ابن رفاعہ انصاری۔ ان کا ذکر اس حدیث میں ہے جو قتادہ نے مرسلا روایت کی ہے کہ ثابت بن رفاعہ کے چچا جو انصار میں سے ایک شخص تھے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے اور ثابت اس زمانے میں یتیم تھے اور انھیں کی تربیت میں تھے انھوںنے عرض کیا کہ یارسول اللہ ثابت یتیم ہے اور میری تربیت میں ہے مجھے اس کے مال سے کسی قدر نفع اٹھانا جائز ہے آپ نے فرمایا اس قدر کہ تم دستور کے موافق کھا لو بغیر اس کے کہ اپنا مال بچا کر ان کا مال صرف کرو (یعنی جب تمہارے پاس نہ ہو تو ان کے مال سے کھالو ورنہ نہیں) انکا تذکرہ ابن مندہا ور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ربیعہ۔ بنی عوف بن خزرج کی اولاد سے ہیں پھر بنی حبلی میں داخل ہوگئے تھے نام ان کا سالم بن غنم بن عوف بن خزرج ہے۔ انصاری ہیں۔ موسی بن عقبہ نے کہا ہے کہ یہ بدر میں شریک تھے اور کہا ہے کہ یہ یقینی بات نہیں ہے بلکہ مشکوک ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ربیع۔ عبدان نے ان کا تذکرہ اپنی سند سے یزید بن حبیب سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا ﷺ ثابت ابن ربیع کے پاس تشریف لے گئے اور وہ حالت نزع میں مبتلا تھے رسول خدا ﷺ نے انھیں آواز دی مگر وہ بولے نہیں تو رسول خدا ﷺ رونے لگے اور فرمایا کہ اگر وہ میری آواز کو سنتے تو ضرور جواب دیتے اس وقت ان کی ہر ہر رگ کو موت کا صدمہ بہت شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے عورتیں بھی رونے لگیں اسامہ بن زید نے انھیں منع کیا تو رسول خدا ھ نے فرمایا کہ جب تک یہ زندہ ہیں ان کو رونے دو مگر جس وقت ان کی جان نکل جاتی اس وقت پھر میں کسی رونے والی کی واز نہ سنوں۔ عبدان نے اس حدیچ کو ایسا ہی لکھاہے اور یہ حدیث جابر یا جبر بن عتیک کی روایت سے مشہور ہے اور اس روایت میں یہ ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ثابت کا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن دینار۔ ابراہیم بن جنید نے کہا ہے کہ یہ ثابت بیٹیہیں عازب کے بھائی ہیں براء بن عازب کے اور والد ہیں عدی ابن ثابت کے۔ ان کا تذکرہ ابو عبداللہ بن ماجہ نے اپنی سنن میں نماز کے بیان میں کیا ہے۔ انھوں نے محمد بن یحیی سے انھوں نے ہثیم بن جمیل سے انھوں نے ابن مبارک سے انھوں نے ابن مبارک سے انھوں نے ابان بن ثعلب سے انھوں نے دی بن ثابت سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا جب نبی ﷺ منبر پر (خطبہ پڑھنے) کھڑے ہوت تھے تو آپ کے صحابہ آ کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ ابن ماجہ نے کہا ہے کہ میں اس سند کو متصل سمجھتا ہوں۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ عدی بن ثبت انھیں ثابت کے بیٹِ ہیں اور ابو عمر نے ذکر یا ہے کہ عدی بن ثابت (ان ثابت کے بیٹینہیں ہیں بلکہ وہ ثابت بن قیس بن حلیم کے بیٹے ہیں واللہ اعلم۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن وحداح۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں دحداحہ بن نعیم بن غنم بن ایاس۔ کنیت ان کی ابو الدحداح ہے۔ بنی انیف میں سے ہیں یا بنی عجلان میں سے۔ بنی زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف کے حلفا میں سے ہیں۔ محمد بن عمر واقدی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عمار خطمی کہتے تھے کہ ثابت بن دحداح احد کے دن سامنے آئے اور مسلمان اس وقت متفرق ہو رہے تھے اور پریشان تھے پس یہ چلانے لگے کہ اے گروہ انصار میرے پاس آئو میں ثابت بن وحداحہ ہوں اگر محمد (ﷺ) مقتول ہوگئے (تو ہو جانے دو) اللہ زندہ ہے کبھی نہ مرے گا لہذا تم اپنے دین کی طرف سے لڑو اللہ تمہیں غالب کرے گا اور تمہاری مدد کرے گا چنانچہ ایک جماعت انصار کی ان کے پاس جمع ہوگئی اور وہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کے (کفار پر) حملہ کرنے لگے۔ ان کے مقابلہ پر کافروں کا ایک سخت لشکر آیا جس میں ان کے سردار تھے خالد بن ولید اور عمرو بن عاص اور عکرمہ بن ابی جہل اور ضرار بن خ۔۔۔
مزید
بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار انصاری خزرجی نجاری۔ صرف واقدی کے قول کے موافق یہ جنگ بدر میں شریک تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ حافظ ابو عبداللہ بن مندہ نے ثابت بن خالد بن نعمان بن خنسا کا ذکر لکھا ہے جو بنی تیم اللہ سے تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ وہی ہیں یا کوئی اور ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلاشک یہ اور ہیں کیوں کہ نسب میں باپ دادا کا نام مختلف ہے پھر ثابت بن خالد بنی مالک بن نجار سے ہیں اور یہ بنی عدی بن نجار سے ہیں۔ پس میں نہیں سمجھتا کہ یہ بات ابو موسی پر کیوں کر مشتبہ ہوگئی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن خالد بن نعمان بن جفسا بن عسیرہ بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک۔ بنی تیم اللہ سے ہیں۔ ان کا نسب ابن مندہ اور ابو نعیم نے ایسا ہی بیان کیا ہے۔ اور ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ ثابت بیٹے ہیں خالد بن نعمان بن جنسا بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار کے جنگ بدر میں شریک تھے۔ یہ اور ابو ایوب عبد بن عوف میں جاکے مل جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ابن مندہ نے یونس بن بکیر سے انھوںنے ابن اسحاق سے شرکائے بدر میں بنی غنم سے ثابت بن خالد بن نعمان کا ذکر کیا ہے اور ابن مندہ نے کہا ہے کہ موسی بن عقبہ نے ان کو بنی تیم اللہ سے لکھاہے اور ابن اسحاق نے شرکا سے بدر میں ابن اسحاق کی طرح ان کا ذکر لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ بنی تیم اللہ سے ہیں۔ میں کہتا ہوں بے شک ابن مندہ نے یہ گمان کیا ہے کہ بنی غنم اور میں بنی تیم اللہ اور میں اور بنی تیم اللہ اور میں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ غنم بیٹے ہیں مالک ۔۔۔
مزید
ابن حسان بن عمرو۔ بنی عدی بن نجار سے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بدر میں شریک تھے۔ یہ زہری کا قول ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حارث انصاری۔ جنگ بدر میں شریک تھے۔ ان کا شمار اہل مصر میں ہے۔ ان سے حارث بن یزید نے روایت کی ہے کہ انوں نے کہا یہود کی عادت تھی کہ جب ان کا کوئی چھوٹا بچہ مر جاتا تو کہتے کہ یہ صدیق ہے نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہود جھوٹ بولتے (٭یعنی بغیر علم کے یہ بات کہتے ہیں چٹے بچوں کی بابت علماء اسلام مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ سب ناجی ہیں بعض کہتے ہیں قطعا ناجی نہیں ہیں جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے حنفیہ کا مسلک اس بارے میں سکوت ہے) ہیں اللہ تعالی جب کسی جان کو ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے تو اسی وقت وہ شقی و سعید (بھی لکھ دیتا) ہے پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہو اعلم بکم اذا انشائکم من الارض واذا انتم اجنتہ فی بطون امہتکم الایہ (٭ترجمہ وہ (اللہ) تم سے خوب واقف ہے جب کہ اس نے تمہیں زمیں سے پیدا کیا اور جب کہ تم اپنی ماں کے شکم میں بچے تھے) ان کا تذکرہ تینوں نے۔۔۔
مزید
ابن جذع۔ جذع کا نام ثعلبہ بن زید بن حارث بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن شارہ بن تزید بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی ثم اسلمی۔ ابن اسحاق نے کہا ہے کہ یہ ثابت بیع تعقبہ میں شریک تھے اور زہری نے کہا ہے کہ یہ بدری ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید