امام حماد بن سلمہ
نام : حماد بن سلمہ
کنیت: ابو
سلمہ
تحصیل علم:
آپ نے جس
زمانہ میں ہوش سنبھالا بصرہ علم وادب کا گہوارہ تھا۔ حماد کو دینی علوم کے علاوہ
مروجہ علوم، ادب ولغت، نحو اور شاعری پر بھی کامل دسترس تھی۔ حدیث وفقہ قرآن
وتفسیر کی تحصیل تابعین عظام اور تبع تابعین سے کی تھی اپنے ذوق علم کے سبب بے
شمار احادیث اور فقہ وفتاویٰ کے وارث بن گئے حدیث میں ثابت البنانی اور حمید
الطویل کی روایات کے خاص حامل تھے ان کے علاوہ ابن ابی ملیکہ، ابو حمزہ، محمد بن
زیاد، ابو عمران، انس بن سیرین، قتادہ، سماک بن حرب، اسحاق بن عبداللہ، عبداللہ بن
انس، ابو زبیرمکی، ہشام بن عروہ، یحیی ٰ بن سعید، خالد الخداء، سلیکان تیمی،
عبدالملک بن عمیر، عبدالعزیز بن صہیب، عمرو بن دینار، ہشام بن زید، ایوب سختیانی،
داؤد بن ابی ہند سے درس حدیث وفقہ وتفسیر لیا۔
تحصیل علم کے بعد حمادبن سلمہ نے
درس وتدریس کا آغاز کیا اور مرجع خلائق بن گئے۔
علم وفضل:
حماد بن
سلمہ نے اپنے وقت کے جلیل القدر ائمہ دین اور اساتذہ سے کسب علم کیا تھا ۔ ان کے
اندر ان کے شیوخ اور اساتذہ کی علمی وعملی صفات جمع ہوگئی تھیں، اور ان کا مقام علماء
کی صف میں نمایاں ہوگیا تھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، عربیت، لغت، نحو میں انہیں کامل
دستگاہ حاصل تھی، ان کے علمی وفنی محاسن کا تذکرہ علماء اسلام نے اس طرح کیا ہے ۔
عبداللہ بن مبارک: دخلت البصرۃ فما رأیت احدا اشبہ
بمالک الاول من حماد بن سلمہ:
میں بصرہ آیا تو میں نے کسی شخص کو حماد بن سلمہ سے زیادہ اسلاف کے مسلک پر چلنے
والا نہ پایا۔
(تہذیب ج3ص ۱۲)
میں نے کسی فقیہ کو عبدالوارث سے بڑا فصیح نہیں دیکھا اور
حماد بن سلمہ ان سے بڑے فصیح تھے۔
حافظ ذہبی: الامام الحافظ شیخ الاسلام ۔ النحوی المحدث ، امام شیخ الاسلام حدیث میں مشہور ہیں حدیث
میں کمال کے ساتھ ساتھ علم نحو میں بھی ماہر تھے۔
(تذکرہ ج1ص 189)
حدیث:
علم حدیث
میں ان درجہ بہت بلند تھا ، زمرۂ تبع تابعین میں وہ خدمت حدیث کے لحاظ سے خاص عظمت
رکھتے ہیں۔ ابو داؤد دطیالسی نے اپنی مسند میں کئی سوروایتیں آپ کے واسطے سے نقل
کی ہیں۔امام مسلم نے بھی صحیح مسلم میں آپ
کی روایتیں نقل کی ہیں اس کے علاوہ دوسری مستند کتب حدیث میں بھی آپ کی سند سے
حدیثیں بیان کی گئی ہیں۔ کثرت علم کے باوجود روایت حدیث میں بہت محتاط تھے بلکہ
انہوں نے ترک روایت کا ارادہ بھی کرلیا تھا مگر ان کے شیخ ابو ایوب سختیانی نے
خواب میں اس ارادےسے باز رہنے کی تاکید کی، خود کہتے ہیں؛
’’ماکان من نیتی ان احدث
حتی قال لی ایوب فی النوم حدث‘‘
حدیث بیان کرنے کا میرا، ارادہ نہ تھا حتی
کہ ابو ایوب سختیانی نے مجھے خواب میں تحدیث کا حکم دیا۔
(تذکرہ ج1 ص 190)
آپ کی ثقاہت کا اعتراف اکابر ملت نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
علی بن مدینی : لم یکن فی اصحاب ثابت السبت من حماد بن سلمۃ‘‘ ثابت بنانی کے
شاگردوں میں کوئی بھی حمادسے زیادہ اثبت نہیں تھا ۔
(تہذیب التہذیب ج۳ ص۱۲)
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ’’قد قیل ان ابن ابی العوجاء کان ربیہ فکان یدس فی کتبہ‘‘ کہاجاتا ہے کہ ان کا ایک ربیب ابن ابی عوجاء نامی تھا
جوا ن کی کتابوں میں ردو بدل کیا کرتا
تھا۔
حماد سلمہ کی علمی شخصیت علم کا مرجع تھی، لوگ ان کی بارگاہ
میں کسب علم کے لیے جوق در جوق آتے تھے۔ آپ کے حلقۂ درس سے فیض پانے والوں کی بڑی
تعداد ہے ۔
آپ کے شاگرد:
ابن
جریج، ثوری، شعبہ، عبدالہ بن مبارک، ابن مہدی ، قطان ، ابوداؤد، ابو الولید، ابو
سلمہ، تبوذکی، آدم بن ابی ایاس، شیب، اسود بن عامرشاذان، بشر بن سری، نہر بن اسد، سلیمان
بن حرب، ابو نصر الشمار، شیبان بن فروخ، عبداللہ عیشی۔
تصنیف:
امام
حماد بن سلمہ نے دور تدوین میں اپنی تصانیف کے ذریعے بھی حدیث کی خدمت کی مگر
افسوس کہ ان کی کتابیں دست برد زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکیں، حافظ ذہبی لکھتےہیں ’’ھو اول من صنف التصانیف مع ابن ابی عروبۃ وکان بارعا فی
العربیۃ فقیھا فصیحا مفوھا صاحب سنۃ‘‘
آپ پہلے شخص ہیں جس نے بصرہ میں سعید بن ابی عروہ کے ساتھ
علم حدیث میں متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں، آپ عربی میں کامل، فقہ میں ماہر، عمل میں
متبع سنت اور خطابت میں فصیح البیان تھے ۔
(تذکرہ ج1ص 190)
عبادت وریاضت:
امام حماد
بن سلمہ علم وعمل کے پیکر تھے۔ عبادت وریاضت کا شوق فطری تھا وہ اپنا ہر عمل خالصۃ
لوجہ اللہ کرتے دنیا کے لیے ان کا کوئی عمل نہ ہوتا اور نہ وہ غیراللہ کےلیے اپنے
کسی عمل کوجائز قرار دیتے چنانچہ وہ کہا کرتے۔
’’من طلب الحدیث نضیر اللہ مکربہ‘‘ جو شخص علم حدیث غیر
اللہ کے لیے پڑھے گا وہ اللہ کی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔
ان کا عمل خیر صر ف اللہ کے لیے ہوتا عفان بیان کرتےہیں۔
’’قد رائیت من ھو عبد من حماد بن سلمہ ولکن مارائیت اشد
مواظبۃ علی الخیر وقرأۃ القرآن والعمل للہ منہ‘‘ من نے حماد بن سلمہ سے زیادہ
عبادت کرنے والے لوگ تو دیکھے ہیں لیکن نیکی کے کام تلاوت قرآن اور اللہ تعالی کے
لیے عمل کرنے میں ان سے زیادہ مداومت کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔
وصال :
یونس بن
مؤدب کہتے ہیں ’’مات حماد بن سلمۃ فی
الصلوۃ‘‘ حماد بن سلمہ کا نماز پڑھنے کی
حالت میں 167ھ اسی سال میں عمر میں آپ کا وصال ہوا ۔ (تذکرہ ج1ص 190)
ماخذ مرجع: محدثین عظام کی حیات وخدمات
