پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ۹

    ابن خزیمہ کنیت ان کی ابو خزیمہ۔ انصاری ہیں۔ ابن شہاب نے عبید بن سباق سے انھوں نے زی د(بن ثابت) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا سورہ توبہ کی آخری آیتیں مجھے خزیمہ بن ثابت کے پاس ملیں یہی قول صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن خزرمہ بن عدی بن ابی بن غنم۔ غنم کا نام قوقل بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ہے۔ انصاری ہیں خزرجی ہیں بنی عبدالاشل کے حلیف تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام حارث بن خزیمہ تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں (ابن) خزیمہ یہ طبری کا قول ہے۔ انھوں نے ان کا نسب ویسا ہی بیان کیا ہے جیسا ہم نے لکھا اور ابن کلبی نے بھی ان کا نسب ایسا ہی لکھاہے اور ان لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بدر میں اور احد میں اور خندق میں اور اس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک تھے۔ یہی ہیں جو رسول خدا ﷺ کی اونٹنی لے آئے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں کھو گئی تھی اور منافقوں نے کہا تھا کہ محمد (ﷺ) اپنی اونٹنی کی خبر تو جانتے نہیں وہ آسمان کی خبر کیسے جان سکتے ہیں رسول خدا ﷺ کو جب ان کی اس گفتگو کا حال معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میں وہی باتیں جانتا ہوں اللہ جن کی اطلاع مجھے دے اب اللہ نے اس کا مقام مجھے بتلا دیا ہے سنو وہ فلاں شعب۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن خالد قریسی۔ ان کی حدیث ہشیم بن عبدالرحمن عذری نے موسی بن اشعث سے روایت کی ہے کہ قریش کے ایک شخص جن کا نام حارث بن خالد تھا نبی ﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھے وہ کہتے تھے کہ آ پ کے پاس وضو کے لئے پانی لایا گیا اور آپ نے وضو فرمایا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ شاید یہ وہی خالد ہیں جو خالد بن صخر تیمی کے بیٹے ہیں ان کانسب نہیں بیان کیا واللہ اعلم ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن خالد بن صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کے دادا ہیں مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنی بی بی ریطہ بنت حارث بن حبیلہ بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم کے ساتھ سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی ان کا اور ان بی بی کا نسب عامر میں جاکے مل جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انھوں نے جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ حبش کی طرف پھر دوبارہ ہجرت کی تھی اور وہیں حبش میں ان کی اولاد یعنی موسی اور عائشہ اور زینب اور فاطمہ پیدا ہوئی تھیں یہ سب بچے حبش ہی میں مر گئے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے والد انھیں حبش سے نبی ﷺ کے پاس لئے ہوئے آرہے تھے اثنائے راہ میں انھوں نے کہیں پانی پیا (اس پانی میں نہ معلوم کی اتھا کہ) سب مر گئے صرف یہی تنہا بچ رہے جب یہ مدینہ پہنچے تو نبی ﷺ نے یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف کی لڑکی سے ان کا نکاح کر دیا۔ ابو عمر نے ان کے تذکرہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن حکیم ضبی۔ ہمیں ابو موسی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن حارثنے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عمر بن حسن بن علی ش مجھ سے منذر بن محمد نے بیان کیا دیکھت یھے ہمیں حسین بن محمد نے یوسف بن عمر سے انھوں نے صعب بن بلال غیبی سے انھوں نے اپنے والد حارث بن حکیم غبنی سے روایت کی ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے حضرت نے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے انھوں نے عرض کیا کہ عبد الحارث حضرت نے فرمایا تم عبداللہ ہو پس آپ نے ان کا نام عبداللہ رکھا اور انھیں ان کے قوم کے صدقات کا متولی بتایا۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے ابن مندہ پر استدراک کرنے کے لئے لکھا ہے مگر اس میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کیوں کہ انھوں نے ان کا وہی نام لکھا ہے جو جاہلیت میں تھا یعنی عبد الحارث اگروہ ان کا اسلامی نام لکھتے یعنی عبداللہ تو پھر ان کے یہاں کر کرنے کی کو۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

ابن حکم سلمی۔ نبی ﷺ کے ہمراہ انھوں نے تین غزوے کئے تھے ان سے عطیہ دعاء نے رویت کی ہے مگر یہ وہم ہے (کہ ان کا نام۹ حلم بن ہارث (ہے)یہی ابن مندہ نے لکھا ہے اور ابو نعیم نے ان کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ بعض متاخرین نے ان کا ذکر لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہم ہے صحیح نام ان کا حکم بن حارث ہے اور انھوں نے ان کا تذکرہ حکم کے نام میں لکھا ہے۔ اور ابو عمر نے ان کا تذکرہ حکم ہیکے ام میں لکھا ہے اور ان دونوں ے بھی ان کا تذکرہ حکم کے نام میں لکھا ہے) (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا۹ حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن حسان ربعی بکری ذہلی۔ بعض لوگ ان کو حویرث کہتے ہیں۔ کوفہ میں رہتے تھے۔ ان سے ابو وائل نے اور سماک بن حرب نے رویت کی ہے وہ کہتے تھے ہمیں عبد الوہاب نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عفان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سلام یعنی ابو المنذر قاری نے عاصم بن بہدلہ سے انھوں نے ابو وائل نے انھوں نے حارث بن حسان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہمارا گذر مقام ربذہ میں ایک بوڑھیا پر ہوا جو راستہ بھول گئی تھی خاندان بن تمیمس ے تھی اس نے (ہم سے) پوچھا کہ تم لوگ کہاں جاتے ہو ہم لوگون نے کہا کہ ہم رسول خدا ﷺ کے حضور میں جاتے ہیں اس بوڑھیا نے کہا مجھے بھی اپنے ہمراہ لے چلو مجھے ان سے کچھ کام ہے حارث کہتے تھے میں نے اسے اپنے ہمراہ بٹھا لیا جب میں (مدینہ منورہ) پہنچا تو میں مسجد میں گیا مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور ایک سیاہ جھنڈا ہل رہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن حیال بن ربیعہ بن دعیل بن انس بن خزیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم اسلمی۔ نبی ﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور آپ کیہمراہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ ابن شاہین نے اور طبری نے اور کلبی نے ان کا ذکر لکھا ہے اور کلبینے ان کا نسب بھی ویسا ی بیان کیا ہے جیسا ہم نے بیان کیا اور انھوں نے ابو برزہ کانسب بھی بیان کیا ہیاور کہا ہے ابو برزہ بن عبداللہ بن حارث بن حیال پس اس تقدیر پر حارث ابو برزہ کے دادا ہوں گے اور یہ بہت بعید ہے ابو برزہ کا پورا نسب ان شاء اللہ تعالی بیان کیا جائے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن حباب بن ارقم بن عوف بن وہب۔ کنیت ان کی ابو معاذ قاری۔ اس کو ابن شاہین نے بیان کیا ہے ان کا تذکرہابو موسینے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن حاطب بن عمرو بن عبید بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی۔ بعض لوگ کہتیہیں کہ یہ بنی عبد الاشہل سے ہیں مگر پہلا ہی قول زیادہ صحیح ہے۔ نیت ان کی ابو عبد اللہ ہے۔ ثعلبہ بن حاطب کے بھائی ہیں۔ موسی بن عقبہ نے ان لوگوں میں ان کو ذکر کیا ہے جو انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنی عمرو بن عوف کے خاندان بنی امیہ ابن زید میںسے غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہ اور ان کے بھائی ابو لبابہ بن عبد المنذر رسول خدا ﷺ کے ہمرہ غزوہ بدر کی طرف تشریف لے گئے تھے حضرت نے مقام روحاء سے اند ونوں کو واپس کر دیا اور ابو لبابہ کو مدینہ کا حاکم بنا دی ااور حارث کو بنی عمرو بن عوف کا امیر بنایا اور ان دونوں کو مال غنیمت سے حصہ بھی دیا اور ثوابکا بھی امیدوار کیا پس یہ دونوں مثل اس کے ہوئے جو غزوہ بدر میں شریک ہوا جنگ صفین میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف تھے ان کا تذکرہ ا۔۔۔

مزید