اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

(سیدنا) ثابت (رضی اللہ عنہ)

    ابن اقرم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان بن حارثہ بن ضبیعہ بن حرام بن جعل بن خثیم بن ودم بن ذبیان بن ہمیم بن ذہ بن ہنی بن بلی۔ یہ مرہ بن حباب عدی بلوی کے چچازاد بھائی ہیں انصار سے ان کی حلف کی دوستی تھی۔ عروہ اور موسی بن عقبہ نے کہا ہے کہ یہ بدر میں شریک تھے اور تمام غزوات میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک رہے اور غزوہ موتہ میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے پھر جب عبداللہ بن رواحہ شہید ہوئے تو جھنڈا انھیں دیا گیا مگر انھوں نے وہ جھنڈا خالد بن ولید کو دے دیا اور کہا کہ تم فن حرب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ ثابت سن۱۱ھ میں قتال مرتدین میں شہید ہوئے اور بعض لوگ کہتے ہیں سن۱۲ھ میں ان و طلیحہ اسدی نے قتل کیا تھا اور عکاشہ بن محصن بھی انھیں کے ہمراہ شہیدہوئے تھے۔ طلیحہ اور ان کے بھائی نے مل کے ان دونوں کو قتل کیا اس کے بعد طلیحہ مسلمان ہوگئے تھے۔ اور عروہ نے کہا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثابت (رضی اللہ عنہ)

    اخنس بن شریق بن عمرو بن وہب ثقفی کے غلام تھے جو بنی زہرہ بن کلابکے غلام تھے۔ ثابت مہارین میں سے تھے پھر مصر چلے گئے تھے۔ انکی کوئی روایت معلوم نہیں۔ یہ عبدان کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثابت ابن اثلہ انصاری (رضی اللہ عنہ)

     اوسی۔ خیبر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شہید ہوئے انکا تذکرہ عبدان نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تیہان (رضی اللہ عنہ)

    یہ ایک مجہول شخص ہیں۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ابو عبداللہ جعفی نے محمد بن سوقہ سے انھوں نے اسعد بن تیہان انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت یا ہے کہ انھوںنے رسول خدا ﷺ کو سنا کہ آپنے موذن کی آواز سن کر ویسا ہی فرمایا (یعنی یہ کہ ہمیں اپنے شعر سنائو) ابن مندہنے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے صرف ابن مندہ نے اس تذکرہ کو لکھا ہے اور ابو نعیم نے اس حدیث کو تیہان والد ابو الہثیم کے بیان میں لکھاہے اور کہا ہے کہ اس حدیث میں اور اس حدیث میں جو اس سے پہیلے گذر چکی کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تیہان (رضی اللہ عنہ)

    ابو الہثیم بن تیہان کے والد ہیں۔ محمد بن جعفر مطین نے ہناد بن سری سے انھوں نے یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انھوںنے مہمد بن ابراہیم بن حارث تیمیس ے انھوں نے ابو الہثیم بن تیہان سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اثنا ے سفر خیبر میں عامر بن اکوع سے یہ فرماتے ہوئے سنا اکوع کا نام سنان ہے کہ ہمیں کچھ اپنا اشعار انائو تو عامر اتر پڑِ اور انھوںنے رسول خدا ﷺ کے سامنے رجز پڑھنا شروع کیا اور یہ اشعار پڑھے۔ والیہ لولا اللہ ما اہتدینا        ولا تصدقنا ولا صلینا        فانزلن سکینتہ علینا        وثبت الاقدام ان لاقینا (٭ترجمہ۔ قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے پس اے اللہ تو ہم پر اطمیںان نازل کر اور جب ہم ۔۔۔

مزید

(سیدنا) توام ابو دخان (رضی اللہ عنہ)

    کنیت ان کی ابو دخان ہے۔ انکی حدیث عباس ازرق نے ہذیل بن مسعود سے انھوںنے شعبہ بن دخان بن قوام سے انھوںنے ان کے دادا سے روایتکی ہے کہ نبی ھ نے فرمایا یہ شعر موزوں کلام عربکا نام ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تمیم (رضی الہ عنہ)

    ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا۔ ان سے یزید بن حصین نے سباکے قصہ میں ایک حدیث رویت کی ہے مگر وہ حدیث صحیح نہیں ابو عمرو نے لیث بن سعد سے انھوںنیموسی بن علی سے انھوں نے یزید بن حصین سے انھوںنے تمیم سے روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا بی ﷺ سے سبا کے متعلق پچھا گیا کہ وہ عورت ہے یا مرد اس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تمیم (رضی اللہ عنہ)

    ابن بعار بن قیس بن عدی بن امیہ بن خدرہ بن عوف بن حارث بن خزرج بن ہارثہ۔ جنگ بدر میں شریک تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ایسا ہی کہا ہے ہ یہ خدری ہیں اور ابن کلبی نے کہا ہے کہ یہ خدارہ بن عوف کی اولاد سے ہیں جو خدرہ کے بھائی تھے۔ اور ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ تمیم بیٹے ہیں یعار بن نسر بن عمرو انصاری خزرجی کے احد میں نبی ﷺ کے ہمراہ شریک تھے انھوں نے کہا ہے کہ علی بن عمر دارقطنی نے ان کا ذکر سی طرح کیا ہے۔ مں کہتا ہو کہ ابن ماکولا نے بھی ایساہی کہا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن بجیرہ طائی۔ ابوعمر نے کہا ہے کہ میں ان کی کوئی روایت نبی ﷺ سے نہیں جانتا ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں قتال مرتدین میں ان سے بہت بڑے بڑے کام ہوئے اور انھوں نے کچھ اشعار بھی کہے تھے جن کو ابن اسحق نے بیان کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ابو المعارک بن مرہ بن صخر بن بجیر طائی فیدی سے انھوں نے اپنے والد معارک سے انھوں نے انے والد صخر سے انھوں نے اپنے والد بجیر بن بجرہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں اس لشکر میں تھا جس کو رسول خدا ﷺ نے خالد بن ولید کے ہمراہ بھیجا تھا جب آپ نے اکیدر بادشاہ دومۃ الجندل کے پاس بھیجا رسول خدا ﷺ نے ہمسے فرمایا تھا کہ تم ا کیدر کو اس حال میں پائو گے کہ وہ چاندی رات یں گائے کا شکر کھیلرہا ہوگا یہ کہتے ہیں کہ م نے اسی حالت میں س کو پایا جیسا کہ رسول کدا ﷺ نے بیان فرمایا تھا پس ہم نے اسے گرفتار کر لیا اور  کے بھائی کو قتل کر دیا وہ م۔۔۔

مزید

سیدنا) ابجراہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عامر۔ انکی حدیث یہ ہے کہ یہ کہتے تھے ہم رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گئے اور اسلام لائے اور ہم نے آپ سے درخواست کی کہ نماز عشاء ہمس ے معاف کر دیں کیوں کہ ہم اس وقت اپنے اونٹوںکے وہنے میں مشغول رہتیہیں حضرت نے فرمایا تم انشاء اللہ اپنے اونٹوںکو بھی دوھ لو گے اور نماز بھی ڑھو گے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس حدیث کو بجیرہ کے تذکرہ میں لکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو بجرہ بھی کہتے ہی ہم بھی انشاء اللہ بجیرہ کے بیان میں ذکر کریں گے۔ بجیر ابن اوس بن حارثہ بن لام طائی۔ عروہ بن مضرس طائی کے چچا ہیں۔ انکے اسلام میں کلام ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید