پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عدی قرشی۔ صحابی ہیں ابو عمر نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قریش کے کس خاندان سے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے صنعاء شام کے حاکم تھے۔ ہمیں ابو محمدبن ابی القاسم نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر فرضی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو محمد جوہری نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عمر بن حیویہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن معروف نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسین بن فہم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن سعد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عازم بن فضل خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حماد بن زید نے ایوبس ے انھوں نے ابو قلابہ سے انھوں نے ابو الاشعث صنعانی سے روایت کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے جب ثمامہ بن عدی کو جو صنعاء شام کے حاکم تھے اور صحابی تھے عثمان بن عفان کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ روئے اور بہت روئے پھر جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے کہ خلافت ن۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  بن حزن بن عبداللہ بن سلمہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ قشیری نبی ﷺ کا زمانہ انھوں نے پایا تھا ان قاسم بن فضل نے رویت کی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ یہ حضرت عمر کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے تھے اس وقت ان کی عمر پینتیس سال کی تھی یہ ابن مندہ کا قول ہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا تھا مگر آپ کو دیکھا نہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اور عثمان رضی اللہ عنہ کو اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو انھوں نے دیکھا ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی ثمامہ جذامی کنیت ان کی ابو سوادہ۔ ابن مندہ نے ابو سعید بن یونس سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے عمرو بن حارث کی کتاب میں بکر بن سوادہ سے جو ان کے مولی تھے یہ روایت لکھی ہوئی دیکھی کہ نبی ﷺ نے ان کے دادا ثمامہ کے لئے دعا فرمائی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن بجاد عبدی۔ صحابی ہیں۔ ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے انھوں نے کوئی حدیث نہیں روایت کی ان سے ابو اسحاق سبیعی نے اور عیزار بن حریث نے رویت کی ہے۔ شعبہ نے اور زہیر نے ابو اسحاق سے انھوں نے ثمامہ بن بجاد سے جو صحابی ہیں روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں تمہیں ڈراتا ہوں اس (قسم کے حیلے بہانوں) سے کہ میں عنقریب (٭مقصود یہ ہے کہ جو کام کرتا ہے کر لو اس وقت کا کام دوسرے وقت پر اٹھا رکھنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ اس قسم کی طبیعت کا آدمی کبھی اپنے ارادے میں پورا نہیں اترتا) عبادت کروں گا عنقریب روزہ رکھوں گا عنقریب نماز پڑھوں گا۔ اس قول کو اسرائیل نے ابو اسحاق سے انھوں نے عیزار بن حریث سے انھوںنے ثمامہ بن بجاد سے اسی طرح روایت کی اہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن اثال بن نعمان بن مسلمہ بن عبد بن ثعلبہ بن یربوع بن ثعلبہ بن دول بن حنیفہ بن طیم۔ حنیفہ بھائی ہیں عجل کے۔ ہمیں ابو جعفر یعنی عبید اللہ بن حمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک خبر دی وہ ابن اسحاق سے وہ سعید مقری سے وہ ابوہریرہ سے روی ہیں کہ انھوں نے کہا ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ اس طرح پر ہے کہ رسول خدا ﷺ نے دعا مانگی تھی جب یہ برے ارادہ سے آپ کے سامنے آئے کہ اللہ آپ کو ان پر قابو دے یہ مشرک تھے اور بارادہ قتل آنحضرت ﷺ یہ حضرت کے سامنے آئے تھے (اتفاق سے چند روز کے بعد) ثمامہ اسی حالت شرک میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے یہاں تک کہ (اثنائے سفر میں) مدینہ پہنچے اور وہاں سبہوت ہوگئے یہاں تک کہ گرفتار کر لئے گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے حضور میں لائے گئے آپ نے حکم دیا کہ یہ مسجد کے کسی ستون سے باندھ دئے جائیں پھر رسول خدا ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے ثمام تمہار۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثلب (رضی اللہ عنہ)

ابن ثعلبہ بن عطیہ بن احنف بن مجفر بن کعب بن عنبر تمیمی عنبری۔ کنیت ان کی ابو ہلقام ہے بعض لوگ ان کو تلب تای ثناۃ کے ساتھ کہتے ہیں ان کا تذکرہ گذر چکا ہے ان کا ذکر لوگوں نے وہیں لکھاہے یہاں کسی نے نہیں لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد  نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثقف (رضی اللہ عنہ)

    ابن عمرو بن سمیط۔ بنی غنم بن دودان بن اسد سے ہیں خیبر کے دن شہید ہوئے۔ یہموسی بن عقبہ نے بن شہاب سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انصار کے حلیف تھے ابن اسحاق نے بھی ایسا ہی کہا ہے مگر انھوں نے کہا ہے کہ یہ بنی غنم کے حنیف تھے اور عروہ نے کہا ہے کہ خیبر کے دن قریش کی شاخ بنی عبد مناف سے ثقف بن عمرو شہید ہوئے جو قریش کے حلیف تھے اور بنی اسد بن خزیمہ کے خاندان سے تھے اس کو ابن مندہ اور ابو نعیم نے نقل کیا ہے۔ عروہ کا قول بہت صحیح ہے کیوں کہ بنی غنم بن دودان قریش کے حلیف تھے اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اپنے حلف پر قائم رہے۔ اور ابو عمر نے کہا ہے کہ ثقف بن عمرو اسلمی جن کو بعض لوگ اسدی کہتے ہیں بنی عبد شمس کے حلیف تھے کنیت ان کی ابو مالک ہے وہ اور ان کے بھائی علاج اور مالک بدر شریک تھے۔ یہ ثقف احد کے دن شہید ہوئے اور انھوں نے کہا ہے کہ موسی بن عقبہ نے یمان کیا کہ وہ خیبر ک۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ودیعہ انصاری۔ یہ ان لوگوں میں ہیں جو غزوہ تبوک میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ نہیں گئے تھے پھر انھوں نے اپنے آپ کو (مسجد نبوی کے) ستونوں سے باندھ دیا تھا یہاں تک کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور اعش نے ابو سفیان سے انھوں نے جابر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جو لوگ (غزوہ تبوک میں) رسول خدا ﷺ کے ہمراہ نہیں گئے تھے چھ آدمی تھے ابو لبابہ، اوس بن خزام ثعلبہ بن ودیعہ کعب بن مالک مرارہ ہلال بن امیہ پس ابو لبابہ اور اوس بن خذام اور ثعلبہ آئے اور انھوں نے اپنے آپ کو (ستونوں سے) باندھ دیا اور اپنے مال لے آئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ان مالوں کو لے لیجئے انھیں نے ہم کو آپ کے ہمراہ جانے سے روک دیا تھا رسول خدا ﷺ نے فرمایا میں ان لوگوں کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ پھر کوئی غزوہ پیش آئے پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی واخرون اعتر فوابذنوبھم خلطوا عملا صالحا و اغر سئیا (٭ترجمہ اور کچھ لوگ ہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی مالک قرظی۔ کنیت ان کی ابو یحیی ہے۔ قبیلہ بن ی قریضہ کے امام تھے رسول خدا ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد بن سعد نے کہا ہے کہ (ان ثعلبہ کے والد) ابو مالک یمن سے آئے تھے وہ یہودی تھے انھوں نے بنی قریضہ کی ایک عورت سے نکاح کیا لہذا یہ ان کی طرف منسوب ہوگئے حالانکہ یہ خود قبیلہ کندہ کے ہیں۔ یحیی بن معین نے کہا ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے۔ اور مصعب زبیری نے کہا ہے کہ ثعلب بن ابی مالک کی عمرو ہی ہے جو عطیہ قرظی کی عمر ہے اور ان کا قصہ بھی ان کے قصہ کے مثل (٭ان کا قصہ یہ ہے کہ بنی قریضہ کے قیدی جب گرفتار ہو کر آئے تو جو لوگ بالغ ہوچکے تھے وہ قتل کر دیئے جاتے تھے اور نابالغ چھوڑ دیے جاتے تھے یہ بھی چونکہ نابالغ تھے اس لئے قتل نہیں کئے گئے) ہے یہ دونوں چھوڑ دیئے گئے تھے قتل نہیں کئے گئے۔ محمد بن اسحاق نے ابو مالک بن ثعلبہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کے حضور ۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن قیظی۔ ہمیں ابو موسی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو نعیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن عبداللہ حضرمی نے خبر دی وہ کہتے تھے ابن ابی رافع کی حدیث میں مروی ہے کہ ثعلبہ بن قبطی بن صخر بن سلمہ بدری ہیں۔ ان کا تذکرہ ابو نعیم اور ابو موسی نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید