پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

سیّدنا النعمان رضی اللہ عنہ

بروایتے یہ وہی ذی رعین ہیں جنہیں ملوکِ حمیر نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔ ابو جعفر بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ جب حضور اکرم تبوک میں تشریف لائے تو حارث بن عبدِ کلال نعیم بن عبد کلال نعمان ذی رعین ہمدان اور معافر ملوک حمیر کا خط اور ان کے قبولِ اسلام کی اطلاع لے کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے نیز انہوں نے زرعہ ذایزن بن مالک بن مرہ ہاوی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قبولِ اسلام اور ترک شرک کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نیز وہ کہتے ہیں کہ ابن اسحاق سے بھی ایسا ہی مروی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں صحیح بات یہ ہے کہ نعمان ذی رعین حارث اور نعیما ان ملوک حمیر کے نام ہیں جنہوں نے اپنے قاصد اور مکتوب دربارِ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن مقرن: ایک روایت کے رو سے ان کا سلسلۂ نسب حسب ذیل ہے: نعمان بن عمرو بن مقرن بن عائد بن میجا بن ہجیز بن حبشیہ بن کعب بن عبد بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن اوبن طابخہ مزتی اور عثمان کی اولاد مزینہ شمار ہوتی تھی کیونکہ وہ اپنی ماں کی طرف منسوب تھے ان کی کنیت ابو عمرو یا ابو حکیم تھی اور فتح مکّہ کے موقعہ پر بنو مزینہ کا علم ان کے پاس تھا مصعب سے مروی ہے کہ نعمان بن مقرن نے اپنے سات بھائیوں کی معیت میں ہجرت کی تھی۔ ان سے مروی ہے کہ بنو مزینہ کا وفد جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو وہ چار سول سواروں پر مشتمل تھا اولاً انہوں نے بصرے میں سکونت اختیار کی پھر کوفے میں منتقل ہوگئے اور بعد میں مدینے آگئے اور وہاں قادسیہ کی فتح ان کے طفیل حاصل ہوئی۔ جب نہاوند پر حملہ ہونے کے لیے سوار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے تو خلیفہ ن۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن مسعود بن عامر بن انیف بن ثعلبہ بن قنقذ بن حلاوہ بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان، غطفانی اشجعی۔ ان کی کنیت ابو سلمہ تھی غزوہ خندق کے موقعہ پر ایمان لائے یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے بنو قریظہ غطفان اور قریش میں بدگمانی پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کا مخالف بنادیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر آندھی، سردی اور فرشتوں کے لشکر کو مسلّط فرمادیا اور اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کفار کے شر سے بچ گئے۔ جب جناب نعیم ایمان لائے تو انہوں نے دربار رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تگو میں کفار کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے کوئی داؤ پیچ کھیلوں فرمایا اجازت ہے کیونکہ الحرب حذعۃ۔ ان کے بیٹے سلمہ نے ان سے وہ واقعہ نقل کیا ہے جسے علامہ ابن اثیر نے با تفصیل الکامل فی التاریخ میں بیان کیا ہے۔ ابو یاسر بن ابی حبہ نے با سنادہ عبد اللہ بن احمد سے روایت۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن مقرن: نعمان بن مقرن مزنی کے بھائی تھے جب نعمان جنگ نہاوند میں شہید ہوگئے تو جناب نعیم نے ان کی جگہ لے لی اور علم اٹھا کر جنابِ حزیفہ کو دے دیا چنانچہ ایران میں جنابِ نعیم کے ہاتھوں کئی فتوحات ہوئیں دونوں بھائی اپنےقبیلے کے اثراف میں اور نیز کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی دونوں بھائوں کے فضل و کمال کے قائل تھے ابو عمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن ہمار: ایک روایت میں ہبار، ایک میں ہدار اور ایک میں حمار اور خمار مذکور ہے وہ غطفانی تھے ابو سعد سمعانی کی روایت کے رو سے وہ غطان بن سعد بن ایاس بن حرام بن جذام سے تھے جونبو جذام کا ذیلی قبیلہ ہے اور وہ اہل شام میں شمار ہوتے تھے۔ ابو الفضل بن ابو الحسن فقیہ نے باسنادہ ابو لعیلی احمد بن علی سے انہوں نے داؤد بن رشید سے، انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے یحیٰ بن سعد سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے کثیر بن مرہ سے انہوں نے نعیم بن ہمار سے روایت کی کہ ایک آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! شہدا میں افضل کون ہے؟ فرمایا وہ شخص جو صف میں کھڑا لڑتا رہے اور جعبگ*** سے منہ نہ موڑے، تا آنکہ قتل ہوجائے ایسے لوگ بہشت کے محلات میں سکونت پذیر ہوں گے اور تیرا رب انہیں دیکھ کر خوشی سے ہنسے گا اور جہاں یہ صورت حال ہو وہاں حساب ک۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن ہزال اسلمی: بنو مالک بن افصی سے تھے ان کے بھائی کا نام اسلم تھا اور انہیں اسلمی اور مالکی کہتے تھے مدینے میں بس گئے تھے۔ ابو احمد عبد الوہاب بن علی ابن سکینہ کو ابو غالب محمد بن حسن الماوری مناولہ نے باسنادہ ابو داؤد سے، انہوں نے محمد بن سلیمان انباری سے انہوں نے وکیع سے انہوں نے ہشام بن سعد سے انہوں نے نعیم بن ہزال سے انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک تییم لڑکا جس کا نام ماعز تھا، میرے والد کے زیر تربیت تھا اس نے قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ زنا کیا میرے والد نے اسے کہا آؤ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، شاید وہ تمہاری مغفرت کی کوئی صورت پیدا کرسکیں میرے والد کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے ماعز نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں مجھ پر احکام الٰہی کا۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیر رضی اللہ عنہ

بن جبر: ایک روایت میں نفیر بن مغلس بن نفیر اور ایک دوسری روایت میں نفیر بن مالک بن عامر الحضری آیا ہے ان کی کنیت ابو جبیر تھی، ایک روایت کے مطابق ابو خمیر بھی مذکور ہے ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ معاویہ بن صالح نے عبد الرحمان بن جبرین نفیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر دجال کا خروج میرے زمانے میں ہوا تو میں تمہارا کفیل ہوں گا ورنہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمانوں کو اس کے شر سے بچائے گا۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی لیکن عبد اللہ بن عبد الرحمان بن جابر نے اپنے والد سے انہوں نے یحییٰ بن جبیر بن نفیر سے انہوں نے نواس بن سمعا ن سے طویل تر حدیث بیان کی ہے جبیر بن نفیر نے زمانۂ جاہلیت بھی پایا لیکن انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیر رضی اللہ عنہ

بن مجیب الشمالی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے اسحاق بن ابراہیم و مشقی نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے سعید بن یوسف سے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلام سے انہوں نے حجاج بن عبد اللہ الشمالی سے(انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں دیکھا تھا انہوں نے نفیر بن مجیب سے ان کی حدیث روایت کی۔ ان سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں ستر ہزار وادیاں ہیں اور ہر وادی میں ستر ہزار گھاٹیاں ہیں اور ہر گھاٹی میں ستر ہزار مکان ہیں اور ہر مکان میں ستر ہزار بچھو ہیں ہرکافر اور منافق کو ان گھروں میں بند کیا جائے گا یہ ابن مندہ کا قول ہے ابو نعیم کہتے ہیں ابن مندہ سے اس نام کی روایت میں غلطی ہوئی ہے یہ روایت سفیان بن مجیب کی ہے انہوں نے با سنادہ ہیشم بن خارجہ سے انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہ۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیع رضی اللہ عنہ

ابو بکرہ: ایک روایت میں ان کا نام مسروح آیا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں نیز ایک روایت میں ان کا نام نفیع بن مسروح اور ایک روایت میں نفیع بن حارث بن کلدہ ہے جو لوگ انہیں مسروح سے منسوب کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ حارث بن کلدہ کے غلاموں سے تھے اور ان کی والدہ کا نام سمیہ تھا جو حارث کی لونڈی تھی اور وہ زیاد کے اخیائی بھائی تھے۔ شعبی سے مذکور ہے کہ لوگوں نے انہیں حارث کی طرف منسوب کرنا چاہا تو انہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے مرتے وقت اپنے بیٹے سے کہا کہ میں مسروح حبشی ہوں امام احمد بن حنبل نے انہیں ابو بکرہ نفیع بن حارث لکھا ہے اور یہی اکثر لوگوں کا قول ہے۔ امام احمد بن حنبل لکھتے ہیں کہ ہوذہ بن خلیفہ نے مجھے ان کا نسب بتایا، جب ابو بکرہ تک پہنچے تو میں نے ان کے والد کا نام پوچھا تو انہوں نے کہا چھوڑو یہیں تک رہنے دو یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو محاصرہ طائف کے موقعہ پر اپنے۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیع رضی اللہ عنہ

بن المعلی بن لوذان: ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے اسلام لاچکے تھے اس دوران میں بنو مزینہ کے ایک آدمی سے جو بنو اوس کا حلیف تھا۔ ان کا آمنا سامنا ہوگیا، اور چونکہ اوس اور خزرح میں باہم عناد تھا اس لیے اس آدمی نے انہیں قتل کردیا اس بنا پر جناب نفیع انصار میں وہ پہلے آدی ہیں جو قتل ہوئے ان کی کوئی اولاد نہ تھی ابن الکلبی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید