بن منذر بن قیس بن عمروبن عبداللہ بن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن دول حنفی ان سے مسلم بن سلام نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہمیں اسماعیل بن علی بن عبیدوغیرہ نےخبردی اوراپنی سندمحمد بن عیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردیتےتھے وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منیع اورنباء نےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے ہم سے ابومعاویہ نے عاصم احول سے انھوں نے عیسیٰ بن حطان سے انھوں نے مسلم بن سلام سے انھوں نے طلق بن علی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ایک اعرابی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آیااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص جنگل میں ہوتاہے اوراس کی ریح خارج ہوجاتی ہے(یعنی وضوٹوٹ جاتاہےاورپانی اس کے پاس کم ہوتاہے تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تم میں سے کسی کی ریح خارج ہوجائے تواس کوچاہیے۱؎وضوکرے اورعورتوں کے ساتھ خلاف وضع فطرت ہم بستری نہ کیاکرو اللہ سچ بات سے شرم نہیں کرتا۔۔۔
مزید
بن منذر بن قیس بن عمروبن عبداللہ بن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن دول حنفی ان سے مسلم بن سلام نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہمیں اسماعیل بن علی بن عبیدوغیرہ نےخبردی اوراپنی سندمحمد بن عیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردیتےتھے وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منیع اورنباء نےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے ہم سے ابومعاویہ نے عاصم احول سے انھوں نے عیسیٰ بن حطان سے انھوں نے مسلم بن سلام سے انھوں نے طلق بن علی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ایک اعرابی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آیااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص جنگل میں ہوتاہے اوراس کی ریح خارج ہوجاتی ہے(یعنی وضوٹوٹ جاتاہےاورپانی اس کے پاس کم ہوتاہے تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تم میں سے کسی کی ریح خارج ہوجائے تواس کوچاہیے۱؎وضوکرے اورعورتوں کے ساتھ خلاف وضع فطرت ہم بستری نہ کیاکرو اللہ سچ بات سے شرم نہیں کرتا۔۔۔
مزید
بن منذر بن قیس بن عمروبن عبداللہ بن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن دول حنفی ان سے مسلم بن سلام نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہمیں اسماعیل بن علی بن عبیدوغیرہ نےخبردی اوراپنی سندمحمد بن عیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردیتےتھے وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منیع اورنباء نےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے ہم سے ابومعاویہ نے عاصم احول سے انھوں نے عیسیٰ بن حطان سے انھوں نے مسلم بن سلام سے انھوں نے طلق بن علی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ایک اعرابی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آیااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص جنگل میں ہوتاہے اوراس کی ریح خارج ہوجاتی ہے(یعنی وضوٹوٹ جاتاہےاورپانی اس کے پاس کم ہوتاہے تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تم میں سے کسی کی ریح خارج ہوجائے تواس کوچاہیے۱؎وضوکرے اورعورتوں کے ساتھ خلاف وضع فطرت ہم بستری نہ کیاکرو اللہ سچ بات سے شرم نہیں کرتا۔۔۔
مزید
بن منذر بن قیس بن عمروبن عبداللہ بن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن دول حنفی ان سے مسلم بن سلام نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہمیں اسماعیل بن علی بن عبیدوغیرہ نےخبردی اوراپنی سندمحمد بن عیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردیتےتھے وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منیع اورنباء نےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے ہم سے ابومعاویہ نے عاصم احول سے انھوں نے عیسیٰ بن حطان سے انھوں نے مسلم بن سلام سے انھوں نے طلق بن علی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ایک اعرابی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آیااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص جنگل میں ہوتاہے اوراس کی ریح خارج ہوجاتی ہے(یعنی وضوٹوٹ جاتاہےاورپانی اس کے پاس کم ہوتاہے تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تم میں سے کسی کی ریح خارج ہوجائے تواس کوچاہیے۱؎وضوکرے اورعورتوں کے ساتھ خلاف وضع فطرت ہم بستری نہ کیاکرو اللہ سچ بات سے شرم نہیں کرتا۔۔۔
مزید
امیرالمومنین ابن عم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم زوج سیدۃ النساء فاطمہ زہراء ابن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب لوی قریشی ہاشمی ابن عم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم۔ابوطالب کانام عبدمناف تھااوربعض لوگوں کابیان ہے کہ ابوطالب ان کا نام بھی تھااورہاشم کانام عمروتھا۔حضرت علی کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں کنیت ان کی ابوالحسن تھی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے (چچازاد)بھائی اورآپ کے دامادیعنی آپ کی صاحبزادی فاطمہ سیدۃالنساءکے شوہرتھےاورآپ کے فرزند وں کے والد تھے۔یہ پہلے ہاشمی ہیں جو دوہاشمیوں کے درمیان میں پیداہوئے اورپہلے خلیفہ ہیں جوبنی ہاشم میں سے ہوئے۔حضرت علی جعفراورعقیل اورطالب سے چھوٹے تھےبقول اکثر علماسب سے پہلےاسلام لائے۱؎جیساکہ ہم بیان کریں گے اورمدینہ کی طرف ہجرت کی اوربدرمیں اورخندق میں اوربیعتہ الرضوان میں اورتمام مشاہد میں سواتبوک ک۔۔۔
مزید
بن محرز بن عمروبن عبداللہ بن عمروبن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن وول بن حنیفہ۔ان کی کنیت ابویحییٰ ہے۔یمامہ میں رہتےتھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدبن کرگئےتھےان سے ان کے بیٹے عبدالرحمن نے روایت کی ہے۔ہمیں ابوالفرج بن ابی الرجانے کتابتہً اپنی سند کوابوبکر بن ابی عاصم تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے ملازم بن عمروحنفی سے انھوں نے عبداللہ بن بدر سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان سے انھوں نے اپنے والد علی بن شیبان سے جووفد میں سے ایک شخص تھے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اورہم نے آپ سے بیعت کی وہ کہتے تھے ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازپڑھی توآپ نے گوشہ چشم سے ایک شخص کودیکھاکہ وہ رکوع سجود میں اپنی پیٹھ کو برابرنہ رکھتاتھاپس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھ چکےتوآپ نے فرمایا کہ۔۔۔
مزید
بن محرز بن عمروبن عبداللہ بن عمروبن عبدالعزی بن سحیم بن مرہ بن وول بن حنیفہ۔ان کی کنیت ابویحییٰ ہے۔یمامہ میں رہتےتھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدبن کرگئےتھےان سے ان کے بیٹے عبدالرحمن نے روایت کی ہے۔ہمیں ابوالفرج بن ابی الرجانے کتابتہً اپنی سند کوابوبکر بن ابی عاصم تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے ملازم بن عمروحنفی سے انھوں نے عبداللہ بن بدر سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان سے انھوں نے اپنے والد علی بن شیبان سے جووفد میں سے ایک شخص تھے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اورہم نے آپ سے بیعت کی وہ کہتے تھے ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازپڑھی توآپ نے گوشہ چشم سے ایک شخص کودیکھاکہ وہ رکوع سجود میں اپنی پیٹھ کو برابرنہ رکھتاتھاپس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھ چکےتوآپ نے فرمایا کہ۔۔۔
مزید
قرظی ۔علی بن سعیدعسکری نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔عمروبن دینارنے یحییٰ بن جعدہ سے انھوں نے علی بن رفاعہ سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جو اہل کتاب سے ایمان لائےتھےیہ دس آدمی تھے اہل کتاب اپنی مجلسوں میں بیٹھاکرتےتھے پس جو ان لوگوں کا گذر ان مجلسوں میں ہوتاتو وہ لوگ ان سے استہزاء اورمسخراپن کیاکرتے تھے پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی۱؎ اولئک یؤتون اجرہم مرتین بماصبروا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے پس اس روایت کی بناپران کے والد صحابی ہونگے (نہ خودیہ) ۱؎ترجمہ۔ان لوگوں کوان کا ثواب دونادیاجائےگا بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبرکیا۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سلمی حضرت معاویہ کے بھائی تھے۔کثیر بن معاویہ بن حکم نے اپنے والدسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میرے بھائی علی بن حکم کاپیرٹوٹ گیاوہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں آئے آپ نے ان کے پیرپرہاتھ ماراپس وہ اچھاہوگیا۔یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے اورابوعمرنےکہاہےکہ میں علی بن حکم برادرمعاویہ بن حکم کوسلمی خیال کرتاہوں یہ دادا تھے۔خدیج بن سدرہ بن علی سلمی کے جواہل قباء سے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےمیں کہتاہوں کہ ابوعمربن علی بن حکم کوسدرہ کاوالد قراردیاہے مگرابن مندہ اورابونعیم نے علی بن حکم کو معاویہ کابھائی قراردیاہے اوران علی بن ابی علی کوجن کا ذکرآگے آئےگاسدرہ کاوالد قراردیاہے پس ان دونوں نے اس نام کے دوحصے قراردئےہیں اورابوعمرنے ایک ہی رکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمروبن سلمہ بن منبہ بن ذہل بن عطیف بن عبداللہ بن ناجیہ بن مراد۔ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں وفد بن کرآئےتھے اورپھریمن واپس گئےتھے فتح مصر میں شریک تھے اورحضرت معاویہ کے زمانہ میں عتبہ بن ابی سفیان نے ان کواسکندیہ کا حاکم مقررکیاتھا۔اس کو ابوعقیل معافری نے روایت کیاہے یہ ابن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید