بن بازیہ ابن منیع نے ان کا نام نعمان بن راذیہ قبیلۂ ازدکا عریف اور ان کا علم بردار لکھا ہے بقول بخاری وہ حمص میں سکونت پذیر ہوگئے تھے صالح بن شریح نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے عریف الاذد(جن کا نام نعمان تھا) سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! ہم زمانہ جاہلیت میں راتوں کے پچھلے پہر سفر کرتے اب ہم بفضلہ مسلمان ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیے فرمایا اسلام میں بھی یہ عمل پسندیدہ ہے اس لیے تمہیں چاہیے کہ کسی کو بھی ایسے سفر سے منع نہ کرنا۔ ابن ابی حاتم انہیں صحابی بتاتے ہیں تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے ہاں البتہ ابو عمران کے والد کا نام بازیہ بیان کرتے ہیں اور دوسرے دو ان کے والد کا نام راذیہ بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
بن حارثہ انصاری عقیل رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے مروی ہے جب مشرکین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو سخت پریشان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ضرور مدد کرے گا۔ ایک ایسی قوم کے ذریعے جو قریش کے علی الرغم انہیں ذلیل و رسوا کرے گی جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی جمرہ عقبہ کے پاس چھ آمیوں سے ملے تو آپ نے انہیں حمایت دین الٰہی کی دعوت دی تو جناب نعمان نے کہا یا رسول اللہ میں دین اسلام کی حمایت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتا ہوں اور میں اس باب میں کسی اپنے یا پرائے کا لحاظ نہیں کروں گا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں گے تو ہم منی میں موجود ان لوگوں پر تلواریں لے کر ٹوٹ پڑیں گے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ابھی اس کی اجازت نہیں ملی ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ۔۔۔
مزید
بن ابی خزمہ بن نعمان بن امیہ بن البرک اور ان کا نام امرو القیس بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف انصاری اوسی تھا پھر وہ نبو عمرو بن عوف کے ذیلی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے موسی بن عقبہ نے ان کا ان لوگوں میں ذکر کیا ہے جو غزوۂ بدر میں موجود تھے ابن اسحاق وغیرہ کا خیال ہے کہ وہ بدر اور احد ہر دو غزوات میں شریک تھے تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زارع بنوا زو کے نقیب تھے ابو عمر کہتے ہیں میں نے ان سے اس حدیث کے سوا اور کچھ نہیں سنا(اِنّا کنا نعتاف فی الجاھلیتہ) ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس حدیث کو نعمان بن بازیہ سے منسوب کیا ہے ابو عمر نے نعمان بن بازیہ کا ذکر بھی کیا ہے لیکن اس حدیث کا انتساب ان سے نہیں کیا ابو عمر کے مطابق یہ دو آدمی ہیں لیکن ابن مندہ اور ابو نعیم دونوں کو ایک شمار کرتے ہیں۔ واللہ اعلم ۔۔۔
مزید
بن زید بن اکال ہم ان کا نسب ان کے بھائی سعد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ہشام بن کلبی سے مروی ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد جناب نعمان بہ غرضِ حج نکلے اس دوران میں ابو سفیان نے انہیں روک لیا اسے کہا گیا کہ فدیہ لے کر انہیں رہا کردو اس نے کہا میں انہیں اس وقت تک رہا کروں گا جب تک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے بیٹے عمرو کع، جسے غزوۂ بدر میں جنگی قیدی بنالیا تھا رہا نہیں کرتے۔ اس موقعہ پر ابو سفیان نے کہا۔ ارہط ابن اکال اجیبوا دعائہ تعاقد تم لا تسلموا السیّد الکہلا ۔۔۔
مزید
بن عدی بن نضلہ ایک روایت کے مطابق نضلہ بن عبد العزی بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب القرشی العدوی ہے باپ بیٹا دونوں ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے جہاں جناب عدی فوت ہوگئے اور نعمان کو ان کی وراثت منتقل ہوئی اسلام میں جناب نعمان پہلے وارث تھے۔ حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں انہیں میسان کا عامل مقرر کیا ان کی بیوی نے خاوند کا ساتھ دینا چاہا لیکن اجازت نہ مل سکی چنانچہ وہاں سے انہوں نے ذیل کے اشعار لکھ کر اپنی بیوی کو بھیجے۔ فمن مبلغ الحسناء ان حلیلہا بمیسان یسقی فی زجاج و حنتم ۔۔۔
مزید
بن عصر بن ربیع بن حارث بن اویم بن امیہ بن خدرہ بن کاہل بن رشد(مرادا فرک بن ہرم بن ہرم بن ہنی بن بلی ہے) ایک روایت میں ان کا نسب یوں مذکور ہے نعمان بن عصر بن عبید بن وائلہ بن حارثہ بن ضبیعہ بن حزام بن جعل بن عمرو بن جشم بن دوم ہن ذبیان بن ہمیم بن ذہل بن ہنی بن بلی بن عمرو بن حاف بن قضاعہ بلوی جو انصار کے حلیف تھے بعد میں بنو معاویہ بن مالک بن عوف کے حلیف ہوگئے) جناب نعمان بدر کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے انہوں نے جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ عبد اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر از بنو معاویہ بن مالک بن عوف النعمان البلوی کا جوان کا حلیف تھا ذکر کیا ہے۔ ابن اسحاق، موسیٰ بن عقبہ، ابو معشر اور واقدی نے ان کے والد کا نام عَصَر بہ کَسرۂَ اول و سکون ثانی بیان کیا ہے ہشام بن کلبی۔۔۔
مزید
بن غصن بن حارث البلوی انصار کے حلیف تھے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے با سنادہ ابو نعیم سے انہوں نے اب شہاب سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر جن کا تعلق انصار کے ادس قبیلے سے تھا اور جونبو معاویہ بن مالک النعمان بن غصن سے تھا اور جونبوبلی سے ان کے حلیف تھے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ان بیانات کا تعلق ابو نعیم اور ابو موسیٰ سے ہے لیکن جناب عصر کو جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں انہوں نے تصحیف کرکے غصن بنادیا ہے اور ہم اپنی رائے نعمان بن عصر کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور اسی طرح ابن مندہ پر اعتراض بھی مبنی بروہم ہے کیونکہ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ ان کا نسب نہیں بیانس کیا ہاں ابن مندہ نے انہیں بلوی لکھا ہے اور چونکہ ابن مندہ نے ان کا نسب نہیں بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انہیں علیٰحدہ آدمی تصوّر کرتے ہیں اور اگرچہ ہم نے ۔۔۔
مزید
بن ابی فاطمہ ایک روایت میں ابو فطیمہ انصاری مذکور ہے ابو سلمہ اور محمود بن عمرو الانصاری نے نعمان بن ابی فاطمہ سے روایت کی کہ قربانی کے لیے انہوں نے ایک مینڈھا خریدا جس کی بڑی بڑی آنکھیں اور بڑے بڑے سینگ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا یہ مینڈھا اس مینڈھے سے ملتا جلتا ہے جو ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا تھا ابن عضراء نے اسی طرح کا ایک مینڈھا خرید کر حضور کو ہدیۃً پیش کیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح فرمایا ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قوقل اور ایک روایت میں نعمان بن ثعلبہ ہے اور بقولِ ابو عمر ثعلبہ کو قوقل کہتے تھے بقول موسیٰ بن عقبہ وہ غزوۂ بدر میں موجود تھے ابن کلبی نے ا ن کا نسب بیان کیا ہے نعمان الاعرج بن مالک بن ثعلبہ بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن قوقل اور ان کا نام غنم بن عوف بن عمرو بن عوف تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر از بنو اصرام بن فہر بن غنم النعمان بن مالک بن ثعلبہ جنہیں قوقل کہتے تھے، روایت کی یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے غزوۂ احد میں کہا تھا میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ آج سورج غروب ہونے سے پہلے لنگڑاتا لڑکھڑاتا جنت میں پہنچ جاؤں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(ان کی شہادت کے بعد) سنا تو فرمایا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے ایک خواہش کی جو اس نے پوری کردی ہے میں نے اسے بہشت میں گھومتے دیکھا ہے اور وہ بالکل سیدھا چل رہا تھا۔ ابن ابی حاتم نے اپنے ۔۔۔
مزید