بن زہیر بن ابی امیّہ بن مغیرہ المخزومی: وہ ام سلمہ کے بھتیجے ہیں۔ جنگ یمامہ میں مارے گئے تھے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ مگر صحبت نہ میسر ہوسکی۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن خنیس بن سلامہ بن سعد بن مالک بن دودان بن اسد بن خزیمہ جعفر کا قول ہے کہ یہ ابو کعب اسدی کا نام ہے۔ ابنِ حبیب نے اپنی کتاب میں انہیں ان لوگوں میں شامل کیا ہے۔ جن کی کنیتیں نام پر غالب آگئیں۔ ابو موسیٰ نے مختصر ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن زید بن حارث: ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اپنی کتابوں میں انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ لیکن ابن اثیر انہیں نہیں جانتے۔۔۔۔
مزید
بن مالک بن اُمیّہ بن عبد العزی بن ملاں بن عمل بن کعب بن حارث بن بہثہ بن سلیم السلمی: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فوت پائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کا علم ہوا تو ان کے لیے دُعا فرمائی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
صحابی ہیں، جن سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاپوش مبارک میں دو تسمے تھے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار خزرجی و بخاری انصاری: غزوۂ بدر میں موجود تھے، لیکن جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے لیے کوچ فرمانا تھا۔ اس صبح کو فوت ہوگئے۔ حضور نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا، جو فی الحقیقت شریکِ جنگ ہوئے تھے۔ یہ لاولد تھے۔ ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسی نے ان کا نام ح اور ز سے لکھا ہے۔ دارِ قطنی کا خیال بھی یہی ہے۔ ابن ماکو لا نے ’’محرر‘‘ لکھا ہے۔ اور ان کو بنو عمرو بن عوف کے خاندان سے شمار کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ ابو جعفر نے یونس سے، اس نے ابنِ اسحاق سے، ان لوگوں کے نام کے سلسلے میں جو غزوہ بدر میں موجود تھے انصار سے بنو عدی بن نجار نے محرز بن عامر بن مالک کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سلمہ نے ابن اسحاق اور عبد الملک بن ہشام سے، اس نے بکائی سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی: ان کی کنیت ابو نضلہ تھی اور اخرم الاسدی کے عرف سے جانے جاتے۔ بنو عبد الشمس کے حلیف تھے اور بنو عبد الاشہل انہیں اپنا حلیف بتاتے تھے۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ مہاجرین ہجرت کر کے مدینہ آ رہے تھے اور بنو دو دان بھی اسلام لا چکے تھے چنانچہ اس قبیلہ کے تمام مرد اور عورتیں ہجرت کر کے رینےمیں آگئے اور انہی میں محرز بن نضلہ بھی۔ اُنہوں نے غزوۂ بدر، اُحد اور خندق میں شرکت کی اور غزوۂ ذی قرد میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اُنہیں مسعدہ بن حکم نے قتل کیا۔ اس وقت ان کی عمر ۳۷ یا ۳۸ برس تھی۔ موسی بن ؟؟؟ نے ان کا نام محرز بن وہب لکھا ہے اور ان کا ذکر شرکائے بدر میں کیا ہے۔ ان کی تخریج تینوں نے کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ غیر منسوب ہیں۔ ابراہیم بن محمد بن ثاقب جو بنو عبد الدار کا بھائی ہے۔ اس نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی ہے کہ ایک رات کو محرز میرے پاس آیا۔ ہم نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔ محرز پوچھنے لگا۔ کیا اس وقت کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے۔ مَیں نے پوچھا تمہیں اس وقت کسی اور کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔ اس نے کہا۔ کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زندگی بھر معمول رہا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی طالب بن عبد المطلب قرشی ہاشمی: آپ جنابِ فاطمہ کے صاحبزادے تھے ہمیں ابو احمد الوہاب بن ابی منصور الامین نے ابو الفضل محمد بن ناصر سے، اس نے ابو طاہر بن ابی الصقر الانباری سے، اس نے ابو البرکات بن لطیف الفراء سے۔ اس نے حسن بن رشیق سے۔ اُس نے ابوبشر الدو لابی سے، اُس نے محمد بن عوف الطائی سے، اُس نے ابو نعیم اور عبد اللہ بن موسیٰ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ ہم سے اسرائیل نے، اس سے ابو اسحاق نے، اس سے ہانی بن ہانی نے، اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب امام حسن پیدا ہُوئے تو مَیں نے ان کا نام حرب رکھا۔ حضور تشریف لائے۔ فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ۔ پوچھا کیا نام رکھا مَیں نے عرض کیا، حرب۔ فرمایا: نہیں یہ حسن ہے۔ یہی صورت جناب حسین کی پیدائش کے وقت پیش آئی۔ مَیں نے نام حرب بتایا۔ تو آپ نے حسین تجویز کیا۔ تیسری دفعہ محسن پیدا ہوئے تو مَیں نے حرب ہی نام ر۔۔۔
مزید
بن ابی طالب بن عبد المطلب قرشی ہاشمی: آپ جنابِ فاطمہ کے صاحبزادے تھے ہمیں ابو احمد الوہاب بن ابی منصور الامین نے ابو الفضل محمد بن ناصر سے، اس نے ابو طاہر بن ابی الصقر الانباری سے، اس نے ابو البرکات بن لطیف الفراء سے۔ اس نے حسن بن رشیق سے۔ اُس نے ابوبشر الدو لابی سے، اُس نے محمد بن عوف الطائی سے، اُس نے ابو نعیم اور عبد اللہ بن موسیٰ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ ہم سے اسرائیل نے، اس سے ابو اسحاق نے، اس سے ہانی بن ہانی نے، اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب امام حسن پیدا ہُوئے تو مَیں نے ان کا نام حرب رکھا۔ حضور تشریف لائے۔ فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ۔ پوچھا کیا نام رکھا مَیں نے عرض کیا، حرب۔ فرمایا: نہیں یہ حسن ہے۔ یہی صورت جناب حسین کی پیدائش کے وقت پیش آئی۔ مَیں نے نام حرب بتایا۔ تو آپ نے حسین تجویز کیا۔ تیسری دفعہ محسن پیدا ہوئے تو مَیں نے حرب ہی نام ر۔۔۔
مزید