ابن قانع نے ان کا ذکر کیا ہے، انہوں نے باسنادہ ولید بن مسلم سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عمرو بن یعلی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا تم نے اس کی زکات ادا کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا اس میں زکات ہے۔ فرمایا، جلتا انگارہ۔ ابن الدباغ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الجہنی: ذوالغرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے کوفے میں حدیث بیان کی ان سے عبد الرحمٰن بن ابی لیلی نے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دریافت کیا، کہ کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے کلی کرنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا، ہاں! اس نے پھر دریافت کیا۔ کیا ان کی قیام گاہوں میں نماز جائز ہے۔ فرمایا نہیں، اس نے پھر گزارش کی، کیا بکری کے گوشت سے کلی کرنا چاہیے، فرمایا نہیں، کیا ان کے باڑے میں نماز جائز ہے۔ فرمایا، ہاں تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن طخفۃ الغفاری شامی: ان سے ابن لہیعہ نے، ان سے عبد الرحمان بن جبیر بن نفیر نے ان سے یعیش الغفاری نے روایت کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹنی لائی گئی۔ آپ نے فرمایا۔ اس کا دودھ کون دوھیگا؟ ایک آدمی کھڑا ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نام پوچھا، تو اس نے کہا مرہ، فرمایا، بیٹھ جاؤ، پھر ایک آدمی اٹھا، جس نے اپنا نام جمرہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ پھر میں اٹھا اور میں نے اپنا نام یعیش بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوہنے کی اجازت دے دی، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
غلام بنو مغیرہ: وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابو ثابت سے، انہوں نے عکرمہ سے روایت کی، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو مغیرہ کے ایک عجمی غلام کو پڑھاتے تھے۔ وکیع کہتے ہیں، کہ سفیان نے انہیں بتایا، کہ انہوں نے اسے دیکھا، اس کا نام یعیش تھا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن یزید الثقفی ان کا شمار صحابہ میں کیا جاتا ہے لیکن بغیر از ثبوت ابو بکر ہذلی نے حسن سے انہوں نے جناب رافع سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان سرخی کو اور نمائشی لباس کو پسند کرتا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن بزرج جاہلی دور کے آدمی ہیں محمد بن حسن بن انس صنعانی انباری نے سلیمان بن وہب سے، انہوں نے نعمان بن بزرج سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن آخر الذکر ان کے اسلام کے قائل نہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن سعد بن خلاس بن زید بن مالک الا غربن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر انصاری خزرجی ان کی والدہ کا نام عمرہ دختر رواحہ تھا جو عبد اللہ بن رواجہ کی بہن تھیں مالک الاغر ان کی والدہ اور والد کا چند پشتوں کے بعد مشترکہ جد بنتا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے آٗٹھ سال سات مہینے پیشتر ان کی پیدائش ہوئی ایک روایت میں چھ برس مذکور ہیں مگر روایت اول قریب بصو اب ہے ابن زبیر کہتے ہیں کہ نعمان ان سے چھ مہینے بڑے ہیں بعد از ہجرت نعمان وہ پہلے آدمی ہیں جن کی ولادت انصار میں ہوئی۔ انہیں اور ان کے والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ان سے ان کے دونوں بیٹوں محمد اور بشیر کے علاوہ شعبی، حمید بن عبد الرحمٰن خثیمہ سماک بن حرب سالم بن ابی الجعد، ابو اسحاق سبعی اور عبد الملک بن عمیر و غیرہ نے روایت کی۔۔۔۔
مزید
البلوی عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے(بہ سلسلہ شرکائے بدر از بنو معاویہ بن مالک بن عوف یعنی ابن مالک بن اوس جو بنوبلی کے حلیف تھے) یہ روایت سنی ابن مندہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن بینا ان سے مروی ہے کہ ہم لوگ بنو خبیب کے چند افراد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند چیزیں مانگیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری درخواست منظور فرمالی پھر نعمان بن بینا نے حدیث بیان کی ابو موسیٰ نے اسے مختصراً بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ثابت بن نعمان بن ثابت بن امرؤ القیس ابو انصیاح انصاری وہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں ہم کنیتوں کے عنوان کے تحت پھر ان کا ذکر کریں گے۔۔۔۔
مزید