امام حافظ علی بن مدینی
نام :
علی بن مدینی
ولادت:
آپ کی ولادت ۱۶۱ھ میں
ہوئی ۔
مدینی کی نسبت :
امام جرح و تعدیل،
محدث اعظم علی بن عبداللہ بن جعفر بن نجیح سعدی آپ کا خاندان قبیلہ بنو سعد کے ایک
شخص عطیہ اسعدی کا غلام تھا آبائی وطن مدائن تھا جس کی وجہ سے مدینی مشہور ہوئے۔
بعد میں یہ خاندان بصرہ میں آباد ہو گیا تھا جہاں ۱۶۱ھ
میں علی بن مدینی پیدا ہوئے۔
تحصیل علم:
جب آنکھ کھولی تو
اپنے والد ماجد (جو مشہور محدث تھے) کی آغوش شفقت میں تحصیل علم کا آغاز کیا والد
کے وصال کے بعد انہوں نے بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، مدینہ، یمن اور دوسرے اسلامی
شہروں کا سفر محض طلب علم کے لیے کیا اور وہاں کے اساتذہ فن سے حدیث وفقه کا درس لیا۔
ان کا طبعی رجحان حدیث کی جانب تھا چنانچہ اس میں کمال پیدا کیا انہوں نے طلب حدیث
کے لیے جب یمن کا سفر کیا تو تیس سال تک وہاں مقیم رہے ابن مدینی کا علمی شغف اتنا
بڑھا ہوا تھا کہ رات کو سوئے سوئے کوئی حدیث یاد آگئی یا کوئی شبہ ہوا فوراً نوکر
سے کہتے کہ چراغ جلا چراغ جل جاتا اور وہ جب اپنی تسکین کر لیتے تب کہیں انہیں نیند
آتی تھی۔
(تاریخ بغداد ج ۱۱ ص ۳۶۳)
شیوخ حدیث :
ان کے والد
عبداللہ بن جعفر، حماد بن زید، ابن عیینہ، ابن علیہ، ابو ضمرہ، بشر بن مفضل، حاتم
بن وردان، خالد بن حارث، بشر بن سری، ازہر بن سعد سمان، حرمی بن عمارہ، حسان بن
ابراہیم، شبابہ، مرحوم بن عبدالعزیز، سعید بن عامر، ابواسامہ، یحییٰ بن سعید قطان،
یزید بن رزیع، ہشیم، محمد بن طلحہ تیمی، معاذ بن معاذ، عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ،
عبداللہ بن وہب، عبدالعزیز بن ابی حازم ،عبدالعزیز العمی، ، فضیل بن سلمان، ہشام
بن یوسف صنعانی، عبدالرزاق، یوسف بن یعقوب ماجشون، ابو الغندر، صفوان اموی۔
(تہذیب
التہذیب ج ۷ ص ۳۰۶)
فضل و کمال اور حدیث:
ابن مدینی نے جس
ذوق وشوق سے علم حاصل کیا اور جس حزم واحتیاط سے ذخیرہ حدیث کو اسقام سے پاک کرنے
اور راویان حدیث کے احوال وکوائف اور ان کے صدق وکذب پر لوگوں کو آگاہ فرمایا جس کی
وجہ سے اکابر حدیث اور خود ان کے شیوخ بھی آپ کے فضل و کمال کے معترف ہو گئے اور
چار دانگ عالم میں آپ کی عظمت علم کا ڈنکا بجنے لگا۔ امام نووی تحریر فرماتے ہیں۔
تمام لوگ ان کی جلالت شان، امامت اور کمال اور دوسروں پر ان کی فوقیت کا اعتراف
کرتے ہیں۔
(تہذیب
الاسماء ج ۱ ص ۳۵۰)
ابن عیینہ:
"یلموموننی
علی حب علی واللہ لقد كنت اتعلم منه اكثر مما يتعلم منی" لوگ مجھے علی بن مدینی
کی محبت پر ملامت کرتے ہیں خدا کی قسم جتنا وہ مجھ سے علمی فائدہ اٹھاتے ہیں میں
اس سے کہیں زیادہ ان سے علمی فائدہ حاصل کرتا ہوں۔
(تہذیب
التہذیب ج ۷ ص ۳۰۷)
عبدالرحمن بن مہدی:
"علی بن المدينی اعلم
الناس بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم وخاصة بحديث ابن عيينة"
علی بن مدینی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث عموماً اپنے شیوخ میں سے سفیان بن عیینہ
کی حدیث خصوصاً سب لوگوں سے زیادہ جانتے تھے۔ (ایضاً)
امام نسائی:
"كان الله عز وجل خلق
علی بن المدينی لہذا الشان" ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علی بن مدینی
علم حدیث کی خدمت کے لیے ہی پیدا کیے گئے تھے۔ (ایضاً)
امام بخاری:
"ما
استصغرت نفسي عند احد الا عند علي بن المديني" جتنا میں
نے اپنے آپ کو علی بن مدینی کے سامنے چھوٹا پایا ہے، اتنا کسی اور استاد کے پاس نہیں۔
(ایضاً ص ۳۰۸)
امام ابو داؤد:
"علي اعلم باختلاف
الحديث من احمد"
علی بن مدینی اختلافِ حدیث کو احمد بن حنبل سے زیادہ جانتے ہیں۔ (ایضاً)
ابنِ حبان:
"كان اعلم اهل زمانه
بعلل حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم ورحل وجمع وكتب وصنف وذاكر وحفظ"
علی بن مدینی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علل کے بڑے علماء میں سے تھے انہوں
نے سفر کیا۔ حدیثیں جمع کیں۔ ان کو لکھا ان پر کتابیں تصنیف کیں پھر ان سے متعلق
مذاکرہ کیا اور انہیں محفوظ رکھا۔ (ایضاً ص ۳۱۱)
امام نسائی:
"ثقة مامون احد الائمة في الحديث" وہ
معتبر اور مامون ائمہ حدیث میں سے ہیں۔ (ایضاً)
ابو زرعہ"لا يرتاب في صدقه" ان کی
سچائی میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ (ایضاً)
یحییٰ بن سعید قطان:
"انا اتعلم من على اكثر مما يتعلم منى"
جتنا علم علی مجھ سے سیکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ میں ان سے سیکھتا ہوں۔
(تذکرہ ج ۲
ص ۱۵)
حافظ ذہبی:
"حافظ العصر وقدوة
ارباب هذا الشان، صاحب التصانيف" وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے حافظِ حدیث
اور اربابِ علم حدیث کے پیشوا تھے۔ اپنے پیچھے بہت سی کتابیں یادگار چھوڑی ہیں۔ (ایضاً)
معرفتِ علل اور رجال:
مذکورہ بالا ائمہ
فن اور محدثین کے اقوال آراء اور ابنِ مدینی کی توصیف میں مبالغہ نہیں ہے سچ تو یہ
ہے کہ ابنِ مدینی کو جو خصوصیت حاصل تھی ان کے شیوخ اور معاصرین میں بہت کم لوگوں
کو حاصل ہوئی۔ آپ علم حدیث کے محض حافظ اور راوی ہی نہ تھے بلکہ حدیثِ نبوی کے عارف
و ماہر تھے سند و متن رواۃ و روایت ہر چیز پر گہری نظر رکھتے تھے خامیوں اور نقائص
کا انہیں کامل ادراک تھا۔
ابو حاتم:
"كان على علما في
الناس في معرفة الحديث والعلل وكان احمد لا يسميه انما يكنيه تبجيلا له وما سمعت
احدا سماه قط"
علی بن مدینی لوگوں میں حدیث اور اس کے علل کی معرفت میں ایک علامت و نشان تھے۔ میں
نے امام احمد بن حنبل کو ان کا نام لیتے ہوئے کبھی نہیں سنا ہمیشہ ان کی تعظیم و
تکریم کے پیشِ نظر ان کی کنیت ہی سے ان کا ذکرکرتے تھے۔
تصانیف:
ابن مدینی کا طریقہ یہ تھا وہ جو کچھ سنتے تھے اسے لکھ لیا کرتے تھے اس طرح ان
کی کتابوں کی تعداد کافی ہو گئی تھی امام نووی کا قول ہے انہوں نے دو سو تصانیف یادگار
چھوڑیں "لابن مديني نحو منه ماتي مصنف"
(تذکرہ ج ۲ ص ۲۳۷)
ابن عماد حنبلی آپ کو صاحب تصانیف لکھتے ہیں (شذرات ج ۲ ص ۸۰) ابن ندیم نے ان کی چند کتابوں کے نام شمار کرائے ہیں, کتاب الاسماء والکنی، کتاب المسند
بصلہ، کتاب المدلسین، کتاب الضعفاء، کتاب العلل، کتاب الاشربہ، کتاب التنزیل۔
سیرت واخلاق:
ابن مدینی اخلاق و کردار، تقوی وطہارت، عبادت وریاضت میں اسلاف کا نمونہ تھے
عباس عنبری کہتے ہیں اگر ان کی عمر نے کچھ وفا کی ہوتی تو وہ اپنے اخلاق وعادات میں
حسن بصری سے بڑھ جاتے ان کی علمی برتری اور اخلاقی شان کا یہ عالم تھا کہ لوگ آپ کی
ایک ایک بات ضبط تحریر میں لاتے تھے۔ "كان الناس يكتبون قيامه وقعوده ولباسه وكل شئ يقول ويفعل" (تہذیب ج ۷ ص ۳۰۸) ان کی چال ڈھال نشست
وبرخاست ان کے لباس کی کیفیت غرض ان کے ہر قول وعمل کو لوگ اسوہ سمجھ کر لکھ لیا
کرتے تھے بڑے بڑے ائمہ وقت ان کے سامنے مودب ہو کر بیٹھا کرتے تھے حضرت سفیان بن عیینہ
جو ساٹھ سال سے گوشہ نشیں ہو گئے تھے اور مجلس درس منعقد نہ کرتے تھے لیکن حضرت
ابن مدینی کی ذات مستثنیٰ تھی وہ خود فرمایا کرتے تھے اگر علی نہ ہوتے تو میں کبھی
تمہاری مجلس میں نہ آتا۔
(تاریخ بغداد ج ۱۱ ص ۴۵۹)
ابن مدینی کی روحانی
شخصیت کا یہ کرشمہ تھا کہ جب بغداد آتے تو سنت کا چرچا ہو جاتا تھا اور جب وہ بصرہ
چلے جاتے تھے تو شیعیت غالب آجاتی تھی۔
ابن معین کہتے ہیں:
"كان على بن المدينى اذا قدم علينا اظهر السنة واذا ذهب الى
بصرة اظهر ذہب الی بصرۃ اظہر التشیع التشيع"
(تہذیب التہذیب
ج ۷ ص ۳۰۹)
اشاعت علم ت:
ابن مدینی نے بڑی
فراخ دلی سے اپنے علمی خریطہ میں محفوظ علوم و فنون سے دنیا کو مالامال کر دیا وہ علم
کی اشاعت میں بڑے فراخ دل اور سیر چشم واقع ہوئے تھے وہ جہاں جاتے لوگوں کی بھیڑ استفادہ
علمی کے لیے جمع ہو جایا کرتی تھی اور بڑے بڑے ائمہ فن بھی ان کی خدمت میں کوئی
لمحہ ضائع نہ ہونے دیتے تھے۔ ابو حاتم کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ابن مدینی کو
دیکھا کہ لیے ہوئےتھے اور ان کے دائیں جانب امام احمد اور بائیں جانب یحییٰ بن معین
تشریف رکھتے تھے اسی حالت میں علی بن مدینی املا کراتے جاتے اور یہ دونوں بزرگ لکھتے
جاتے تھے۔
(تہذیب ج۷ ص۳۰۹)
تلامذہ :
امام بخاری، ابو
داؤد، ذہلی، اسماعیل قاضی، ابویعلیٰ، بغوی، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، حسن،بن صباح
بزار زعفرانی، ابراہیم بن حارث بغدادی، حسن بن علی خلال، ابو مزاحم سباع بن نضر ،
عبد القدوس حبابی، ابو بکر بن ابی عتاب اعین، محمد بن عمرو بن نبہان ثقفی، ابراہیم
جوزجانی، حمید بن زنجویہ، ابو داؤد حرانی، محمد بن عبد اللہ بن عبد العظیم،
محمد بن جعفر بن امام، ہلال بن علاء الرقی، عباس بن عبد العظیم عنبری۔ سفیان بن عیینہ، معاذ بن معاذ، احمد
بن حنبل، عثمان بن ابی شیبہ ، عبد اللہ بن علی بن مدینی، احمد بن منصور الرمادی، حنبل بن اسحاق، صالح
جزرہ، ابو قلابہ، ابو حاتم، الصاغانی، فضل بن سہل الاعرج، محمد بن عبد الرحیم صاعقہ، یعقوب بن شیبہ،
العجری، ابو شعیب الحرانی، ابو الحسن بن ابراء، صالح بن احمد بن حنبل، محمد بن علی بن الفضل المدینی،
ابو خلیفہ جمحی، محمد بن یونس الکدیمی، محمد بن عثمان بن ابی شیبہ، ابو یعلیٰ، بغوی، غندی، عبد اللہ بن
محمد بن الحسن الکاتب۔
(تہذیب التہذیب ج۷ ص ۳۰۷(
وصال:
اس پیکر علم وفضل کا وصال بقول اصح ۲۳۴ھ بمقام سامرہ (بغداد) ہوا۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
