بن عمر المزنی۔ ان سے ہلال بن عامر المزنی نے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر پانچ برس کے تھے یا کچھ زیادہ میرے والد مجھے ساتھ لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر شہبا پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ساتھ ساتھ وضاحت کررہے تھے بیس سواریوں کے درمیان سے نکلتا بچتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کے پاس پہنچ گیا۔ دونوں ہاتھ آپ کے گھٹنے پر رکھے پھر آپ کی پنڈلی کو چھوتا آپ کے پاؤں تک جا پہنچا اس کے بعد میرا یہ ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور تلوے کے درمیان جا گھسا چنانچہ میں اب بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا ہاتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے تلووں کو چھو رہا ہے ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نیز حافظ ابو مسعود نے میرے شیخ ابو عبد اللہ احمد بن علی الاسواری سے بیان کیا ۔۔۔
مزید
بن عمر و بن معدی کرب ان کی حدیث محمد بن اسحاق نے اور اسحاق بن ابراہیم بن ابی بن نافع بن معدی کرب نے اپنے دادا ابی سے انہوں نے اپنے والد نافع بن معدی کرب سے روایت کی کہ میں نے اور ام المومنین عائشہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ سے وازا سألک عبادی عنی فانی قریب احبیب دعوۃ الداع اذا دعان کا مطلب دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دربار خدا وندی میں گزارش کی اے خدا عائشہ کے سوال کا کیا جواب دوں اس پر جبرائیل نازل ہوئے اور کہا کہ جب ایک آدمی صدق دل اور خلوص نیّت سے خدا کو پکارتا ہے تو باری تعالیٰ جواب میں لبیک کہتا ہے اور اس کی حاجت پوری کردیتا ہے۔ [۱۔ بقرہ: ۱۸۶] ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، ابن اسحاق نے ان سے صرف یہی ایک حدیث نقل کی ہے مگر اور لوگوں نے اسحاق بن ابراہیم سے کئی احادیث نقل کی ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن غیلان بن سلمہ الثقفی خالد بن ولید کے ساتھ معرکہ جندل میں شامل تھے وہاں شہادت پائی تو ان کے والد نے مرثیہ کہا اور شدید رنج و غم کا اظہار کیا: ما بال عینی لا تغمض ساعۃً الا اِعتر تنی عبرۃ تغشانی ترجمہ: میری آنکھوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایک دم بھی بند نہیں ہوتیں مگر یہ کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ جاتی ہے اسی طرح یہ اشعار بھی انہی جذبات کے حامل ہیں۔ یا نافع من للفوارس احجمت عن شدۃ مذکورۃ وطعان ترجمہ: اے نافع شاہ سواروں میں کون ایسا تھا جس نے اس شدت سے دشمن پر نیزے سے حملہ کیا ہو۔ لواستطیع جعلت منی مافعا بین اللہاۃ وبین عقد لسالی ترجمہ: اے نافع اگر ممکن ہوتا تو میں تجھے اپنے منہ اور زبان کے درمیان چھپالیتا، ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن کیسان ان کے بیٹے کا نام ایوب تھا۔ دمشق میں سکونت اختیار کرلی تھی ان سے ان کے بیٹے ایوب نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی ہی میری امت شراب نوشی میں پڑجائے گی اور وہ اس کا نام بدل دیں گے اور امرائے قوم اس باب میں ان کے امدادی ہوں گے جناب نافع سے ان کے بیٹے نے ایک اور حدیث بھی جس کا تعلق نزولِ عیسی سے ہے روایت کی ہے ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن کلدہ بن علقمہ القرشی ان کا تعلق بنو عبد الدار سے تھا اور مجازی شمار ہوتے تھے غزوۂ حنین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ نے ایک سو اونٹ مالِ غنیمت سے عطا کیے تھے ان کا شمار موِلفۃ القلوب میں تھا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے اور یہ روایت ابن اسحاق سے بیان کی ہے ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جاب نضر کے بارے میں میری یہ روایت کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور وہ غزوۂ حنین میں شریک تھے ایسی کتابوں سے لی گئی ہے جو بالکل درست اور صحیح ہیں لیکن ابن مندہ کی کتاب ان تین کتابوں پر مبنی ہے جن کا مدار سماع پر ہے اور جن میں تصحیف کی گئی ان میں سے ایک نسخہ اصفہانی ہے جو مصنف کے عہد سے اب تک چلا آرہا ہے ان دونوں نے جناب نضر کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے جن کا نام نضر تھا۔ اور پھر ان کا نام نضر بن سلمہ متعین کیا ہے جو غلط ہے ۔۔۔
مزید
بن سفیان ہذلی مدنی تھے بقول ابن شاہین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عین حیات میں پیدا ہوئے ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن سلمہ ہذلی انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو ان مشاہدات کا علم ہو جائے جو عشا کے خاتمے اور ظہورِ صبح کے درمیان وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تو وہ انہیں دیکھنے کے لیے سوار ہوکر آئیں۔ ابو عبد اللہ بن قراط نے ان سے روایت کی ہے ابو مندہ ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ماعز انہوں نے جناب ابو ذر کو نماز اشراق پڑھتے دیکھا حسین العلم نے ان کی حدیث عبد اللہ بن بریدہ سے روایت کی ابو مندہ اور ابو نعیم نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن جناب التجیبی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن ان سے کوئی روایت مذکور نہیں ابن ماکولا نے ان کا ذکر بروایت حضرمی کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عبد الرحمٰن ازدی، بصری: داؤدبن ابو ہند نے ان سے روایت کی ان کو صحابہ میں شمار کیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں ابن مندہ اور ابو نعیم نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید