اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیدنا انجشہ (رضی اللہ عنہ)

  اک حبشی غلام تھے ان کی آواز حداء (٭شتریانوں کی عادت ہے کہ کچھ اشعار خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اونٹ س آواز کو سن کر مستی میں آجاتا ہے اور تیز چلنے لگتا ہے اسی گانے کو حداء کہتے ہیں) میں بہت اچھی تھی حجۃ الوداع میں انھوں نے نبی ﷺ کی ازواج کی سواریوں کے لئے حداء پڑھی تو ونٹ بہت تیز چلنے لگے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے انجشہ آہستہ چلائو کمزور مخلوق (یعنی عورتوں پر) نرمی کرو۔ ہمیں ابو الفضل عبداللہ بن طوسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو محمد جعفر بن احمد بن حسین سراج نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمم سے عبید اللہ بن عمر بن احمد مروروذی نے بیان کای وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن ماسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیم بن عبداللہ بصری نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے انصاری نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں حمید نے حضرت انس سے نقل کر کے خبر دی کہ ایک شخص انوٹوںکو ہانکا کرتے تھے ان کا نام انجشہ تھا ایک مرتبہ انھوںنے ام۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن مخثی خزاعی بصری۔ جن کی کنیت بو عبداللہ ہے۔ یہ ابو نعیم اور ابو مر کا قول ہے۔ ور ابن مندہ نے کہا ہے ہ امیر خزاعی قبیلہ ازذ سے ہیں۔ ہمیں ابو حمد عبدالوہاب بن علی بن علی امیں نے اپنی سندکے ستھ ابودائود سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں مومل بن فضل حرانی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عیسی نے خبر دی وہ کہتے تھے میں جابر بن صنیح نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں مثنی بن عبدالرحمن بن مخشی خزاعی نے اپنے چچا امیہ بن مخشی سے جو رسول خدا ﷺ کے صحابہ میں سے تھے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ (ایک روز) بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص کھانا کھا رہا تھا س نے بسم اللہ نہ کہی تھی یہں تکہ کہ جب ایک لقمہ رہ گیا اور اس کو اس نے اٹھایا تو کہا بسم اللہ اولہ و آخرہ پس نبی ﷺ  مسکرائے اور فرمایاکہ شیطان اس کے ساتھ کھا رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے اللہ کا نام لیا تو اسے قے ہوگئی اس حدیث کو احمد بن حنبل۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن لوذان بن سالم بن مالک۔ قبیلہ بنی غنم بن سالم بن عوف بن عمروبن عوف بن خزرج سے ہیں انصاری ہیں خزرجی یں پھر قبیلہ بنی عوف بن خزرج میں داخل ہوئے۔ رسول خدا ﷺ کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک تھے۔ ان کی کوئی حدیچ معلوم نہیں ابن اسحاق نے کہا ہے ہ قبیلہ بنی غنم بن مالک سے امیہ بن ملوذان بن سالم بن مالک رسول خدا ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک تھے۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے۔ اور ابو نعیم نے اپنی سند کے ساتھ عروہ بن زبیر سے ان لوگوں کے زیل میں جو انصار کے قبیلہ بنی قربوس بن غنم بن سالم سے جنگ بدر میں شریکت ھے امیہ بن لوذان بن سالم بن ثابت بن ہزال بن عمرو بن قربوس بن غنم کا نام لیا ہے اور ابن اسحاق نے بھی وااسطہ سلمہ کے ابو نعیم سے ایسا ہی نقل کیا ہے ور جو کچھ ابن مندہ نے ابن اسحاق ے نقل کیا ہے وہ بواسطہ یونس بن بکیر کے ابن اسحاق سے منقول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ ور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نم۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

عمرو بن عثمان ثقفی مدنی کے دادا ہیں۔ ان کی حدیث یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے (ایک مرتبہ) کیچڑ کی وجہس ے اپنی سواری پر اشارہ سے نماز پڑھی سجدہ آپکا آپ کے رکوع سے زیادہ پست ہوتا تھا۔ ان کا تذکرہ بو عمر نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابو عمر نے ان کا تذکرہ اسی طرح پر لکھا ہے مگر ہمیں اسمعیل بن عبید اللہ وغیرہ نے اپنی سند سے ترمذی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمسے یحیی بن موسی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عمر بن رباح نے کثیر بن زیاد سے انھوںنے عمرو بن عچمان سے انھوں نے یعلی بن مرہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کر کے خبر دی کہ سب لوگ نبی ﷺک ے ہمراہ تھے انتفاقا ایک تنگ رہگذر میں پہنچے اور نماز کا وقت آگیا اوپر سے پانی برس رہا تھا اور نیچے کیچڑ تھی تو سول خدا ﷺ نے اپنیس واری پر اذان دی اور انی سوری ہی پر آگے بڑھ گئے اور اشارہس ے نماز پڑھائی آپ ا۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن علی۔ ابن مندہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ سے سنا ہے مگر یہ وہم ہے۔ یحیی بن زیاد فران ابن عینیہ سے انھوں نے عمرو بن دینار سے انھوں نے امیہ بن علی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ کو منبر پر یہ پرﷺتے ہوئے سنا یا حال ابن مندہ نے لکھا ہے مگر صحیح وہی ہے جو ابن عینیہ کے اصحاب نے ابن عینیہ سے انھوں نے عمرو سے انھوں نے صفوان بن یعلی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے یا مال پڑھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی عبیدہ بن ہمام بن حارثبن بکر بن زید بن مالک بن حنظلہ ن مالک بن زید مناۃ بن تمیم تمیمی حنظلی بنی نوفل بن عبد مناف کے حلیف ہیں ان کا نسب ابو عمر نے بیان کیا ہے۔ یہ والدین یعلی بن امیہ کے جن کو یعلی بن منیہ بھی کہتے ہیں منیہ ان کی ماںکا نام ہے ان کے والد امیہ بھی صحابی ہیں اور امیہ کے بیٹِ یعلی بھی صحابی ہیں۔ یعلی اپنے باپ سے زیادہ مشہور ہیں امیہ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ ہجرت پر ہم سے بیعت لے لیجئے حضرت نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں رہی ہاں جہاد اور نیت (نیک کا ثواب اب بھی باقی) ہے۔ ہمیں یحیی بن محمود بن سعد ثقفی نے اپنی اسناد سے ابن ابی عاصم تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو الربیع نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں فلیح بن سلیمان نے زہری سے انھوںنے عمرو بن عبدالرحمن بن یعلی سے انھوںن اپنے والد سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ی۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ قرشی۔ ابو موسی کہتے ہیں کہ یہ امیہ عبد اللہ بن خالد بن اسید کے بیٹیہیں۔ ابن مندہ نے ان کو بیان کیا ہے مگر انھوں نے کہا ہے کہ امیہ بن خالد بن عبداللہ اور انھوں نے کہا ہے کہ میں صحابہ کا نام امیہ ہے ان کے ناموں میں بہت سے وہم ہوئے ہیں ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے اور ہم امیہ بن خالد میں ان کو بیان کرچکے ہیں ور وہاں ہم نے ان کو اچھی طرح بیان کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے ترک نہیں کیا کہ ابو موسی ان پر استدراک کریں ہاں ابن مندہ سے اس میں وہم ہوگیا ہے مگر ابو موسی نے ان کے اوہام کو بیان نہیں کیا پھر ابو موسینے کیوں ان کا ذکر کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ بن عمرو بن عثمان۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ عبدان نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا ہے اور انھوں نے اپنی سند کے ساتھ عبدالملک بن قدامہ حجی سے انھوںنے عبداللہ بن نباتہ ے انھوں نے امیہ بن عبداللہ بن عمرو سے درخواست کی ہے ہ رسول خدا ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ خدا نے تم لوگوں کو زمانہ جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کرنیسے منع فرمایا ہے۔ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک نیک پرہیزگار جو خدا کے سامنے باعزت ہو۔ دوسرا بدکار بدبخت جو خدا کے سامنے بے عزت ہو۔ آدم کی اولاد اور دم سب مٹی سے بنے ہیں اللہ نے فرمایا ہے انا علقناکم من ذکر و انثی و جلعنا کم شعو باو قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ان اللہ علیم خبیرہ (٭ترجمہ۔ بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ہم نے تمہارے خاندان قبیلہ قائم کئے پیدا کر بے شک تم سب میں اللہ کے نزدیک &hell۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ضیادہ۔ قبیلہ بنی خصیب سے ہیں۔ رسول خدا ﷺ کے حضور میں رفاعہ بن زید جذامی کے ہمراہ قبیلہ جذام کے وفد میں آئے تھے۔ یہ ابن سحق کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن دباغ اندسلی نے کیا ہے۔ امیہ ابن سعد قرشی۔ ان کا تذکرہ حافظ ابو موسی نے ابن مندہ پر استدراک کرنے کی غرض سے لکھاہے اور انھوںنے کہا ہے کہ ابو زکریا یعنی ابن مندہ نے اپنے دادا پر استدراک کرنیکے لئے لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ ان ستر آدمیوں میں سے ہیں جنھوں نے رسول خدا ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ یہ سلیمان بن کثیرکے دادا یں۔ ان کا تذکرہ محمد ابن احمدویہ نے تاریخ مرو میں ان صحابہ کے ذیل میں یا ہے جو مرومیں آکے فروکش ہوئے تھے ابو موسی نے کہا ہے ہک ہمیں ابو زکریا نے اپنی کتاب میں خبر دیوہ کہتے تھے مجھ سے میرے چچا امام نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں ابو علی محمد بن احمد بن حسین نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عصمتہ محمد بن احمد بن عباد بن عصمہ ۔۔۔

مزید

سیدنا) امیہ (رضی الہ عنہ)

  ابن خویلد ضحری۔ بع لوگ ان کو امیہ بن عمرو بھی کہتے ہیں۔ مرو بن امیہ حجازی کے والد ہیں یہ بھی صحابی ہیں اور ان کے بیٹے بھی صحابی ہیں ان کے بیٹِ اپن یباپ سے زیادہ مشہور یں۔ ان کی حدیث جعفر بن عمرو بن امیہنے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو تنہا جاسوس بنا کے بھیجا تھا یہ ابو عمر کا قول ے اور ابن مندہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ ان کا نام امیہ بن عمر ہے اور بعض لوگ ان کو ابن ابی امیر ضحری بھی کہتے ہیں ان کا شمار اہل حجاز میں ہے ان سے ان کے بیٹے عمر نے روایت کی ہے وہ حدیچ ابراہیم بن سماعیل بن مجمع سے مروی ہے وہ جعفر بن عمرو بن امیہ سے وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتیہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو قریش کی طرف جاسوس بنا کے بھیجا تھا وہ کہتے تھے کہ میں اس پہاڑ کی طرف گیا جہاں حبیب قید تھے میں اس پر چڑھ گیا اور میں نے حبیب کو کھول دیا حبیب زمیں پر گر پڑے پھر ۔۔۔

مزید