ابن معرور بن صخر بن خنسا بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن ساروہ بن تزید بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی سلمی کنیت ان کی ابو بشر والدہ ان کی اسباب بنت نعمان بن امرء القیس بن زید بن عبدالاشہل ہیں جو حضرت سعد بن معاذ کی پھوپھی تھیں۔ یہ براء فقیائے صحابہ میں تھے بنی سلمہ کے نقیب تھے بقول بعض عقبہ اولی کی شب میں سب سے پہلے جس نے رسول خدا ﷺ سے بیعت کی وہ یہی تے اور سب سے پہلے جس نے کعبہ کی طرف (٭یعنی قبل از تحویل قبلہ انھوں نے کعبہ کی طرف نماز ڑھنا شروع کر دی تھی جیسا کہ آگے آئے گا) منہ پھیرا وہہ یہی تھے۔ انھوں نے (٭معلوم ہوا کہ اس وقت تک میراث کی آیت نازل نہ ہوئی تھی اور وصیت کا حکم تھا) اپنے تہائی مال کی وصیت کی تھی۔ شروع اسلام میں رسول خا ﷺ کے زمانے میں وفات پائی۔ کعب بن مالک نے جو ان لوگوں میں تھے جنھوں نے رسول خدا ﷺ سے شب عقبہ میں بیعت کی) روایت کی ہے ۔۔۔
مزید
ابن مالک بن نصر انصاری۔ ان کا نسب پیشتر ان کے بھائی انس بن مالک کے بیان میں گذر چکا ہے۔ یہ حضرت انس بن مالک (خادم رسول خدا ﷺ) کے حقیقی بھائی ہیں۔ سوا بدر کے احد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ رہے بڑے بہادر اور دلیر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (اپنے عمال کو) لکھا کرتے تھے کہ براء کو مسلمانوں کے کسی لشکر کا سردار نہ بنانا کیوںکہ یہ بھی مسلمانوں (٭مطلب یہ ہے کہ فرط شجاعت کے سبب سے یہ میدان جنگ سے ہٹنا پسند نہ کریں گے اور بے موقع اپنے لشکر کو لڑا کر کٹا دیں گے) کو ہلاکت میں ڈال دیں گے۔ جب جنگ یمامہ ہوئی اور قبلہ بنی حنیفہ نے اس باغ پر سخت جنگ کی جس میں مسیلہ تھا تو براء نے کہا اے مسلمانوں مجھے تم اس باغ کے اندر ڈال دو چنانچہ لوگوں نے ان کو اٹھایا یہاں تک کہ باغ کی دیوار پر پہنچ گئے وہیں سے انھوں نے لڑنا شروع کیا اور خوب لڑے یہاں تک کہ اس باغ کا دروازہ مسلمانوں کے لئے کھول دیا ا۔۔۔
مزید
ابن قبیصہ۔ ابو موسی نے لکھاہے کہ عبدان مروزی نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ میں نے (صحابہ کے) تذکرہ میں ان کا نام دیکھا مگر مجھے ان کا صحابی ہونا معلوم نہیں۔ ابو موسی نے ابن مندہ پر استدراک کرنے کی غرض سے ان کا ذکر لکھا ہے مگر کوئی دلیل نہیں پیش کی اور جو دلیل انھوں نے پیش کی ہے اس سے ان کا صحابی ہونا معلوم نہیں ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ براء بن قبیصہ بن ابی عقیل بن مسعود بن عامر بن معتب ثقفی ہیں واللہ اعلم۔ قبیصہ کا صحابی ہونا بھی معلوم نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عزب بن حارث بن عدی بن جشم بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری اوسی حارثی ان کی کنیت ابو عمروہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو عمارہ ہے اور یہی صحیح ہے۔ انھیں رسول خدا ﷺ نے جنگ بدر میں بوجہ کم سن ہونے کے واپس کر دیات ھا۔ سب ے پہلا غزوہ جس میں یہ شریک ہوئے احد تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں خندق۔ انھوں نے رسول خدا ﷺ کے ہمراہ چودہ جہاد کئے۔ یہی ہیں جنھوں نے سن ۲۴ھ میں ملک ری صلحا فتح کیا یا بقول ابی عمرو ابوبکر فتح کیا۔اور ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ملک ری کو سن۲۲ھ میں حضرت حذیفہ نے فتح یا تھا اور مداینی نے کہا ہے کہ کچھ حصہا س کا حضرت ابو موسی نے فتح کیا تھا اور کچھ حصہ اس کا قرضح ابن کعب نے فتح کیا۔ یہ براء جنگ قسترمیں حضرت ابو موسی کے ساتھ تھے۔ حضرت براء اور ان کے بھائی عبید بن عازب جنگ جمل و صفین و نہروان میں حضرت علی بن ابی طالب کے ہمراہ رہے بالاخر کوفہ میں رہ گئے ۔۔۔
مزید
ابن اوس بن خالد۔ نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کے کسی غزوہ میں شریک وہئے تھے اور اپنے ساتھ وہ گھوڑے لے گئے تھے تو انھیں نبی ﷺ نے مال غنیمت سے پانچ حصہ دیے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا بیان ہے اور ابو عمر نے کہا ہے براء بن اوس بن خالد بن جعد بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن عدی بن نجار۔ یہ حضرت ابراہیم فرزند رسول خدا ﷺ کے رضاعی باپ تھے کیوں کہ ان کی بی بی ام بردہ تھیں جنھوں نیان کو دودھ پلایا تھا س ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ براء وہی یں اور ساید وہ کوئی اور ہوں واللہ اعلم۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ۔ کنیت ان کی ابو ہندداری۔ ان کا صحابی ہونا اور نبی ﷺ سے روایت کرنا ثابت ہے انکا پورا بیان آئے گا۔ یہ امیر ابو نصر کا قول تھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
علی (بن بذیمہ) کے والد ہیں۔ ان کا تذکرہ یحیی بن محمود بن صاعد نے ان لوگوں میں کیا ہے جنھوں نے نبی ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں اور انھوں نے احمد بن منیع سے انھوں نے اشعث بن عبدالرحمن سے انھوں نے ولید بن ثعلبہس ے انھوں نیعلی بن بذیمہ سے انوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ کو یہف رماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس دعا کو پڑھے اس کے بعد اس حدیث کو بیان کیا۔ صرف ابن مندہ نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ان کا نسب بھی نہیں بیان کای گیا۔ صرف ابن مندہ نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگوں نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے مگر ماہرین نے انکا تذکرہ تابعن میں لکھا ہے ان سے مروی ہے کہ رسول خدا ھ کی آستین گٹے تک رہتی تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا۔ شمار ان کا اہل مصر میں ہے۔ ان کی حدیث موسی بن علی بن رباح نے اپنے والد بدیل سے ویت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کو موزوں پر مسحکرتے ہوئے دیکھا ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ ور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ورقاء بن عمرو بن ربیعہ بن عبدالعزی بن ربیعہ بن جزی بن عامر بن مازن بن عدی بن عمرو بن ربیعہ ربیعہ وہی عی خزاعی ہیںان کا نسب ابن کلبی نے اسی طرح لکھاہے اور ابو عمر نے ان کو لکھا ہے بدیل بن ورقاء بن عبد العزی بن ربیعہ خزاعی اور ابن ماکولا نے ہشام کی طرح ان کا نسب جزی تک پہنچایا ہے جزی کے بعد ان کا نسب متفق علیہ ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ یہ قدیم الاسلام ہیں اور ابو عمر نے لکھا ہے کہ یہ اور انکے بیٹِ عبداللہ اور حکیم بن حزام فتح مکہ کے دن مقام مر الظہران میں اسلام لائے تھے جیسا کہ ابن شہاب نے بیان کیا ہے اور ابن اسحاق نے کہا ہے کہ فتح مکہ کے دن کفار قریش نے بدیل بن ورقاء اور ان کے غلام رافع کے مکان میں پناہ لی تھی بدیل اور ان کے بیٹے عبداللہ حنین میں اور طائف میں اور تبوک میں شریک تھے اور فتحکے دن مسلمانوں میں ان کا مرتبہ سب ے زیادہ ہے انھوں نے کہا ہے کہ بعض لوگوںکا بیان۔۔۔
مزید