عمرہ مزنی کے والد ہیں ہم کوابوالفضل عبداللہ بن احمد بن عبدالقاہر نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن بدران حلوانی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوالحسین بن نقور نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے عیسیٰ بن جراح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں بغوی نے خبردی وہ کہتے تھے میرے دادا نے مجھ سے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابومعشر نے یحییٰ بن شبل سے انھوں نے عمروبن عبدالرحمن مزنی سے انھوں نے اپنے والد عبدالرحمن مزنی سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےاعراف والوں کی حالت دریافت کی گئی۔آپ نے فرمایا کہ مقام اعراف میں وہ لوگ ہوں گے جواللہ کی راہ میں قتل ہوئےمگراپنے والدین کے نافرمان تھےان لوگوں کے والدین کی نافرمانی نے جنت سے بازرکھااورقتل فی سبیل اللہ نے ان کو دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔لیکن ابونعیم اورابوعمر نے۔۔۔
مزید
مزنی ہیں اہل شام میں ان کا شمار ہے ۔ولید بن مسلم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن عمیرہ ہیں اوربعض نے بیان کیاہے کہ عبدالرحمن بن ابی عمیرمزنی ہیں اوربعض نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن عمیریاعمیرہ قریشی ہیں ان کی روایت کردہ حدیث مضطرب ہے ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے۔ہم کوابراہیم بن محمداوران کے سوادوسروں نےاپنی سندوں کو محمد بن عیسیٰ سلمی تک پہنچا کر خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے ابومسہر نے سعید بن عبدالعزیز سے انھوں نے ربیعہ ابن یزید سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عمیرہ سے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھےانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے واسطے دعاکی کہ اے اللہ (معاویہ کو) ہدایت کرنے والااور ہدایت یافتہ بنادے اوراس کے ذریعے سے ہدایت نصیب کر ابوعمرنے کہا ہے کہ بعض نے ان۔۔۔
مزید
بن انس۔عدوی نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن غزوۂ احد اور تمام غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھےاورجنگ قادسیہ میں شہیدہوئے ان کے والد عائذصحابی تھے جن عبدالرحمن بن عائذ کا ہم اوپرذکرکرچکے ہیں یہ عبدالرحمن ان سے علاوہ ہیں کیوں کی ان عبدالرحمن بن عائذ نے فقط عبدالرحمن ہی کودیکھاتھا(اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ )اس وقت بچے تھےاور یہ عبدالرحمن جنگ احدمیں شریک تھے(اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں)زیادہ عمرکے تھے کیوں کہ جس شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے بچپن میں دیکھاہو وہ جنگ قادسیہ میں اتنی عمرکانہیں ہوسکتاکہ لڑےاورماراجائے۔کیوں کہ جنگ قادسیہ ۱۵ھ میں ہوئی تھی۔۔۔
مزید
بن ابی وہب بن عائذ بن عمران بن مخزوم قریشی مخزومی سعید بن مسیب کے چچاہیں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے مسیب بن حزن کے کئی بھائی تھے جن میں سے یہ عبدالرحمٰن اورسائب اور ابو سعید ہیں سب نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایا مگرسوائے مسیب کے (ان میں سے) کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کی۔ابوعمر نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن زرارہ ۔ان کانسب ان کے والد کے ذکرمیں ہم بیان کرچکےہیں اوربعض لوگ ان کو ابن سعد بن زرارہ بیان کرتےہیں اور ان کا ذکربھی پہلے ہوچکاہے۔اس مقام پر ان کا ذکرصرف ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن خنیش تیمی اوربعض نے ان کو عبداللہ بیان کیاہے مگرعبدالرحمن صحیح ہے۔ہم کو ابن ابی حبہ نے اپنی سندکوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی کہ وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے شیبان بن حاتم یعنی ابوسلمہ غنوی نے جعفر بن سلیمان صبعی سے انھوں نے ابونیاح سے نقل کرکے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمن بن خنیش سے پوچھاوہ اس وقت بہت بوڑھے تھے کہ کیا آپ نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا انھوں نے کہا کہ ہاں دیکھا تھا پھرمیں نے پوچھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کو جس میں شیاطین ان کے ساتھ فریب کرنے چاہتے تھے کیاکیا توعبدالرحمن بن خنیش نے کہاکہ شیاطین پہاڑوں کے دروں اورنالوں سے (نکل نکل کر) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو جلاناچاہتا تھا۔اسی اثناء میں جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اورکہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیے حضرت نے فرمایاکیاکہوں جبریل ن۔۔۔
مزید
انماری ہیں۔اوربعض نے بیان کیاہے کہ انصاری ہیں ابوعمرنے کہا ہے کہ میں ان کوانصار کا حلیف سمجھتاہوں۔سلمہ بن دروان نےکہاہے کہ میں نے انس بن مالک اورسلمہ بن اکوع اور عبدالرحمٰن بن اشیم کوجوبنی انمار سے تھے دیکھا ہے یہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اپنے سفیدبالوں میں خضاب نہ لگاتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
انماری ہیں۔اوربعض نے بیان کیاہے کہ انصاری ہیں ابوعمرنے کہا ہے کہ میں ان کوانصار کا حلیف سمجھتاہوں۔سلمہ بن دروان نےکہاہے کہ میں نے انس بن مالک اورسلمہ بن اکوع اور عبدالرحمٰن بن اشیم کوجوبنی انمار سے تھے دیکھا ہے یہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اپنے سفیدبالوں میں خضاب نہ لگاتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ان کانام نعمی تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔اس کو ابواسحاق نے براء سے روایت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نصر سلمی۔ان سے ابوبکربن محمد بن عمرو بن حزم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ)فرمایاجس مسلمان کے تین لڑکے مرجائیں اوروہ ثواب سمجھ کر صبرکرے تو وہ لڑکے اس کے لیے دوزخ سے سپر بن جائیں گے ایک عورت نے عرض کیاکہ یارسول اللہ اگرکسی کے دو لڑکے مرے ہوں آ پ نے فرمایادولڑکے (مرے ہوں)تب بھی یہی ثواب ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھا ہے اور کہاہے کہ یہ ایک مجہول شخص ہیں سوا اس حدیث کے اورکوئی حدیث ان کی معلوم نہیں ہوتی ۔ان کو لوگوں نے صحابہ میں ذکرکیاہے مگر اس میں کلام ہے بعض لوگ ان کو محمد کہتے ہیں اور بعض ابوالنضر کہتے ہیں یہ سب اختلافات امام مالک کے شاگردوں نےکیے ہیں مگر ابن وہب نے یہ حدیث ابوبکربن محمد بن عمروبن حزم سے روایت کی ہے اور وہ عبداللہ بن عامراسلمی سے روایت کرتے ہیں۔۔۔۔
مزید