عبدی۔ان سے محمد بن سیرین نے اوران کے بیٹے اشعث بن عمیر نے روایت کی ہے۔ یہ صحابی ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتےہیں اوربعض لوگ ان کو صحابی کہتےہیں۔ ہمیں یحییٰ بن محمودنے اجازۃً اپنی سند ابوبکریعنی احمد بن ابی عمروتک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکربن ابی شیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن فضیل نے عطاء بن سائب سے انھوں نے اشعث بن عمیرسےانھوں نے اپنے والدسے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آیاجب ان لوگوں نے واپسی کاارادہ کیاتوکہنے لگے کہ جو باتیں ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں سب یاد کرلی ہیں اب نبیذکے بارے میں آپ سے پوچھناچاہیےاس کے بعدپوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
جعفرمستغفری نے ان کا تذکرہ لکھاہےاورانھوں نے قتادہ سے انھوں نے حسن بصری سے انھوں نے ابوساسان یعنی حصین بن منذر سے انھوں نے مہاجر بن قنفذ سے انھوں نے عمیر بن جدعان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیااس وقت آپ وضو کررہے تھےآپ نے سلام کا جواب نہ دیاجب وضو سے فراغت کرچکے توسلام کا جواب دیااورفرمایا کہ اس وقت میں نے جواب اس وجہ سے نہ دیاتھاکہ بغیر وضوکے میں نے اللہ کا نام لینااچھانہ سمجھا۔ یہ روایت جعفرنے عمیرسے اسی طرح نقل کی ہےحالانکہ یہ روایت قنفذبن عمیر سے ہے عمیر نے تو میرے خیال میں زمانہ بعثت پایاہی نہیں۔یہ عمیرعبداللہ بن جدعان کے بھائی ہیں واللہ اعلم۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن غاضرہ بن اشرس کندی صحابی ہیں ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن نعمان۔کنیت ان کی ابوضیاح تھی۔انصاری ہیں۔ان کا تذکرہ کنیت کے باب میں آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن کلفہ بن ثعلبہ بن عوف انصاری۔کنیت ان کی ابوحبہ ہے یحییٰ بن یونس نے اورسعید نے ان کا نام اسی طرح بتایاہےمگراورلوگوں نے اختلاف کیاہے جواوپربیان ہوچکاہے۔ہم عنقریب ان کاتذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں کریں گے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوعبیسہ ہے ان کی حدیث یہ ہے کہ یہ کہتےتھےمیں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ وہ کیا چیزہے جس کا کسی مانگنے والے کونہ دیناجائز نہیں فرمایاکہ پانی اورنمک ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اور کہاہے کہ نمک کا ذکراس حدیث میں محفوظ نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کے والد ہیں ان سے ان کے بیٹےابوبکرنے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیاہے کہ میری امت کے تین ہزارآدمی بغیرحساب کے جنت میں داخل ہوں گے عمیرنے کہایارسول اللہ اس تعداد کواوربڑھائیےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا(یعنی دس ہزار)عمیرنے کہایارسول اللہ اورزیادہ کیجیے توحضرت عمر۱؎ نے کہاکہ اے عمیربس کروعمیرنے کہااے ابن خطاب تم کواس میں کیادخل ہےتمھارا کیا حرج ہےاگراللہ ہمیں جنت میں داخل کرےحضرت عمرنے کہااگراللہ چاہے توایک چشم زدن میں سب کو جنت میں داخل کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ عمرسچ کہتےہیں۔ان کا تذکرہ ابو موسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ حضرت عمرکے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مباداایسی حدیثوں کوسن کرلوگ عمل ترک کردیں۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عتیک بن عمروبنت انصاری اوسی۔زعوراعبدالاشہل وہی قبیلہ ہے جس سے سعد بن معاذ تھےیہ عمیراحد میں اوراس کے بعدکےغزوات میں شریک تھے۔یہ عمیرمالک اور حارث فرزندان اوس کے بھائی تھے۔یہ عمیرجنگ یمامہ میں شہیدہوئےتھےان کاتذکرہ اورعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔زید بن ابی حبیب نے اسلم بن یزیداوریزیدبن اسحاق سے روایت کی ہے وہ دونوں عمیر بن ابی امیہ سے نقل کرتےتھےکہ ان کی ایک بہن مشرکہ تھیں وہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے متعلق بہت ستایاکرتی تھیں ایک روزانھوں نے اپنی بہن کو مخفی طورپر قتل کردیا۔ ان کے بہن کے بیٹوں نے جو اپنی ماں کومقتول پایا توانھوں نے بہت شور مچایاعمیر کویہ اندیشہ پیداہواکہ یہ لوگ کسی اورکوناحق قتل کردیں گے تووہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئےاورسب واقعہ آپ سے بیان کیاآپ نے فرمایاکہ کیاتم نے اپنی بہن کوقتل کردیاانھوں نے کہاہاں آپ نے فرمایاکیوں انھوں نے کہا اس وجہ سے کہ و ہ مجھے آپ کے پاس آنے کے متعلق بہت ستایاکرتی تھیں پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بہن کے بیٹوں کو بلوابھیجااوران سے پوچھا کہ تمھاری ماں کو کس نے قتل کیا ہے ان لوگوں نے کسی شخص کانام بتادیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سب واق۔۔۔
مزید
اسلمی۔حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ عمیر بن اقصیٰ قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے ہمراہ آئے اورانھوں نے کہاکہ یا رسول اللہ ہم لوگ سرداران عرب سے ہیں دشمن کا مقابلہ تیر نیزوں اورمضبوط زرہوں کے ساتھ جوہم سے لڑتاہے اس کو ہم موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں اور ایک طویل حدیث انھوں نے انصارکے فضائل میں بیان کی اوریہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیرکواوران کے ساتھیوں کوایک تحریرلکھ دی تھی جس کو ہم نے اس سبب سے ترک کردیاکہ اس کے الفاظ بہت غریب اورراویوں کے سبب سے غلط ہوگئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید