پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

سیّدنا عبداللہ ابن یزید بن حصن رضی اللہ عنہ

   بن عمرو بن الحارث بن خطمتہ بن حبشم بن مالک بن الاوس۔انصاری۔اوسی خطمی ان کی کنیت ابوموسیٰ تھی۔یہ کوفہ میں رہ گئے تھے اور وہیں ایک مکان بنالیاتھا اور یہ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے اس وقت ان کی عمرسترہ سال کی تھی اور غزوہ حدیبیہ کے مابعد غزووں میں بھی شریک تھے ان کو عبداللہ بن زبیر نے کوفہ کاعامل بنادیاتھا۔اور یہ (حضرت)علی بن ابی طالب کے ہمراہ وقعہ جمل اور صفین اور نہروان میں شریک تھے ان سے ان کے لڑکے موسیٰ نے اورعدی بن ثابت انصاری نے جوکہ ان کے نواسے تھے اور ابوبردہ بن موسیٰ نے اورشعبی نے جو کہ ان کے کاتب تھے حدیث روایت کی ہے یہ اکابر صحابہ میں تھے۔ان کے والد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ہیں۔یہ غزوہ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے۔ ان کی وفات فتح مکہ کے پہلے ہوگئی تھی۔ہمیں ابراہیم ابن محمد فقیہ نے اوراسمعیل بن علی مذکروغیرہ نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابوعیس۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ بربوعی۔ رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب معلوم نہیں۔عطوان بن مسکان ضبی نے جمرہ بنت عبداللہ یربوعیہ سے روایت کر کے بیان کیا وہ کہتی تھیں کہ مجھ کو میرے والد بعد اس کے کہ میں نے ان پر صدقہ کرکے اونٹ کو واپس کردیاتھارسول خد اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ میری اس لڑکی کے لیے آپ دعاکردیں تو آپ نے مجھ کو اپنی گود میں بٹھالیااور میرے لیے دعا کی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے اور ابوعمر نے ان کے تذکرہ کو ان کی لڑکی حجرہ کے تذکرہ میں لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نعیم رضی اللہ عنہ

    ۔انصاری۔عاتکہ بنت نعیم کے بھائی ہیں۔صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نعیم رضی اللہ عنہ

   اشجعی۔یہ سفرخیبرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہبرتھے۔ان کاتذکرہ بغوی نے اسی طرح لکھا ہے مگران کی کوئی حدیث روایت نہیں کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نعمان بن بلدمہ رضی اللہ عنہ

  بن خناس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی۔ابن ہشام نے کہا ہے کہ بلدمہ کی بے کوضمہ اور بے کے بعد ذال منقوطہ ہے۔یہ عبداللہ ابوقتادہ کے چچازادبھائی تھے یہ عبداللہ بدرمیں اوراحد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور ابوموسیٰ کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نضلہ بن مالک رضی اللہ عنہ

  بن عجلان بن زید بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی۔ بدر میں شریک تھے اوراحد کے دن شہید ہوئے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نضلہ کنانی رضی اللہ عنہ

  ۔فریابی نے سفیان ثوری سے انھوں نے عمربن سعید سے انھوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے انھوں نے عبداللہ ابن فضلہ کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اورحضرت ابوبکروعمر کی وفات ہوئی اس وقت تک مکہ کے بازار فروخت نہ کیے جاتے تھے۔اس کومعاویہ بن ہشام نے عمرسے انھوں نے عثمان سے انھوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انھوں نے علقمہ بن فضلہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

  ۔قبیلۂ بنی عدی بن کعب سے ہیں قریشی ہیں۔مہاجرین حبش سے ہیں۔عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جن لوگوں نے حبش کی طرف حضرت جعفربن ابی طالب کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں عبداللہ بن نضلہ بھی تھے جوخاندان بنی عدی بن کعب سے تھے قریشی تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی ہے علمأ مغازی نے خواہ زہری ہوں خواہ ابن اسحاق کسی نے اس بات میں اختلاف نہیں کیاکہ ان کا نام معمر بن  عبداللہ بن نضلہ ہے۔ان کا تذکرہ معمرکے نام ہیں انشاءاللہ تعالیٰ آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

  ۔قبیلۂ بنی عدی بن کعب سے ہیں قریشی ہیں۔مہاجرین حبش سے ہیں۔عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جن لوگوں نے حبش کی طرف حضرت جعفربن ابی طالب کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں عبداللہ بن نضلہ بھی تھے جوخاندان بنی عدی بن کعب سے تھے قریشی تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی ہے علمأ مغازی نے خواہ زہری ہوں خواہ ابن اسحاق کسی نے اس بات میں اختلاف نہیں کیاکہ ان کا نام معمر بن  عبداللہ بن نضلہ ہے۔ان کا تذکرہ معمرکے نام ہیں انشاءاللہ تعالیٰ آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

  ۔کنیت ان کی ابوبرزہ ہے۔اسلمی ہیں۔ ان کے نام میں لوگوں میں اختلاف کیاہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ عبداللہ کے ناموں میں کیاہے اورواقدی سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے کہتے تھے کہ ان کا نام عبداللہ بن نضلہ ہے ابن شاہین نے کہاہے کہ ان کے بیٹے سے زیادہ ان کاعلم کسے ہوسکتاہے۔ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکنیت کے باب میں بھی کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید