب ہیں ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زید التمیمی: ابن اسحاق نے انہیں تمیم الداری کے وفد میں شامل کیا ہے اور ابو موسیٰ نے مختصراً اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے اور جب تک وہ زندہ رہے تمیم الداری کو ان سے منسوب نہیں کیا گیا اور اگر یہ انتساب ان کی وفات کے بعد عمل میں آیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ درست ہو اور ہمارے علم میں نہ آیا ہو۔ جب بھی تمیمی کا لفظ استعمال کی جاتا ہے تو اس سے تمیم بن مرہ بن اَدّ مراد ہوتا ہے اور نعیم بن زید کا تعلق تمیم بن مرسے ہے جیسا کہ ہم نے حتات کے ترجمے میں بیان کیا ہے اور آگے چل کر نعیم بن یزید کے ترجمے میں بیان کریں گے۔ ۔۔۔
مزید
بن سلامہ: ایک روایت میں سلام آیا ہے ابو ہریرہ کی حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے اس حدیث کو عطاء بن ابی رباح نے ابو ہریرہ سے یوں بیان کیا کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، نیز ابو بکر، عبد اللہ بن مسعود معاذ بن جبل اور نعیم بن سلام بھی موجود تھے کہ اس اثنا میں ایک قاصد جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضروری کام کے لیے بھیجا تھا واپس آگیا حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا تیز رفتار قاصد جو سالماً غانماً واپس آگیا ہے کم ہی کسی نے دیکھا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر میں تمہیں اس سے بھی زیادہ تیز رو اور کامیاب تر آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں یعنی جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے اور طلوع آفتاب تک وہاں بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ ابن ابی فدیک نے یزید بن عیاض سے انہوں نے ابو عبید سے جو سلیمان عبد الملک۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ الخام۔ ان کا نسب نعیم بن عبد اللہ بن اَسِید بن عبد عوف بن عَبِیْد بن عُویَجٰ بن عدی بن کعب القرشی العدوی ہے ابو عمر نے بھی ان کا نسب یوں ہی بیان کیا ہے کلبی نے بھی اسی طرح لکھا ہے مگر صرف اتنی تبدیلی کی ہے: اسید بن عبد بن عوف انہیں نحام اس لیے کہتے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ جنت میں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں نعیم کی نخ نخ کی آواز سنی اور یوں ان کی آواز کافی دیر آتی رہی۔ نعیم قدیم الاسلام لوگوں میں سے تھے ایک روایت کے مطابق وہ گیارہویں مسلمان تھے اور ایک دوسری روایت کے رو سے انتالیسویں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پیشتر جناب نعیم نے اپنا اسلام چھپایا ہوا تھا اور چونکہ ان کا قبیلہ ان کا احترام کرتا تھا اور وہ اپنے قبیلے کی بیوہ عورتوں اور یتیمیوں پر کشادہ دلی سے خرچ کرتے تھے اس لیے انہوں نے انہیں ہجرت سے روکے رکھا، اور اجازت دے دی کہ جس۔۔۔
مزید
بن قعتب: محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے یہ وادی کے باشندے تھے انہوں نے باسنادہ حمران بن نعیم بن قعتب سے روایت کی کہ وہ(نعیم) اپنے اور اپنے قبیلے کے صدقات لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ ادا پسند آئی ان کے چہرے کو چھوا اور دعا فرمائی ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزاد تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے۔ مگر انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ یاد نہیں رہا تھا۔ ان کی والدہ ام الفضل بنتِ حارث تھیں۔ یہ صاحب حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں افریقہ میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی فوج کے کماندار عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ ۔۔۔
مزید
بن ہشام: ان کی کنیت ابو ذئب تھی۔ ان کا نسب ابن شعبہ بن عبد اللہ بن قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حبل بن عامر بن لوئی بن غالب جد محمد بن عبد الرحمان بن مغیرہ المعروف بابن ابی ذئب ہے۔ مدینے کے فقیہ تھے۔ فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ان سے ابنِ ابی ذئب نے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کا سلسلۂ نسب اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح ہم لکھ آئے ہیں بعض لوگوں نے ان کا نسب عبد اللہ بن ابی قیس لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
بریرہ کے خاوند تھے۔ جعفر المستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے محمد بن عجلان سے انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ بریرہ کی وجہ سے ہمیں تین سنتوں کا علم ہُوا۔ ۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بریرہ)کے بارے میں فرمایا تھا۔ کہ ولاء اس کی ہوگی جو کسی کو آزاد کرے گا۔ بریرہ کا خاوند غلام تھا، جن کا نام مقسم تھا۔ جب وہ آزاد کردی گئیں تو حضرت عائشہ نے ان (بریرہ) سے کہا۔ ۲۔ ’’کیا تجھے علم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا کہ آزادی کے بعد تُو اس وقت تک اپنے نفس (اختیار) کی مالک ہوگی۔ جب تک تو کسی سے بیا ہی نہ جائے ۔ میری خواہش یہی ہے، کہ تو اب اس قصّے کو جانے ہی دے۔‘‘ بریرہ نے جواب دیا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ۳۔ حضور نے فرمایا، صدقہ وہی بہتر ہوتا ہے جو مناسب جگہ پر صرف کیا جائے۔ اس حدیث میں بریرہ کے خ۔۔۔
مزید
الحارثی: حسن بن سفیان نے الوحدان میں ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو موسیٰ کو کتابتہً ابو علی نے انہیں ابو نعیم نے، اُنہیں حبیب بن حسن نے انہیں محمد بن یحییٰ نے، انہیں احمد بن یحییٰ بن محمد نے اُنہیں ابراہیم بن سعد نے اُنہیں محمد بن اسحاق نے انہیں محمد بن مسلمہ اور عبد اللہ بن ابی بکر نے اُنہیں مکنف الحارثی نے بتایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقعہ پر محیصہ بن مسعود کو ۳۰ وسق کھجور اور ۳۰ وسق جو عنایت فرمائے تھے ابو نعیم، ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید