شہائی فسلفی۔ بریل شہالی سے مروی ہے کہ رسول خا ﷺ کا گذر ایک شخص پر ہوا جو اپنے اصحاب کے لئے کھانا پکا رہا تھا اور اسے آگ کی تیزی سے تکلیف ہو رہی تھی رسول کدا ﷺ نے فرمایا اب تجھے دوزخ کی گرمی نہ پہنچے گتی۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے بریل شہالی کو صہابہ میں ذکر کیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابن مندہ نے کہا ہے ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں۔ انھیں ابن مندہ اور ابو نعیم نے حرف بے میں ذکر یا ہے جیسا کہ م نے ذکر کیا اور ابن ماکولا نے کہا ہے ہ نزیل شہالی نون کے ساتھ بع لوگ ان کو شاہلی بھی کہتے ہیں ایک شیخ تھے مہمانسراے کے متعل ان کی ایک حکایت مشہور ہے ان سے ابو عمرو نامی ایک شیخ نے روایت کی ہے ان کا شمار مقام بقیہ کے مجہول شیوخ میں ہے اور ابو سعد سمانی نے کہا ہے کہ سلفی ایک شاخ ہے کلاع کی جو قبیلہ ہے حمیر کا۔ (اسد۔۔۔
مزید
کنیت ان ی ابوہریرہ ہے نام ان کا مروان بن محمد نے سعید بن عبدالعزیز سے بریر نقل کیا ہے مگر کسی اور نے ان کی موافقت نہیں کی۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ یہ وہم ہے وہ کہنا یہ چاہتی تھی کہ ابو ہند کا نام بریر ہے (غلطی سے یہ لکھ گئے کہ ابوہریرہ کا نام بریر ہے) ابوہریرہ کے نام میں بہت اختلاف ہے ان کا زکر ان بابوں میں آئے گا جن میں ان کا نام بیان کیا گیا ہے اور پورا ذکر ان کا کنیت کے بیان میں آئے گا کیوں کہ ان کی کنیت ان کے تمام ناموں سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے بیان کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ بریر بیٹے ہیں عبداللہ کے بعض لوگ ان کو بن بن عبداللہ بن رزین بن عمیث بن ربیعہ بن ذراع بن عدی بن دار بن ہانی بن حبیب بن نمارہ بن ظم بھی کہتے ہیں ظم کا نام مالک بن عدی بن حارث بن مرہ بن ارد ہے جن کی کنیت ابو ہندداری ہے تمیم اور طیب کے بھائی ہیں نبی ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا تھا اور آخر میں انھوں نے فلسطین کی سکونت اختیار کر لی تھی جو بیت المقدس کا ایک مقام ہے۔ مکحول شامی نے ابو ہند سے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص ریا و سمعہ(٭ریا کہتے ہیں دکھنے کو سمعہ کہتے ہیں سنانے کو جو کام لوگوں کے دکھانے کے لئے یا ستانے کے لئے کیا جائے خدا کی رضامندی اس سے مقصود نہ ہو وہ ریا و سمعہ ہے) کے مقام میں کھڑا ہوتا ہے اللہ تعالی بھی قیامت کے دن اس کے ساتھ دکھا دے کا معاملہ کرے گا اور زیاد بن ابی ہند نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے جو شخص میر۔۔۔
مزید
ابن جندب اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے والد کا نام عشرقہ ہے کنیت ان کی بو ذر غفاری ہے ان کے نام میں اختلاف ہے ان کا تذکرہ جندب کے نام میں اور کنیت کے باب میں انشاء اللہ تعالی آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن سفیان اسلمی۔ انکا تذکرہ عبدان نے کیا ہے ور کہا ہے ہ ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ہارون ابن معروف نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںعمرو بن حارث نے خبر دی کہ عبدالرحمن ابن عبداللہ زہری نے انس ے بیان کیا وہ بریدہ بن سفیان اسلمی سے رویت کرتے تھے کہ رسول خدا ھ نے عام بن عدی کو اور زید بن دثنہ کو اور خبیب بن عدیکو اور مرثد بن ابی مرثد کو قبیلہ بنی لحیان کی ایک جماعت کی طرف جو مقام رجیع میں تھے بھیجا وہ ان لوگوں سے لڑے یہاں تک کہ ان لوگوں نے اپنے لئے عہد لے لیا مگر عاصم نے عہد نہیں لیا اور کہا کہ آج میں کسی مشرک کا عہد قبول نہ کروں گا اس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکر ی۔ابو موسی نے کہا ہے کہ عبدان نے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ سے مروی ہے کیوں کہ بریدہ بن ابی سفیان کوئی شخص صحابہ میں نہیں۔۔۔
مزید
ابن حصیب بن عبداللہ بن حارث بن سلامان بن اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اسلمی۔ کنیت ان کی ابو عبداللہ ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو سہل اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو الحصیب اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو ساسان مگر مشہور ابو عبد اللہ ہے۔ ہجرت کرتے وقت جب رسول خدا ﷺ کا گذر انک ی طرف ہوا تو یہ اور ان کے ساتھ والے جو قریب اسی گھر کے تھے اسلام لے آئے رسول خدا ﷺ نے عشاء کی نماز انھیں کے یہاں پڑھی اور ان لوگوں نے آپ کی اقتدا کی یہ اپنی ہی قوم کے پاس مقیم رہے وار بعد احد کے رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیبیہ میں اور بیعۃ الرضوان میں جو درخت کے نیچے ہوئی تھی شریک ہوئے مدینہ کے رہنے والے تھے مگر بعد اس کے بصرہ چلے گئے تھے اور وہاں ایک گھر بنا لیا تھا پھر وہاں سے جہاد کے لئے خراسان گئے پھر مرومیں قیام کر دیا یہاں تک کہ وہیں وفات پائی اور وہیں مدون ہوئے انکیا ولاد بھی وہیں رہی۔ ہمیں ابو البر۔۔۔
مزید
بن عرفجہ بن بریح۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن محمد محاربی نے لیث بن ابی سلیم سے انھوں نے زیاد بن علاقہ سے انھوںنے بریح بن عرمجیہ یا عرفجہ بن بریح سے ایسا ہی نقل کای ہے۔ (یہ شک محاربی نے کیا ہے) کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا میرے بعد فتنے اور (بہت سے) فتنے ہوں گے اس حدیث کو اور لوگوں نے لیث سے اسی سندکے ساتھ نقل کیا ہے ابو نعیم نے اس حدیث کو ذکر کر کے کہا ہے کہ (عرفجہ بن بریح) وہم ہے بلکہ صحیح نام عرفجہ بن ضریح یا ضریح بن عرفجہ ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بلز تھا بعض لوگ کہتے ہیں مالک بعض لوگ کہتے ہیں رزن بن قطم۔ کنیت ان کی ابو العشراء دارمی ہے ان کا تذکرہ کنیت کے باب میں آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن زید بن نعمان بن زید بن عامر بن سود بن ظفر انصاری اوسی احد میں اور احد کیبعد تمام غزوات میں شریک ہوئے قتادہ ابن نعمان کے بھتیجے ہیں۔ یہ شاعر بھی تھے یہ ابن ماکولا کا قول ہے یہ وہ برذع نہیں ہے جن کا ذکر پہیل ہوا یہ انصاری ہیں اور وہ جذامی تھے یہ قدیم الاسلام ہیں اور وہ متاخر اسلام تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عسکر بن وتار۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ یہ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے اور فتح مصر میں شریک تھے یہ ابن یونس سے منقول ہے اور ابن ماکولا نے بیان کیا ہے کہ برح بکسر باء معجمہ و سکون راء و حاء مہملہ بیٹے ہیں عسکر بن وثار بن کرع بن حضرمی بن نعمان بن مہری بن حیدان بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ کے نبی ﷺ کے حضور یں حاضر ہوئے تھے اور فتح مصر میں شریکت ھے وہاں کچھ زمیں انھیں بطور معافی کے ملی تھی اور وہیں سکونت اختیار کر لی تھی اہل مصر میں یہ مشہور ہیں ابن ماکولا نے کہا ہے کہ ابن یونس کہتے تھے میں نے نسب قدیم کی بعض پرانی کتابوں میں ابن لہیعہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ برح عسکر کے بیٹے تھے اور انھوںنے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے جیسا ہم نے ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید