بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرۃ قرشی الزہری: ان کی والدہ رفیقہ بنت ابی صیفی بن ہاشم بن مناف تھی: ان کی کنیت ابو صفوان یا ابو المسور یا ابو الاسود؟؟۔ اول الذّکر کنیت کو زیادہ شہرت حاصل تھی۔ وہ مسور بن مخرمہ کے والد تھے اور سعد بن ابی وقاص کے عمزاد۔ یہ ان لوگوں سے تھے، جو بعد از فتح مکّہ اسلام لائے تھےا ور مولفتہ القلوب میں سے تھے، لیکن بعد میں اسلام کی بہتر خدمت کی۔ عمر رسیدہ تھے اور ایام الناس اور بالخصوص قریش کے اہم واقعات انہیں ازبر تھے اور اسی طرح علم الانساب کے ماہر تھے۔ غزوۂ حنین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پچاس اونٹ دیے تھے۔ یہ صاحب ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے حضرت عمر کے دورِ خلافت میں حدود حرم کو علیحدہ کرنے کے نشان لگائے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ازہر بن عوف سعید بن یرب۔۔۔
مزید
الخیر بقول ابو عمران کا سلسلہ نسب ہوں ہے نبیشہ بن عمرو بن عوف بن عبد اللہ بن عتاب بن حارث بن مصین بن نالغہ بن لحیان بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضرایک روایت کے رو سے سلمہ الخیر بن عبد اللہ ابو طریف آیا ہے بصرہ میں سکونت کرلی تھی ابن ما کولا کے خیال میں ان کا نسب یوں تھا نبیشۃ الخیر بن عمرہ بن عوف بن سلمہ بن حنش بن طیار بن دیال بن عمیر بن عادیہ بن صعصعہ بن واثلہ بن لحیان بن ہذیل، ایک اور روایت کے مطابق یوں ہے نبیشۃ بن عبد اللہ بن شیبان بن عقان بن حارث بن جون بن حارث بن عبد العزی بن وائل بن لحیان بن ہذیل۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الخیر کے لقب سے اس لیے نوازا کہ وہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند جنگی قیدیوں کو وہاں دیکھا تو عرض کیا، یا رسول اللہ! یا تو فدیہ لے کر انہیں آزاد فرما دیجیے اور یا احسان کرکے چھوڑ دیجیے فرمایا ت۔۔۔
مزید
الانصاری ابو البرکات حسن بن محمد الرمشقی نے ابو العشائر محمد بن خلیل بن فارس القیسی سے انہوں نے ابو القاسم علی بن محمد بن علی بن ابو العلاء سے انہوں نے ابو محمد عبد الرحمان بن عثمان بن ابو نضر سے انہوں نے ابو اسحاق ابراہیم بن احمد بن احمد بن محمد ابی ثابت سے روایت کی کہ ہم سے محمد بن حماد بن عبد الرزاق سے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے صفوان بن علیم سے انہوں نے نضلہ سے سنا کہ انہوں نے ایک کنواری لڑکی سے جو پردے میں تھی شادی کی اور جب اس سے جماع کی تو وہ حاملہ نکلی انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا چونکہ تم نے اس سے جماع کیا ہے اس لیے مہر تو ادا کرنا ہوگا ہاں اس کا لڑکا اگر اس نے جنا تو تمہارا غلام ہوگا اور عورت کو درے مارے جائیں گے۔ عبد الرزاق نے بھی باسنادہ اس کا ذکر کیا ہے اور نام نضرہ بتایا ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں ابو ع۔۔۔
مزید
بن خدیج الجنمی سفیان بن یمینہ نے ابو الزعراء سے انہوں نے ابو الاعوض سے انہوں نے اپنے والد سے(مرہ نے اس میں یہ ترمیم کی ہے کہ ابو الاعوص نے اپنے دادا سے) روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اوپر اٹھائی اور پھر سر جھکا لیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا آیا تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے انہوں نے گزارش کی یا رسول اللہ! خدا نے دونوں نعمتوں سے مجھے نواز رکھا ہے۔ پھر انہوں نے حدیث بیان کی اور ابو الاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ تھا اور حدیث کی زیادہ تر شہرت ان کے والد کے نام سے ہے ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن طریف بن نہصل الجرمازی و مازنی انہوں نے اعشی مازنی کا وہ واقعہ بیان کی کہ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی اور اس نے دربارِ رسالت میں آکر گزارش کی تھی۔ یا سید الناس و دیان العرب الیک اشکو ذربۃ من الذرب ترجمہ: اے لوگوں کے اور ادیانِ عرب کے سردار! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی ایک بپتا بیان کرنے حاضر ہوا ہوں۔ ہم اس واقعہ کو اعشی کے ترجمے میں بیان کرآئے ہیں اور وہاں ہم نے اس ک۔۔۔
مزید
بن عبید بن حارث بن حبال بن ربیعہ بن دعبل بن انس بن جذیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم بن افصی الاسلمی ایک روایت کے مطابق نضلہ بن عبد اللہ بن حارث ہے ایک اور روایت کے رو سے عبد اللہ بن نضلہ بھی آیا ہے ہم اسے کنیتوں کے عنوان کے تحت زیادہ تفصیل سے بیان کریں گے۔ یہ صاحب قدیم الاسلام تھے اور غزوات خیبر فتح مکہ اور حنین میں شامل تھے بصرے میں سکونت اختیار کرلی تھی ان کا بیٹا وہیں مقیم رہا خراسان کی جنگوں میں شریک رہے اور امیر معاویہ کے آخری دور میں اور یزید کے دور میں وہیں وفات پائی ان سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر انہوں نے ابن خطل کو اس وقت قتل کیا جب وہ کعبے کے غلاف کے پیچھے چھپا ہوا تھا ثعلبہ بن ابی برزہ سے مروی ہے کہ ان کے والد صفین اور نہرو ان کی جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ تھے اور انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور ان سے حسن البصری ابو العالیہ ر۔۔۔
مزید
بن عمرو الغفاری یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صفراء میں کچھ زمین بطور جاگیر عطا کی تھی انہوں نے صوبۂ حجاز میں عرج کے نواح میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ابو یاسر بن ابی حبہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے علی بن عبد اللہ سے انہوں نے محمد بن معن بن محمد بن نضلہ بن عمر و الغفاری سے انہوں نے اپنے والد معن بن نضلہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک انتڑی کی مقدار میں پیتا ہے اور کافر مقابلۃً سات حصے زیادہ اور اس مضمون کی احادیث کئی صحابہ سے مروی ہیں اور ان سے ان کے بیٹے علمقمہ نے بھی روایت کی ہے تینوں نے اسے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی القرشی العبدری ایک روایت کے رو سے مہاجر ہیں اور دوسری روایت کے مطابق فتح مکہ کے دن ایمان لائے کنیت ابو الحارث تھی اور ان کے والد حارث رہین کے عرف سے مشہور تھے اور محمد بن مرتفع ان کی نسل سے تھے۔ نضیر رضی اللہ عنہ اللہ کے شکر گزار بندے تھے کہ خدا نے انہیں نعمتِ اسلام سے نوازا اور اپنے بھائی نضر اور آباؤ اجداد کے برخلاف دین اسلام پر فوت ہوئے اور حنین کے موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سو اونٹ عطا فرمائے تھے جب نبو دیل کے ایک آدمی نے آکر انہیں خوشخبری دی اور کہا کہ مجھے بھی ان اونٹوں سے کچھ دے دینا تو انہوں نے اس بنا پر لینے سے انکار کردیا کہ گویا انہیں اونٹ قبولِ اسلام کے لیے بطورِ رشوت دیئے جا رہے ہیں کہنے لگے میں اپنے اسلام کو اس لالچ سے کیوں ملوث کروں پھر خیال آیا کہ جب بغیر از طلب وسوال۔۔۔
مزید
بن نضر بن حارث بن علقمہ بن کلدہ ان کے والد کو بدر کے دن قتل کیا گیا تھا ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ جعفر نے ان کو مہاجرین حبشہ کی اولاد میں شمار کیا ہے اور انہوں نے یہ روایت ابن اسحاق سے بیان کی ہے ابو موسیٰ نے اسے مختصراً بیان کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ان کے سلسلۂ نسب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب نضیر ابن نضر کے بیٹے ہیں جسے بدر کے دن قتل کیا گیا تھا اس لیے یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ وہ مہاجرین حبشہ کی اولاد ہوں۔ ہاں اگر جعفر یہ کہتے کہ نضیر نے قبولِ اسلام کے بعد حبشہ کو ہجرت کی تھی تو یہ بات قابلِ تسلیم ہوسکتی تھی اسی طرح جعفر کا یہ قول بھی ناقابلِ یقین ہے کہ ابن اسحاق نے انہیں(جناب نضیر) کو ابنائے مہاجرین حبشہ سے شمار کیا ہے حالانکہ یہ روایت بھی اسی ابن اسحاق کی ہے کہ ان کا والد بدر کے دن انتقاماً قتل کیا گیا تھا۔ چنانچہ وہ مہاجرین حبشہ میں کیسے شمار ہوسکتا۔۔۔
مزید
بن اوس: تمیم الداری کے بھائی تھے ان کا ذکر اس حدیث میں جو بعض متاخرین نے بیان کی ہے پایا جاتا ہے جناب نعیم اپنے بھائی تمیم اور عمزاد ابو ہند کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جو جاگیر انہوں نے مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی ایک روایت کے مطابق ان کے بھائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور ان کا شمار صحابہ میں نہیں ہے تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید