ہفتہ , 29 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 16 May,2026

سیدنا) بحیرا (رضی اللہ عنہ)

  راہب۔ انھوں نے نبی ﷺ کو قبل آپ کی نبوت کے دیکھا تھا اور آپ پر ایمان لائے تھے۔ ابن عباس نے روایت کی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھارہ برس کی عمر سے نبی ﷺ کے ہمراہ رہتے تھے اس وقت نبی ﷺ کی عمر بیس برس کی تھی وہ دونوں تجارت کی غرض سے شام جارہے تھے یہاں تک کہ جب ایک منزل میں قیام کیا تو وہاں ایک درخت بیریکا تھا نبیﷺ اس کے سایہ میں بیٹھ گئے اور ابوبکر صدیق اس راہبکے پاس گئے اس سے کچھ پوچھنا چاہتے تھے راہب نے ان سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہیں جو بیری کے سایے میں بیٹھے ہیں حضرت ابوبکر نے کہا کہ یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں راہب نے کہا خدا کی قسم یہ نبی ہیں (ہمارے یہاں لکھا ہوا ہے کہ) اس درخت کے سایہ میں عیسی بن مریم علیہ السلامکے بعد سوا محمد ﷺ کے کوئی نہ بیٹھے گا اسی وقت سے حضرت ابوبکر کے دل میں یقین اور تصدیق آگئی تھی چنانچہ جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے تو ابوبکر صدیق رضیاللہ عنہ نے (فورا۔۔۔

مزید

سیدنا) بحر (رضی اللہ عنہ)

  ابن صبع بن اتتہ رعینی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور فتح مصر میں شریک ہوئے تھے وہاں انھوں نے کچھ زمیں بھی لی تھی ان کا خطہ رعین کے نام سے مشہور ہے۔ابوبکر سمیں بن محمد بن بحر ان کی اولاد میں ہیں جو سلسلہ میں عمر بن عبدالزیز کی خلافت میں وسیاط کے حاکمت ھے۔ مردان بن جعفر بن خلیفہ بن بحر بھی ان کی اولاد میں ہیں جو بڑے فصیح شاعر تھے انھوں نے اپنے دادا کی مدح میں یہ اشعار کہے تھے۔ وجدی الذی عاطی الرسول یمیںہ        وخبت الیہ من بعید رواکبہ   بدر لنا بیت اقامت ماصولہ   علی المجد ینی حلوہ و اسافکہ (٭ترجمہ۔ میرے دادا وہ ہیں جنھوں نے (بیعت کے لئے) رسول اللہ کو اپنا داہنا ہاتھ دیا۔ اور بہت در سے ان کی سواری کے جانور رسول کے پاس آئے۔ بدر میں ہمارا ایک گھر ہے جس کی بنیادیں درست ہیں اس کے اوپر اور نیچے کا تمام حصہ بزرگی پر بنا ہے) ابو ع۔۔۔

مزید

سیدنا) نجاث (رضی اللہ عنہ)

  ابن ثعلبہ بن خرمہ بن اصرم بن عمرو بن عمارہ بن مالک بن عمرو بن بثیرہ بن مثنوء بن قشر بن تمیم بن عوذ مناہ بن تاج بن تیم بن اراشہ بن عامر بن عبیلہ بن قشمیل بن قران بن بلی بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ بلوی انصار کے حلیف ہیں۔ یہ اور مجذر بن ذیاد عمرو ابن عمارہ میں جاکے مل جاتے ہیں۔ ہشام نے ان کا نسب اسی طرح بیانیا ہے مگر ابو عمر نے ان کو مالک کی طرف منسوب کیا ہے بعد اس کے کہا ہے کہ یہ بلوی ہیں۔ بنی عوف بن خزرج کے حلیف ہیں۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ کلبی نے بیانکیا ہے کہ بحاث بے کے ساتھ ہے اور ابراہیم ابن سعد نے ابن اسحق سے نحاث نون کے ساتھ رویت کیا ہے ان کا تذکرہ نون کے باب میں آئے گا۔ رسول خدا ﷺ کے ہمراہ بدر میں شریک ہوے تھے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ میرے نزدیک ابن کلبی کا قول صحیح ہے۔ ان کے دو بھائی تھے عبداللہ اور یزید عبد اللہ جنگ بدر میں شریک تھے اور یزید عقبہ کی دونوں بیعتوں میں شریک تھے مگر ب۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمران خزاعی۔ یہی ہیں جنھوں نے فتح مکہ کے دن یہ اشعار کہے تھے۔ وقد انشاء اللہ السحاب بننصرتا رکام سحاب الہید ب المتراکب           وہجر تنا فی ارضنا عندنا بہا     کتاب النامن خیر مل و کاتب ومن اجلنا حلت بمکتہ حرمتہ  لندرک ثار ابا یسوف القوم ضب (٭ترجمہ۔ اللہ نے ہماری مدد کے لئے بادل پیدا کیا۔ ایسا بادل جو تہ بر تہ مثل تو وہ ریگ کے تھا۔ اور ہم نے اپنے ملک کی طرف ہجرت کی۔ وہاں ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو عمدہ لکھنے والے کی لکھی ہوئی ہے (یعنی قرآن) ہماری وجہ ے مکہ میں لڑائی جائز ہوئی۔ تاکہ ہم چھپ جانے والے کو مشیر بران سے ہلا کریں) باب الباء والحاء (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ بن مرہ بن عبداللہ بن صعب بن اسدیہ وہی ہیں جنھوں نے نبیﷺ کی گٹھری چرائی تھی۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  یہ زہیر بن ابی سلمہ کے بیٹِ ہیں۔ ابو سلمہ کا نام ربیعہ بن ریاح بن قرط بن حارثبن مازن بن علاوہ بن چیعلبہ بن ثور بن ہرطمہ ابن لاطم بن عچمان بن مزینہ مزئی۔ کعب بن زہیر کے بھائی ہیں اپنے بھائی کعب سے ہلے اسلام لائے تھے اور یہد ونوں بھائی بڑے عمدہ شاعر تھے اور ان کے والد بھی بڑے نامور شعرا میں تھے۔ حجاج بن ذی الرقیبہ بن عبدالرحمن بن کعب بن زہیر بن ابی سلمیںے اپنیوالد سے انھوں نے ان کیدادا سے روایت کی ہے کہ کعب اور بجیر جو دونوں زہیر کے بیٹے تھے اپنے گھر سے نکلے یہاں تک کہ مقام ابرق عذاف میں پہنچے تو بجیر نے کعب سے کہا کہ تم ہماری بکریوں کو لیے ہوئے اس مقام پر ٹھہرو میں ذرا اس شخص یعنی نبی ﷺ کے پاس جائوں سنوں کہ وہ کیا کہتا ہے راوی کہتا ہے ہ کعب وہین ٹھہر گئے اور بجیر رسول خدا ﷺ کے حضور یں حاضر ہوئے۔ حضرت نے ان پر اسلام پیش کیا اور وہ مسلمان ہوگئے یہ خبر کعب کو پہنچی تو انھوں نے کہا۔ الا ۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  یہ ثقفی ہیں ابن ماکولا نے کہا ہے کہ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت بھی کی ہے۔ ان سے حفصہ بنت سیرین نے رویت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو ابوبکر شافعی نے روایت کیا ہے اور ان کا نام بجیر بتایا ہے اور اس کو اسماعیل نے روایت کی اہے ور انھوں نے ان کا نام بشیر بتای اہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی بجیر عبسی عبس بن فیض بن ریث بن غطفان کی اولاد سے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ جہینہ کے ہیں بنی دینار ابن نجار کے حلیف تھے بدر اور احد میں شریک تھے مگر بنی دینار بن نجار کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے غلام تھے یہ قول ابوعمر کا ہے اور ابن مدہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ زہری کہتے تھے کہ یہ بدر میں شریکت ھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسید (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو بن محصن بن عمرو قبیلہ بنی عمرو بن مبذول سے تھے پھر بنی نجار سے ہوے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ کہتے ہیں بشر اور بعض کہتے ہیں بشیر اور بعض لوگ کہتے ہیں ثعلبہ۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے اور ابو موسی نے یہ بھی کہا ہے کہ اور لوگوںنے ان کا تذکرہ الف کے باب کے علوہ اور باب میں کیا جو لہذا جو شخص الف کے باب میں ان کی تلاش کرتا ہے وہ نہیں پاتا ور یہ بھی بعض لوگوں کو معلوم نہ ہوگا کہ ان کے نام میں اختلاف ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسود (رضی اللہ عنہ)

  ابن نوفل بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ قرشی اسدی حبش کے مہاجرین میں سے ہیں (ام المومنین خدیجہ بنت خویلد کے بھتیجے ہیں اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی کے چچازاد بھائی ہیں ان کی والدہ فریعہ بنت عدی بن نوفل بن عبد مناف بن قصی ہیں۔ یہ اسود ابو الاسود یعنی محمد بن عبدالرحمن ابن اسود بن نوفل کے جو عروہ بن زبیر مالک بن انس کے شیخ کے یتیم تھے دادا ہیں۔ محمد بن اسحااق نے ان مہاجرین کے ذکر میں جھنوں نے نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی اسود بن نوفل بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی کا نام بھی لیا ہے۔ اور زبیر بن بکار نے کہا ہے کہ نوفل مسلمانوںکے ساتھ بہت سختی کیا کرتے تھے اور یہی تھے جنھوںنے ابوکر اور طلحہ کو محض مسلمان ہو جانے کے سببس ے مکہ کے ایک پہاڑ میں قید کر دیا تھا سی وجہ سے حضرت ابوبکر و طلحہ کو لوگ قرینین ہتے تھے۔ نوفل بدر کے دن بحالت کفر قتل کر دیے گئے تھے زبیر بن بکر نے ی۔۔۔

مزید