پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

(سیدنا) جہم ابن قثم (رضی اللہ عنہ)

  ۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد عبد القیس کے ہمراہ زارع کے ساتھ آئے تھے بشرط یہ کہ صحیح ہو مطر بن عبدالرحمن نے عبد القیس کی ایک عورت سے جن کا نام ام ابان بنت زارع تھا اور انھوں نے اپنے دادا ازارع سے روایت کی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے حضور میں اپنے ایک چچازاد بھائی کے ہمراہ حاضر ہوئے ھے۔ اس حدیث کو بکار بن قتیبہ نے موسی بن اسمعیل سے اپنی سند کے ستھ روایت کیا ہے وار ان کے چچا کے بیٹے کا نام جہم ابن قثم ہے۔ یہ جہم وہی شخص ہیں جن کا ذکر حدیث عبدالقیس میں ہے جب انھوںنے نبی ﷺ سے کچھ اشیا کی بابت پوچھا اور آپ نے انھیں ان کے بیٹے سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا ہ (دیکھو نشہ کی حالت میں سے خلاف عقل حرکات صادر ہوتے ہیں) یہاں تک کہ کوئی تم میں سے اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار مار دیتا ہے اور ان لوگوں میں ایک شخص تھا جو اسی وجہ سے زخمی ہوگیا تھا۔ ابن ابی خیثمہ نے کہا ہے کہ یہ جہم بیٹے ہیں قثم کے۔ ان کا تذکرہ ابو ۔۔۔

مزید

  (سیدنا) جہم (رضی اللہ عنہ)

  بلوی۔ ان سے ان کے بیٹے علی نے یہ روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا ہم لوگ جمعہ کے دن رسول خدا ﷺ کے حضور میں گئے حضرت نے ہم سے پوچھا کہ تم کون ہو ہم نے عرض کیا کہ ہم عبد مناف کی اولاد سے ہیں حضرت نے فرمایا تم عبداللہ کے (٭یعنی تم یرے حقیقی بھائی کے مثل ہو آنحضرت ﷺ بھی عبد مناف کی اولاد سے تھے) بیٹے ہو۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہِ۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) جہم (رضی اللہ عنہ)

  اسلمی۔ اور بعض لوگ ان کو سلمی کہتے ہیں۔ یہ وہم ہے صحیح نام ان کا جاہمہ ہے۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے حسان بن غالب نے ابو لہیعہ سے انھوںنے یونس بن یزید سے انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے محمد بن طلحہ سے انھوں نے ابو حنظلہ بن عبداللہ سے انھوں نے معاویہ بن جہم اسلمی سے انھوں نے اپنے والد جہم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ھ کے حضور میں گیا اور میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں نے خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کیا ہے آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے میں نے عرض یا کہ ہاں میری والدہ زندہ ہیں حضرت نے فرمایا تو تم ان کے قدم کو کڑ لو (یعنی ان کی خدمت کرو) جہم کہتے تھے کہ میں نے حضرت سے تین مرتبہ یہی کہا (بالاخر) آپ نے فرمایا کہ تیری خرابی ہو اپنی ماں کا قدم پکڑ ے وہیں جنت ہے۔ ابن جریج نے اس کی مکافلت کی ہے اور انھوں نے محمد بن طلحہ سے انھوں نے ابو حنظلہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) جہر (رضی اللہ عنہ)

    کنیت انکی ابو عبداللہ۔ ان کی حدیث زہری نے عبداللہ بن جہر سے انوںنے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا میں نے (ایک مرتبہ) نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی (اور تسبیحات وغیرہ ذرا بلند آواز سے کہیں) جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اے جہر اپنے پروردگار کو سنائو اور مجھے نہ سنائو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) جہدمہ (رضی اللہ عنہ)

    ابو موسین کہا ہے کہ ابن شاہین وغیرہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ہمیں ابو موسینے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن حارث نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو احمد عطاء نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عمر بن احمد بن عثمان یعنی ابو حفص نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں جعفر بن محمد بن شاکر نے خبر دی نیز ابو حفص کہتے تھے ہم سے محمد بن یعقوب ثقفی نے بیھ بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن عمار رازینے خبر دی یہ دونوں (یعنی احمد بن عمار اور جعفر بن محمد) کہتے تھے ہم سے محمد بن صلت نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں منصور ابن ابی الاسود نے ابو حبابسے انھوںن ایاد بن لقیط سے انھوںنے جہدمہ سے روایت کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے نبی ﷺ کو دیکھ آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے تھے آپ کے سر میں مہندی کارنگ تھا۔ اس کو ایک جماعت نے ایاد سے انھوںنے ابو رمثہ سے روایت کیا ہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) جہجاہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن قیس۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں ابن سعید بن سعد بن حرام بن غفار غفاری۔ اہل مدینہ میں سے ہیں ان سے عطاء ابن یسار اور سلیمان بن یسار نے روایت کی ہے۔ نبی ﷺ کے ہمراہ بیعۃ الرضوان میں شریک تھے اور غزوہ مریسیع میں بھی شریک تھے جو قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنی مصطلق کے ساتھ ہوا تھا۔ اس زمانے میں یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اجیر تھے۔ ان کے اور سنان بن فروہ جہنیکے درمیان میں اس غزوہ میں کچھ نزاع ہوگئی تھی تو جہجاء نے آواز دی کہ اے مہاجرین (دیکھو) اور سنان نے آواز دی کہ اے انصار (دیکھو) اور سنان بنی عوف بن خزرج کے حلیف تھے اور یہی معاملہ عبد اللہ بن ابی سردار منافقین کے اس قول کاباعث تھا کہ لیخر جن الاعز منہا الاذل (٭ترجمہ صاحب عزت ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا اس منافق نے یہ کہا تھا کہ اگر ہم مدینہ لوٹ کر گیء تو ہم میں جو صاحب عزت ہیں یعنی منافقین ذلیل لوگوں یعنی مسلمانوں کو مدینہ سے نکال۔۔۔

مزید

(سیدنا) جہبل (رضی اللہ عنہ)

    ابن سیف۔ بنی جلاح سے ہیں۔ یہی ہیں جو نبی ﷺ کے وفات کی خبر لے کر حضر موت گئے تھے اور انھیں کی نسبت امرء القیس بن عابس نے یہ شعر کہا تھا شعر شمت البغایا یوم اعلن جھبل  بنعی احمد النبی المہتدی (٭ترمہ نامراد ہوگئے لشکر (سلام) جب جہیل نے اعلان کیا خبر وفات احمد نبی ہدایت یافتہ کا) جہیل اور ان کے گھر کے لوگ (قبیلہ) کلب سے تھے حضر موت میں رہتے تھے۔ ابن کلبی نے ان کا ذکر اسی طرح لکھاہیک ہ یہ کلب بن وبرہ کے خاندان سے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) جنید (رضی اللہ عنہ)

    ابن عبدالرحمن بن عوف بن خالد بن عفیف بن بجید بن رداس بن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ۔ یہ اور ان کے بھائی حمید اور عمرو بن مالک نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے۔ یہ ہشام کلبی کا قول ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) جنید (رضی اللہ عنہ۹

  ابن سباع جہنی اور بعض لوگ کہتے ہیں (ابن) حبیب کنیت ان کی ابو جمعہ ہے۔ انکا شمار اہل شام میں ہے لوگوں نے ان کا ذکر یہاں نون کے بعد یای مثناۃ تحتانہ کے ساتھ کیا ہے ور ان کی حدیث جنبذ نون کے بعد باے موحدہ کے بیان گذر چکی ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) جندلہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن فضلہ بن عمرو بن بہدلہ۔ ان کی حدیث علامات نبوت کے متعلق ایک عمدہ حدیث ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید