اُستاذ العلما شیخ الحدیث صوفیِ باصفا
علامہ مولانا مفتی سیّد محمد اعجاز
نعیمی نقشبندی مجددی فقیری
نام: محمد اعجاز نعیمی
لقب: استاذ الاساتذہ
نسب: آپ سیّدنا حضرت امام حسین کی اولاد سے یعنی حسینی سیّد ہیں۔
آبائی وطن: شیخ پور، ضلع فیض آباد،یو پی، انڈیا۔
شجرۂ
نسب:
سیّد محمد اعجاز
نعیمی بن مولانا سیّد الطاف حسین... اِلیٰ سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی
المرتضٰی و حضرت فاطمۃ الزہراء() بن
سیّدنا محمدمصطفیٰﷺ۔
آپ کے والدِ ماجد کی تدفین
ہندوستان میں ہوئی، جب کہ والدۂ ماجدہ بکرا پیڑی (ملیر، کراچی) کے قبرستان میں
مدفون ہیں۔ آپ کے بڑے بھائی سیّد آفاق حسین مارٹن
کوآرٹرز تین ہٹی میں رہائش پزیر تھے۔
خاندانی پس منظر:
حضرت علامہ مولانا سیّد محمد اعجاز نعیمی
کے صاحبزادے حضرت علامہ سیّد محمد صدّیق نعیمی نورانی مُدَّ
ظِلُّہُ الْعَالِیْ آپ اور
آپ کے والدِ ماجدحضرت مولانا سیّد اَلطاف حسین کے حوالے سےفرماتے ہیں:
’’ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے!
میرے مشفق و مہربان والدِ محترم اور اُستاذ
ِگرامی
سادگی و نفاست کے پیکر، شیریں و علمی تکلم
کے ماہر ، اَسلاف کی اَقدار کے
حامل، صوفیِ باصفا عالم ِبا عمل ، اُستاذ
العلماء، خطیبِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا سیّد محمد اعجاز نعیمی نقشبندی مجددی فقیری
27؍ ویں شبِ
شعبان المعظّم 1437ھ بتاریخ 3؍ جون 2016ء، شبِ شنبہ، عَینِ وقتِ اَذانِ عشاء اِس سرائے فانی
سے عالَمِ جاودانی کی طرف کلمۂ طیّبہ و دُرود و سلام کا وِرد کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے
رخصت ہوگئے۔ اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ!
بِحَمْدِ
اللہِ تَعَالٰی وقتِ وصال سے دُخولِ مَرقد تک کے
تمام معاملات کا مشاہدہ کرنے کے بعد تاجدارِ بریلی اَعلیٰ حضرتکی اِس دعا کا عملی
جلوہ دیکھنے کو مِلا:
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سنّی مَرے
یوں نہ فرمائیں تِرے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح مِلا
فرش سے ماتم اُٹھے وہ طیّب و طاہر گیا
بھارت
کے صوبے یوپی کے ضلع فیض آباد کے ایک گاؤں شیخ پور میں ایک سیّد خاندان عرصۂ
دراز سے آباد تھا، جس میں ایک صوفی صفت انسان سیّد
الطاف حسین بھی مقیم تھے جو اپنی سادگی و شرافت اور تقویٰ و پرہیزگاری کی
وجہ سے اپنے گاؤں میں خاص مقام رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے گاؤں کی مقامی مسجد میں
اعزازی پیش امام بھی مقرر کر دیے گئے تھے اور گاؤں کے افراد اپنے مسائل کے حل کے لیے
بھی۔ اِنھی سے رجوع کیا کرتے تھے اور آپ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال کرتے
ہوئے بڑے سے بڑے مسائل کو مختصر وقت میں حل بھی کر دیا کرتے تھے۔ پھر گزرتے وقت کے
ساتھ ساتھ جب اخراجات میں اضافہ ہوا تو حصولِ روزگار و طلبِ معاش کے لیے گاؤں سے
شہر کی جانب ہجرت کرنا ناگزیر ہو گیا تو آپ ہجرت کر کے فیض آباد چلے آئے، جہاں ایک
پرائیویٹ ادارے میں ملازمت اختیار کرلی اور مذہبی لگاؤ و زہد و تقویٰ کی وجہ سے
اللہ تعالیٰ نے فیض آباد شہر کی ایک مسجد میں پیش امام کے منصب پر بھی فائز ہونے
کا موقع فراہم کردیا، جہاں امامت کی وجہ سے آپ کو رہائش کی سہولت بھی میسر آ گئی۔‘‘
ولادت:
آپ کی اپنی دستی تحریر کے مطابق آپ کی درست تاریخِ ولادت21؍ اگست 1943ء ہے،
جس کے مطابق ہجری تاریخ شعبان المعظّم 1362ھ اور دن ہفتہ ہے۔ آپ کے قومی شناختی کارڈ کے مطابق آپ
کی تاریخِ ولادت 22؍ ستمبر 1942ء
ہے، جو غلط ہے۔
تعلیم:
علمِ دین کے حصول کی
خاطر، آپ جامعہ نعیمیہ گڑھی
شاہو، لاہور حاضر ہوئے، اور درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی۔
اَساتذہ:
آپ نے بانیِ جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو،
لاہور حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی(تلمیذِ رشیدصدرالافاضل حضرت علامہ سیّدمحمد نعیم الدین
مرادآبادی)، شیخ الحدیث والتفسیر
حضرت علامہ مولانا غلام رسول سعیدی، شرفِ ملّت حضرت علامہ مولانا عبدالحکیم شرف قادری وغیرہم ایسے جلیل القدر و ذی عِلم
اَساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا۔
بیعت:
آپ کو حضرت
سائیں صوفی فقیر محمد نقشبندی مجددی سے شرفِ
بیعت حاصل ہے۔ اِن بزرگ کا مزار شریف شجاع آباد (پنجاب، پاکستان) میں ہے۔
تدریسی
خدمات:
آپ نے
مندرجۂ ذیل مدارسِ دینیہ میں تدریسی خدمات
انجام دیتے ہوئے تشنگانِ علم کو اپنے بحرِ علم و حکمت سے سیراب کیا:
1. دارالعلوم جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو، لاہور
2. دارالعلوم مَخزنِ عربیہ، لیاقت آباد، کراچی
3. دارالعلوم
جامعہ نعیمیہ دستگیر، فیڈرل بی
ایریا، بلاک 15، کراچی
4. دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ ملیر، کراچی
5. دارالعلوم اَنوارِ مجدّدیہ نعیمیہ، کھوکھرا
پار، ملیر، کراچی(بحیثیتِ شیخ الحدیث)
6.
دارالعلوم
قادریہ سبحانیہ شاہ فیصل کالونی، کراچی
7.
مدرسۂ تعلیم القرآن، جامع مسجد الماس، عزیز آباد نمبر 8،کراچی۔
امامت
و خطابت:
آپ نے
مختلف مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے، جن کے نام یہ ہیں:
1. فاطمی مسجد،لائنز ایریا، کراچی (یہ کراچی میں
پہلی مسجد تھی، جس میں آپ نے امامت فرمائی۔
2. جامع مسجد محمدی، ایف ساؤتھ ملیر، کراچی
3. جامع مسجد سنہری محمدی، لانڈھی نمبر 1،کراچی
4. جامع مسجد حنفیہ، غریب آباد، لیاقت آباد نمبر1،
کراچی
5. جامع مسجد قباء (سخی حسن)، جے بلاک، نارتھ ناظم آباد، کراچی
6. جامع مسجد نظامیہ، ناظم آباد نمبر1، کراچی
7.
جامع مسجد الماس، عزیز آباد نمبر8، کراچی
آپ نے امامت و خطابت کے ساتھ ساتھ مقتدیوں کی
خوب رہنمائی بھی فرمائی۔ آپ کے تمام ہی مقتدی آپ کو آج بھی یاد کرتے ہیں اور ہمیشہ
آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہیں۔
زکوٰۃ
و عشر کمیٹی:
آپ زکوٰۃ و عشر کمیٹی،
ضلع وسطی کے تحت اپنے علاقے جلال آباد کالونی، اورنگ آباد، ناظم آباد نمبر1، کراچی
کے چیئرمین بھی رہے۔
قدم
قدم پر رہ نمائی:
آپ سے جس وقت
بھی کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا، بڑے سہل
اور احسن انداز میں جواب عنایت فرماتے۔ جس
زمانے میں آپ پہلی مرتبہ جامع مسجد نظامیہ (ناظم آباد) میں امام و خطیب تھے، میں آپ سے
بڑی دیر تک شرعی مسائل سیکھتا، کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جاتی ، آپ کبھی اکتاہٹ کا
اظہار نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کی پیشانی پر کھبی شکن آتی۔ اُس زمانے میں آپ ہی
نے مجھے اور کچھ اور لڑکوں کو بھی دعوتِ
اسلامی میں بھیجا تھا، اور پھر جب آپ
نظامیہ مسجد سے، الماس مسجد عزیزآباد چلے
گئے، تو میں نے وہاں بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہاں بھی جاتا اور گھنٹوں
آپ سے اکتسابِ فیض کرتا۔ عربی صرف و نحو
بھی میں نے آپ سے سیکھا اور ردِّ باطلہ ،
صرف و نحو، فقہی مسائل، تفاسیر اور شُروحاتِ حدیث وغیرہ سے متعلق آپ کی بتائی ہوئی
کتابوں کا مطالعہ کیا۔ دورانِ مطالعہ جہاں جہاں
کوئی عبارت سمجھ سے بالا ہوتی، تو آپ ہی کے پاس سمجھنے کے لیے حاضر ہوتا۔ قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی کی
طرف آپ ہی نے میری رہنمائی
فرمائی۔ پھر اللہ نے کرم فرمایا کہ آپ
دوبارہ جامع مسجد نظامیہ(ناظم آباد) میں تشریف لے ، چوں کہ میں شروع ہی سے ناظم ہی
میں رہتا، بلکہ ناظم آباد ہی میری جائے پیدائش ہے؛ لہٰذا، آپ کا ناظم آباد واپس تشریف لے آنا میرے
لیے بڑی خوشی اور سہولت کی بات تھی۔
مہمان نوازی:
آپ ایک
اعلیٰ درجے کے مہمان نواز بھی تھے، جب کوئی آپ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتا، تو
چائے بسکٹ یا کھانے کے ذریعے مہمان نوازی فرمایا کرتے میں حصولِ علم کے لیے جب آپ کی خدمت میں الماس
مسجد حاضر ہوتا، تو دورانِ گفتگو آپ کے
دولت کدے سے کچھ نہ کچھ کھانے پینے کے لیے ضرور آجاتا۔ یہاں تک کہ نظامیہ مسجد ناظم آباد میں بھی،
جب میں صبح کے وقت نائب چیئرمین
ورلڈاسلامک مشن و نائب صدر جمعیت علمائے پاکستان حضرت پروفیسر سیّد شاہ فریدالحق
قادری کے انگریزی ترجمۂ کنزالایمان کی تصحیح
کے سلسلے میں ٹھہرا ہوا ہوتا تو باوجود اس کے کہ میرا گھر وہاں سے قریب
ہی تھا، حضرت کے گھر سے آپ کا کوئی نہ
کوئی شہزادہ ناشتے کے لیے چائے پراٹھا لے آتا تھا۔
آپ کی اولادِ اَمجاد کو بھی آپ سے ورثے میں
مہمان نوازی کی دولت حاصل ہوئی ہے۔
علامہ اعجاز نعیمی
اورامام شاہ احمد نورانی:
ذاتی مشاہدہ:
اُستاذالعلما حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی کو حضرت قائدِ
ملّتِ اسلامیہ مبلغِ اسلام حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی
سے بے حد عقیدت و محبّت تھی، اور آپ نے اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی)سمیت
متعدد اَفراد کے دلوں میں حضرت امام شاہ احمد نورانی کی عقیدت ومحبت پیدا بھی
فرمائی۔ آپ خود بھی حضور قائدِ ملّتِ
اسلامیہ کے خطابات سننے کے لیے حاضر ہوتے، اور ساتھ میں نمازیوں کو بھی لے جاتے۔
حضور امام شاہ احمد نورانی بھی آپ کی شخصیت سے اچھی طرح واقف تھے اور آپ پر
شفقت بھی فرماتے تھے۔ جس زمانے میں آپ جامع مسجد نظامیہ(ناظم آباد نمبر 1) میں
امامت و خطابت کے منصب پر فائز تھے، قائدِ ملّتِ اسلامیہ امام شاہ احمد نورانی 25؍
رمضان المبارک 1409ھ مطابق2؍ مئی 1989ءبروز پیر عصر اور مغرب کے درمیان پشاوری
چپل والے سروس روڈ(ناظم آباد نمبر 1) پر
لگائے گئے شامیانے میں افطار سے پہلے تشریف لائے اور اُس دور کے حالات کے تناظر
میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں،خواہ وہ پنجابی ہوں،
پٹھان ہوں، بلوچی ہوں، مہاجر ہوں، عربی ہوں، عجمی ہوں، الغرض کسی کی کوئی بھی زبان
ہو؛ لسان (زبان) کی بنیاد پر نہ تو کوئی کسی سے افضل ہے اور نہ کسی
کو قتل کرنا جائز۔
افطار کے بعد،
نمازِ مغرب کے لیےآپ جامع مسجد نظامیہ
بھی تشریف لائے، اُستاذالعلما حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمینے اپنی
جگہ امامت کےآپ کو آگے کیا، آپ نے نماز
پڑھائی، نماز کے بعد، دورانِ مصافحہ ،حضرت امام شاہ احمد نورانی نے حضرت
اُستاذالعلما علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی سے دریافت فرمایا کہ
’’آج کل کہاں تدریس فرما رہے ہیں؟‘‘، تو آپ نے فرمایا کہ ’’دارالعلوم
نعیمیہ میں‘‘۔
اِس سے پہلےمیں نے نہ تو حضرت امام شاہ احمد نورانی کا نام سنا تھا،
اور نہ ہی کبھی زیارت کا شرف حاصل ہوا تھا۔ یقیناً یہ میری نااہلی و بدنصیبی تھی۔
بہر حال اُس دن پہلی مرتبہ وہ نورانی چہرہ
دیکھا، نورانی ہاتھوں کو بوسہ دیا اور اُن کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا شرف
حاصل کیا۔
محمد
احمد صدّیقی اشرفی کا مشاہدہ:
سابق ناظم نشر و اشاعت ،جماعتِ اہلِ سنّت
پاکستان کراچی و سابق انفارمیشن سیکرٹری، انجمن
نوجوانانِ اسلام پاکستان محترم محمد احمد صدّیقی اشرفی صاحب (ساکن عزیز آباد ایف بی
ایریا کراچی) نے جب Facebook پر ہماری لکھی ہوئی منقبت: ’’علّامۂ ذی شان ہیں اعجاز نعیمی‘‘ ملاحظہ فرمائی تو آپ نےاُس پر پہلے کچھ مختصر
تبصرہ (Comment) لکھا، بعد ازاں اس میں کچھ اضافہ کرکے مجھے مندرجۂ ذیل تحریر واٹس ایپ کی، جس میں قائدِ
ملّتِ اسلامیہ امام شاہ احمد نورانی صدّیقی کے ساتھ ساتھ بعض اور دیگر اہم شخصیات
کا بھی ذکر ہے:
’’سوادِ اعظم اہلِ سنّت و
جماعت کی جیّد شخصیات کی شفقت و محبّت کا میں چشم دید گواہ ہوں ، حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی جمعیت
علمائے پاکستان کے کنونشن منعقدہ جہانگیر پارک صدر میں اسٹیج سے کچھ فاصلے پر درخت
کے قریب کھڑے تھے کہ جیسے ہی قائدِ اہلِ سنّت
حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی کی نظر پڑی
تو فوراً خود ہی مائیک پر آپ کو مخاطب کر کے اسٹیج پر بلایا تھا ، جب کہ اسی طرح ایک
جلسے میں جب حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری
کی جیسے ہی آپ پر نظر پڑی تو فوراً خود
اسٹیج سے اتر کر آپ کو اسٹیج پر بٹھایا تھا ۔۔۔ جب شیخ الحدیث حضرت علامہ سیّد
محمد اعجاز نعیمی جامع مسجد الماس عزیز آباد ایف بی ایریا کراچی میں امام و خطیب
تھے تو اکثر دارالعلوم نعیمیہ میں زیرِ تعلیم ملک و بیرون ملک کے طلبہ تھے ، جن میں
مولانا نورانی کے مرید جو ہالینڈ سے تعلق
رکھتے تھے اکثر آپ سے ملاقات کرتے تھے جب کہ سلسلۂ نقشبندیّہ کی روحانی شخصیت حضرت
علامہ پیر علاؤ الدین صدّیقی کے صاحبزادے
علامہ پیر نور العارفین صدّیقی زِیْدَ مَجْدُہٗ جو
دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں زیرِ تعلیم تھے وہ بھی حضرت شیخ الحدیث سے ملاقات
رکھتے تھے ، اسی طرح عالم فاضل متعدد دینی و دنیاوی علوم میں دسترس کے حامل علامہ
سیّد مظہر سلطان بخاری صاحب خاص طور پر حضرت شیخ الحدیث کے پاس تشریف لاتے تھے جو
کراچی میں صرف دو یا تین علمائے کرام کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے جن میں ایک
حضرت شیخ الحدیث(علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی) تھے جب کہ موصوف لاڑکانہ سندھ کے
معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن کے برادران سندھ کے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر
فائز تھے ، شیخ الحدیث حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی بہت ہی سادہ مزاج صوفی
صفت شخصیت تھے ۔
اللہ
تعالیٰ
بطفیلِ
رسولِ اعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم و غوثِ اعظم و مجددِ اعظم کے صدقے میں آپ کی بخشش
و مغفرت اور درجات بلند فرمائے ، دین و سنّیت ، درس و تدریس کی خدمات کو قبول
فرمائے ۔ آمین
یاربّ العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم!‘‘
آٹو گرافس امام
نورانی و علامہ اعجاز نعیمی:
اُستاذالعلما حضرت
علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی کے فرزندِ ارجمند حضرت علامہ مولانا سیّد محمد صدّیق
نعیمی نورانی مدظلہ العالی نے 1995ء
میں اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی)
کو مشورہ دیا کہ ایک آٹوگراف بُک (Autograph
Book) لے لیں اور اُس میں علمائے کرام و
مشائخِ عظام کے آٹوگرافس جمع کریں، تو میں نے ایک آٹوگراف
بُک خرید لی اور پھر آٹوگرافس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
یہاں فی الحال
2آٹوگرافس کی یاد تازہ کرنا مناسب لگ رہا ہے:
10؍ ذوالحجہ شریف
1415ھ (عیدالاضحیٰ) مطابق 10؍ مئی
1995ء بروز بعدِ نمازِ عصر ، حضور قائدِ ملّتِ اسلامیہ مبلغِ اسلام
حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی کے آستانۂ
فیض بار (ماسٹر ہاؤس، صدر، کراچی) میں حاضری دی، عید ملنے کا شرف حاصل کیا، نمازِ
مغرب کے لیے آپ کے آستانے سے متصل کچھی میمن مسجد میں آپ تشریف لے گئے ، آپ
کےہمراہ میں بھی حاضر ہوا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ، مجھے آپ کے بائیں جانب بالکل برابر میں نمازِ مغرب
باجماعت ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد، مسجد سے
باہر آنے کے لیےمین گیٹ کے پاس اندرونی جانب چھوٹے سے زینے سے اترتے ہوئے میں نے
وہ آٹوگراف بُک آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے آٹوگراف کی درخواست کی، آپ نے جائزہ
لیا کہ اِس میں پہلے سے کسی اور کے آٹوگراف ہیں یا نہیں، پھر جب آپ نے ملاحظہ فرما
لیا کہ اس میں کسی اور کے آٹوگراف موجود نہیں ہیں تو آپ نے بسم
اللّٰہ شریف سے اُس آٹو گراف بک کا آغاز یوں فرمایا:
’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمo
فقیرشاہ احمد نورانی صدّیقی غُفِرَلَہٗ (دستخط)
۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۱۵ھ‘‘
اُس کے اگلے دن،
11؍ ذوالحجہ شریف 1415ھ
مطابق 11؍ مئی 1995ء بروز جمعرات،
وہی آٹوگراف بک لے کر جامع مسجد نظامیہ (ناظم آباد نمبر 1، کراچی) حاضر ہوا، سیّدی
و اُستاذی و مولائی اُستاذ العلماحضرت علامہ سیّد
محمد اعجاز نعیمی کی اقتداء میں نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد، آپ سے آٹو گراف لینے کی
درخواست کی؛ کچھ لمحے غور و فکر میں گزارنے کے بعد، آپ نے آٹوگراف بک کو مندرجۂ ذیل فکرانگیز و نصیحت آموز تحریر سے مزیّن فرما دیا:
’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمo
اوقاتِ زندگی کو نگہداشت میں رکھنا، رواں دواں وقت کو صحیح
مَصرَف میں لانا اور ضیاع سے بچانا عقل مندی ہے۔
سیّد محمد اعجاز نعیمی، ۱۱؍ ذوالحجہ شریف ۱۴۱۵ھ‘‘
اَولادِ
اَمجاد:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیّدی حضرت علامہ مولانا سیّد محمد اعجاز نعیمیکو مَاشَاءَ
اللہ،
آٹھ (8) صاحبزادگان اور چار (4)
صاحبزادیوں سے نوازا، جن کا مختصر ذکر ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے:
(1)
پہلی صاحبزادی:
اللہ تبارک و تعالیٰ
کے فضل و کرم سے آپ کے گھر پہلے ایک بیٹی کی ولادت ہوئی۔
(2)
سیّد محمد صدّیق نعیمی:
برادرِ طریقت حضرت
علامہ مولانا سیّد محمد صدّیق نعیمی نورانی مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ اُستاذالعلما سیّدی و اُستاذی حضرت علامہ مولانا سیّد محمد
اعجاز نعیمی کے بڑے صاحبزادے ہیں، جن کی ولادت
18؍ دسمبر 1977ء کو کراچی میں
ہوئی۔ درسِ نظامی کے ساتھ
ساتھ آپ نے بی ایڈ (Bachelor of Education) اور ماسٹر ان اسلامک اسٹڈیز کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ والدِ ماجد کی حیات ہی میں جامع مسجد نظامیہ، ناظم آباد نمبر 1، کراچی میں
امام و خطیب مقرر ہوئے اور آج تک اِن مَناصب پر قائم ہیں؛ علاوہ ازیں، سیکٹر 11-G، نئی کراچی میں واقع Happy Dale Government Boys Secondary School میں معلّمِ
شرقیات (Oriental Teacher)ہیں۔ وہاں ششم ، ہفتم اورہشتم کلاسز؛ نیز،اریجمنٹ پیریڈز میں
نہم اور دہم کلاسز میں بھی فیضانِ علمی
لُٹا رہے ہیں۔ اسلامیات،عربی اور اردو کے مضامین پڑھا تے ہیں۔آپ اپنے والدِ ماجد
کا عرس شریف ہر سال بڑی دھوم دھام سے
مناتے ہیں۔
(3)
دوسری صاحبزادی:
دوسری
صاحبزادی کی شادی سیّد محمد دانش حسینی صاحب سے ہوئی۔
(4)
سیّد محمد عمر نعیمی:
برادرِ طریقت حضرت
علامہ سیّد محمد عمر نعیمی نورانی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ استاذ العلما سیّدی و اُستاذی حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز
نعیمی کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ 6؍ اگست 1982ء
کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ، ماسٹر ان اسلامک اسٹڈیز
اور ایم ایڈ (Master of Education) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔
ناظمِ مدرسۂ تعلیم القرآن (جامع
مسجد الماس، عزیزآباد نمبر 8) و مدرس و نائب خطیب جامع مسجد الماس
کے مناصب پر فائز ہونے کے علاوہ، چند سالوں سے عزیزآباد، کراچی میں واقعComprehensive
Boys Higher Secondary School میں انٹرمیڈیٹ سالِ اوّل و دوم کے طلبہ (Students) کواردو ؛ جب کہ سالِ دوم کے طلبہ کو مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات کے مضامین
پڑھا کرعلمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
(5)
سیّدمحمد عثمان عطاری:
یہ تیسرے صاحبزادے ٹیکنیکل
فیلڈ سے وابستہ ہیں۔
(6) سیّد محمد علی حسینی:
یہ چوتھے صاحبزادے بھی ٹیکنیکل فیلڈ سے
وابستہ ہیں۔ سیّد محمد عثمان اور سیّد محمد علی، جڑواں بھائی اور ہم شکل ہیں۔
(7) سیّدمحمد عبدالرحمٰن حسینی
المدنی:
یہ پانچویں صاحبزادے ہیں۔ اِن کی ولادت 15؍
جنوری 1985ء کو کراچی میں ہوئی۔ اِنھوں نے GCT
یعنی Government College of Technology
سائٹ ایریا، کراچی سے مکینیکل انجینئرنگ میں DAE
یعنی Diploma of Associate Engineering
کیا۔
بعدازاں، Indus Institute of Higher
Education (کراچی) سے
B.
Tech (Pass) کی ڈگری حاصل کی۔B. Tech
کی مکمل شکل Bachelor of Technology ہے۔
2009ء سے تا حال (مارچ 2026ء) مدینۂ منوّرہ میں مصممِ آرائشِ داخلہ
(Interior
Decor Designer) کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مدینۂ
منوّرہ میں حاضر ہونے والے بہت سے علما ومشائخ اِن کے حُسنِ اَخلاق سے متاثر ہو کر، اِنھیں ذکرِ خیر میں یاد رکھتے ہیں۔
(8) سیّدمحمد عبداللہ حسینی المدنی:
یہ چھٹے صاحبزادے
ہیں۔ 15؍
اکتوبر 1987ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ اِنھوں نے مکینکل انجینئرنگ میں ڈِپلوما (Diploma) کیا ہے۔ زمانۂ
طالبِ علمی (2008/2009) میں جَشنِ عیدِمیلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلمکے ثبوت اور بدمذہب مخالفین کے رد میں میں 2 رسالے مرتّب
کیے۔ اِن رسائل کی اشاعت کے بعد ہی 11؍ ربیع الاوّل 1431ھ (فروری 2010ء) کو وِیزائے ملازمت (Work Visa) پر مدینۂ منوّرہ حاضر ہوئے۔اپنی فیلڈ سے متعلق مدینۂ منورہ کی ایک الیکٹرو مکینیکل کمپنی میں ملازمت کرتے رہے۔اُس کمپنی کو جس شہر کا پروجیکٹ
ملتا وہاں اپنے ملازمین کا ٹرانسفر کر دیتی ، اِنھیں بھی اس سلسلے میں مدینۂ
منوّرہ سے کچھ عرصے کے لیے جدّہ جانا پڑا، لیکن مدینۂ منوّرہ سے دوری اِنھیں گوارا
نہ ہوئی، تو ملازمت ہی چھوڑ کر پاکستان سے دوبارہ نئے ویزے پر مدینۂ منوّرہ چلے گئے۔
اب مستقل طور پر، عرصۂ دراز سے مدینۂ
منورہ میں مقیم ہیں، اپنا کام کر رہے ہیں۔
پاکستان و دیگر ممالک سے آنے والےحجاج کرام و زائرینِ حرمین شریفین کے قیام کے لیے Travel Agents اِن سےہوٹل کے
کمروں (Rooms) کی ریزرویشن (Reservation) کرواتے ہیں۔ مدینۂ منوّرہ میں حاضر ہونے والے
بہت سے علما ومشائخ اِن کے حُسنِ اَخلاق سے متاثر
ہو کر، اِنھیں ذکرِ خیر میں یاد رکھتے ہیں۔ اِنھیں حضور نبیِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کےایک عمدہ ثناخواں ہونے کی سعادت بھی حاصل ہے، بچپن ہی سے
بڑی محبت و عقیدت سے نعتیں پڑھتے آئے ہیں۔
(9) تیسری صاحبزادی:
آپ کی شادی علامہ مولانا سیّد محمد نوید رضاعطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ
سے ہوئی، جو جامعۃالمدینہ کنزالایمان، بابری چوک (گرومندر)، کراچی کے ناظم اعلیٰ اور جامع مسجد مدنی، C-1 ایریا، لیاقت آباد،کراچی کے امام و خطیب ہیں۔
(10) سیّد محمد احمد حسینی:
ساتویں صاحبزادے ہیں۔
21؍ جنوری 1990ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔
(11) سیّد محمد حسن حسینی:
یہ آٹھویں صاحبزادے ہیں۔
(12) چوتھی صاحبزادی:
آپ کی شادی جناب محمد شہروز جلالی صاحب سے ہوئی۔
اولادِ اَمجاد کو شرفِ بیعت:
حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی کے دو صاحبزادے: علامہ سیّد محمد صدّیق
نعیمی نورانی اور علامہ سیّد محمد عمر نعیمی نورانی قائدِ
ملّتِ اسلامیہ مبلغِ اسلام حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقیسے شرفِ بیعت رکھتے ہیں؛ ایک صاحبزادے سیّد محمد عثمان
حسینی اور ایک داماد علامہ سیّد محمد نوید رضاعطاری مدنی صاحب کو امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری ضیائی دَامَتْ
بَرَکاَتُھُمُ الْعَالِیَۃ سے بیعت کی سعادت حاصل ہے؛جب کہ بقیہ تمام
صاحبزادوں، صاحبزادیوں اور ایک داماد سیّد محمد دانش حسینی صاحب کو حضرت علامہ پیر سائیں سیّدغلام حسین شاہ بخاری قنبر والے(1932ءتا 26؍ جنوری 2023ء) سے شرفِ
بیعت حاصل ہے۔
تلامِذہ
(شاگرد):
آپ کے
تلامذہ میں مندرجۂ ذیل معروف ذی عِلم شخصیات بھی شامل ہیں:
1.
علامہ مفتی ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی شہیدنے
کچھ ابتدائی کتب مثلاً میزان و منشعب وغیرہما آپ سے پڑھنے کا
شرف پایا۔ یہ حضرت علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمیکا ابتدائی دورِ تدریس تھا۔ ڈاکٹر
سرفراز نعیمی بانیِ جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہورحضرت
علامہ مفتی محمد حسین نعیمی کے فرزندِ ارجمند اور اسلامی نظریاتی کونسل (پاکستان) کے موجودہ چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب
حسین نعیمی مدظلہ العالی کے والدِ ماجد تھے۔
2.
حضرت علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی مدظلہ العالی
3.
حضرت علامہ مفتی محمد جان نعیمی مدظلہ العالی
4.
علامہ نذیر جان نعیمی مدظلہ العالی (برادرِ مفتی محمد جان نعیمی)
5.
فخر المشائخ حضرت ابوالمکرم علامہ ڈاکٹر محمد اشرف الاشرفی
الجیلانی مدظلہ العالی (سجادہ نشیں دربارِ اشرفیہ، فردوس کالونی، کراچی)
6.
حضرت علامہ سیّد حکیم اشرف الاشرفی الجیلانی مدظلہ العالی (بردارِ ڈاکٹر محمد اشرف
اشرفی جیلانی)
7.
علامہ سیّد نذیر شاہ صاحب مدظلہ العالی (سینئر مدرس
دارالعلوم نعیمیہ دستگیر،کراچی)
8.
علامہ آصف حسین انصاری مدظلہ العالی (آپ نے جامعہ
اَنوار القرآن وغیرہ متعدد مدارس میں تدریس فرمائی)
9.
علامہ مفتی علی عمران نعیمی مدظلہ العالی(سینئر مدرس و نائب مفتی دارالعلوم نعیمیہ دستگیر،کراچی)
10.پیرِطریقت علامہ مولانا تاج الدین نعیمی مدظلہ العالی
11. علامہ مولانا محمد وحید نعیمی نورانی مدظلہ العالی (شاگردِ خاص و محبِ صادق، امام و خطیب جامع مسجد صدّیقیہ
جناح ہاؤسنگ سوسائٹی، بلاک 7/8، ٹیپوسلطان روڈ، کراچی)
12.پیرِ طریقت علامہ مولانا حافظ نظام الدین
چشتی نظامی لطفی مدظلہ العالی (سجادہ نشین آستانۂ علایہ چشتیہ
نظامیہ، سیکٹر 11/D، نیو کراچی)
13.اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم
نورانی) کو بھی اُستاذ العلما حضرت علامہ مولانا سیّد محمد
اعجاز نعیمینے اپنے فیضانِ علم سے بڑا
نوازا اور قدم قدم پر رہنمائی فرمائی، 23؍ ذوالحجہ 1420ھ (24؍ ویں شب) 30؍ مارچ 2000ء
شبِ جمعہ آپ ہی نے سرجانی ٹاؤن، سیکٹر 7-A، کراچی میں میرا نکاح بھی پڑھایا۔
حضرت علامہ
ڈاکٹر مفتی محمد عطاء اللہ نعیمی دَامَتْ
بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ (رئیسِ
دارالافتاء جامعۃ النور، نور مسجد، کھارادر، کراچی) سے فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) نے واٹس ایپ
پر دریافت کیا کہ آپ کو بھی حضرت سیّدی علامہ سیّد محمد اعجاز نعیمی سے شرفِ
تلمذ( یعنی شاگرد ہونے کا شرف) حاصل ہے، تو آپ نے مندرجۂ ذیل جواب عنایت فرمایا:
’’علامہ
سیّد محمد اعجاز نعیمی سے آخر عمر میں(آپ کے صاحبزادگان) سیّد عبدا لرحمٰن اور سیّد عبداللہ کے ذریعے تعلق قائم ہوا، جو مدینے شریف میں
ہوتے ہیں، کافی شفقت اور محبت فرماتے تھے،
شرفِ تلمذ سے فقیر محروم رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی قبر پر ڈھیروں رحمتوں کا نزول
فرمائے! ‘‘
وصالِ
پُر ملال:
آپ کا وصال جمعۃ
المبارک (شبِ ہفتہ)، 26؍ شعبان المعظّم(27؍ ویں شب) 1437ھ مطابق 3؍ جون 2016ء،بوقتِ اذانِ عشاء) ہُوا، وصال کے وقت آپ کی زبانِ
مبارک پر کلمۂ طیّبہ اور دُرود و سلام کا ورد جاری تھا۔
نمازِ
جنازہ:
وصال کے اگلے روز 27؍ شعبان المعظّم 1447ھ مطابق 4؍ جون 2016ء ، بروز ہفتہ،بعدِ
نمازِ ظہر،جامع مسجد الماس (عزیزآباد نمبر 8، کراچی) میں آپ کی نمازِ جنازہ معمر و
بزرگ عالمِ دین فقیہ العصر حضرت علامہ مفتی
قاضی محمد احمد نعیمی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ کی امامت میں ادا کی
گئی، جو دارالعلوم اَنوارِ مجددیہ نعیمیہ (کھوکھرا
پار، ملیر، کراچی) کے مہتمم ، شیخ الحدیث اور رئیس دارالافتاء کے علاوہ، مزارِقطبِ
زماں پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت خواجہ الٰہی بخش
مندھرو نقشبندی مجددی قادری کی درگاہ کوڈاریو شریف( تحصیل شاہ بندر ضلع
سجاول سندھ) کے سجادہ نشیں بھی ہیں اور حضرت علامہ ڈاکٹرمفتی محمد
عطاء اللہ نعیمی صاحب(رئیس دارالافتاء جامعۃ النور، نور مسجد، کھارادر،
کراچی) کے سسرِ محترم بھی۔
مزارِ
پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُراَنوار یاسین آباد، فیڈرل
بی ایریا، کراچی کے قبرستان میں واقع ہے۔ تدفین
کے موقع پر، آپ کے شہزادےحضرت علامہ مولانا سیّد محمد
صدّیق نعیمی نورانی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ اور تلمیذِ رشید و محبِ صادق حضرت
علامہ مولانا وحیدنعیمی نورانی مُدَّ ظِلُّہُ
الْعَالِیْ
نے خصوصی دعائیں کرائیں۔
عرس
شریف:
حضرت علامہ
سیّد محمد صدّیق نعیمی نورانی مُدَّ
ظِلُّہُ الْعَالِیْ ہر سال 27؍ شعبان المعظّم کے قریبی ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب، بعدِ نمازِعشاء
جامع مسجد نظامیہ(ناظم آباد نمبر 1، کراچی) میں بڑی
دھوم دھام سے آپ کا عرسِ شریف مناتے ہیں، جس میں نعت خوانی کے علاوہ، مختلف نامْور
علمائے کرام کے خطابات بھی ہوتے ہیں، حضرت علامہ
وحیدنعیمی نورانی صاحب تو بلا ناغہ ہر سال عرس میں اپنے خطاب کے ذریعے
استاذ العلما حضرت علامہ مولانا سیّد محمد اعجاز نعیمی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔
مَناقب در شانِ علامہ
اعجاز نعیمی:
اِس فقیر
(ندیم احمد نؔدیم نورانی) نے سیّدی اُستاذی حضرت علامہ مولانا سیّد محمد اعجاز
نعیمی شان میں 2 منقبتیں لکھنے کا شرف حاصل کیا ہے:
پہلی منقبت:
تھے عالمِ خوش ادا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
تھے عابدِ بے ریا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
وہ عاملِ سنّت و شریعت تھے
زُہد و تقویٰ کی ایک مورت
تھے صوفیِ باصفا بھی سیّد محمد
اعجاز شہ نعیمی
سدا رہِ عشق بھی دکھائی ہمیشہ شمعِ وفا جَلائی
تھے عاشقِ مصطفیٰﷺ بھی سیّد محمد اعجاز شہ
نعیمی
جو کرتے قرآن کی تلاوت تو جھوم اُٹھتی تھی
ہر سماعت
تھے فیض بارِ ہُدا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
مُدرّسِ باکمال بھی تھے، مبلّغِ خوش خِصال
بھی تھے
مقررِّ خوش نَوا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
وہ پُر وقار اور ذی وجاہت وہ تاج دارِ بلند نسبت
گُلِ حبیبِ خدا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
تھی کتنی نورانی شکل اُن کی!تھی کیا ہی پیاری وہ خوش کلامی!
تھے ہستیِ جاں فزا بھی
سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
تھی سادگی بے مثال اُن کی،تھی شخصیت باکمال اُن کی
تھے بِالیقیں دل رُبا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
نؔدیم احمد!بہ فَضلِ ربّی تھے میرے اُستاذ ورہ نمابھی
تھے میرے مشکل کُشا بھی سیّد محمد اعجاز شہ نعیمی
دوسری منقبت:
علّامۂ ذی شان ہیں اعجاز نعیمی
اك عاملِ قرآن ہیں اعجاز نعیمی
جو رب كی اِطاعت میں ہمیشہ رہے مصروف
وہ بندۂ رحمٰن ہیں اعجاز نعیمی
سركارِ مدینہﷺ كی محبّت میں ہمیشہ
دل، جان سے قربان ہیں اعجاز نعیمی
وہ نازشِ سادات ہیں، ہم سب كے لیے تو
اللہ كا احسان ہیں اعجاز نعیمی
اَفكار بھی طیّب رہے، كردار بھی طاہر
پاكیزہ مسلمان ہیں اعجاز نعیمی
جو مومنِ كامل كہے جانے كے ہوں لائق
وہ صاحبِ ایمان ہیں اعجاز نعیمی
اَندازِ تكلّم تھا بڑا دل كش و شیریں
گفتار كے سلطان ہیں اعجاز نعیمی
’انسان‘‘ كی تعریف میں بس اتنا
كہوں گا
انسان كی پہچان ہیں اعجاز نعیمی
صدّیق و عمر، بلكہ سبھی پھول ہیں
پیارے
كیا خوب گلستان ہیں اعجاز نعیمی
سیراب ہُوئے جن سے بہت سے عُلَمَا بھی
وہ عِلم كا فیضان ہیں اعجاز نعیمی
مجھ كو بھی، نؔدیم! اُن سے ملی عِلم كی خوشبو
نخلِ گُلِ عرفان ہیں
اعجاز نعیمی
مَآخِذ:
اس مضمون کو تیار کرنے میں اُستاذ العلما حضرت علامہ مولانا
سیّد محمد اعجاز نعیمی کے شہزادگان (علامہ سیّدمحمد صدّیق نعیمی نورانی، علامہ
سیّد محمد عمر نعیمی نورانی، جناب سیّد محمد عبدالرحمٰن حسینی المدنی اور جناب
سیّد محمد عبداللہ حسینی المدنی نے معلومات فراہم کیں، اور کچھ اس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) کی ذاتی
معلومات و مشاہدہ بھی شامل ہے۔


