ابن عبد۔ بصرہ کی سکونت اختیار کر لی تھی نبی ﷺ سے انھوں نے روایت کی ہے انھوں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہار یبھائی نجاشی کی وفات ہوگئی ہے لہذا تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو۔ ان سے جہاں تک میرا علم ہے سوا عفان کے ور کسی نے روایت نہیں کی۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ انصاری۔ قبیلہ بنی حارث بن خزرج سے ہیں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ان کا نسب انصار میں معلوم نہیں ہوتا بعض لوگ ان کوبشیر کہتے ہیں یہ ابو عمر کا بیان ہے۔ ہمیں عمار نے سلمہ بن فل سے انھوں نیابن اسحاق سے جنگ یمامہ میں جو انصار قبیلہ بنی حارث بن خزرج سے شہید ہوئے تھے ان میں بشر بن عبداللہ کا نام بھی رویات کیا ہے ان کا نسب نہیں بیان کیا انشاء اللہ ان کا تذکرہ بشیر کے نام میں بھی آئے گا۔انکا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عاصم۔ بخاری نے کہا ہے کہ بشر بن عاصم نبی ﷺکے صحابی تھے انھوں نے صرف اسی قدر ذکر یا ہے اور ان کا تذکرہ بشربن عاصم بن سفیان سے علیحدہ کر کے لکھا ہے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اور انھوں نے ان کو صحابی لکھاہے او رپہلے بسر کو صحابی نہیں لکھا اور لوگوں نے ان کو نبی صحابی لکھا ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عاصم بن سفیان ثقفی۔ اکثر علما نے ان کا نسب اسیطرح بیان یا ہے اور بعض نے ان کو غزوی قرار دیا ہے اور ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے عاصم بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ یہ حضرت عمر بن خطاب کی طرف سے قبیلہ ہوازن کے صدقات وصول کرنے پر مامور تھے۔ ابو وائلنے رویتکی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے انھیں ہوازن کے صدقات پر مامور کیا یہ نہیں گئے تو حضرت عمر نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ تم کیوں نہیں گئے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میری بات کا سننا اور ماننا تم پر فرض ہے انھوںنے کہا ہاں یہمعلوم ہے مگر میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جو شخص مسلمانوں کے کسی کام پر مامور کیا جائے گا وہ قیامت کے دن جہنم کے پل پر لاکے کھڑا کیا جائے گا پھر اگر اس نے اچھا کام کیا ہے تو نجات پائے گا اور اگر اس نے برا کام کیا ہے تو وہ پل پھٹ جائے گا اور وہ جہنم میں بقدر ستر برس کی مسافت کے گہرا۔۔۔
مزید
ابن صحار۔ ان کا تذکرہ عبدان بن محمد نے صحابہ میں کیا ہے اور انھوںنے اپنی اسناد سے سلم بن قتیبہ سے انھوں نے بشر بن ضحار سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کی چادر کو دیکھا کہ وہ درس سے رنگی ہوئی تھی اور میں نے نبی ﷺ کے گدھے بندھنے کی جگہ کو دیکھا اس گدھے کا نام عفیرا تھا میں نبی ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتا تھا (ان کی چھتیں ایسی نیچی تھیں کہ) میں ان کی چھتوں کو پا جاتا تھا۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ بشر صحار بن عبد بن عمرو کے بیٹے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں عبد عمر درازی کے بیٹِے ہیں۔ تبع تابعین میں ہیں حسن بصریا ور ان کے مثل اور لوگوں سے رویتکرتے ہیں۔ چادر کے دیکھنے اور گدھے کے بندھنے کی جگہ دیکھ لینے سے یہ صحابی نہیں ہوکستے کیوں کہ اگر نبی ﷺ کے آثار دیکھ لینے سے کوئی شخص صحابی ہو جائے تو بہت سے لوگ صحابی ہو جائیں گے اور سلم بن قتبیہ متاخرینس ے ہیں ان کی نسب۔۔۔
مزید
ابن سحیم غفاری۔ حرام بن غفار بن ملیل کی اولاد سے ہیں۔ اور بعض لوگ ان کو نہزی کہتے ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہے کراع غمیم و ضجنان میں رہتے تھے اس کو ابن مندہ اور ابو نعیم نے محمد بن سعد سے نقل کیا ہے۔ اور ابو عمر نے کہا ہے کہ بشر بن سحیم بن حرام بن غفر ابن طیل بن ضمرہ بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ غفاری۔ ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے ایک حدیث ایام تشریق کی بابت روایت کی ہے کہ وہ کھانے پینیکے دن ہیں انھوںنے کہا ہے کہ اس کے سوا اور کوئی حدیچ ان کی مجھے یاد نہیں پڑتی اور بعض لوگ ان کو نہری کہتے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ واقدی نے بیان کیا ہے کہ بشر بن سحیم خزاعی کراع غمیم و ضجنان میں رہتے تھے اکثر لوگ انھیں غفاری کہتے ہیں۔ ہمیں ابو یاسر بن ابی حبہ نے اپنیسند سے عبداللہ بن احمد سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھے میرے والد نے خبر دی وہ کہتے تھے ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو رافع۔ اور بعض لگ ان کا نام بشیر کہتے ہیں اور بعض لوگ بسر کہتے ہیں ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ہمیں عبدالوہاب بن ہتہ اللہ بن عبدالوہاب نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیانکیا وہ کہتے تھے مس ے عچمان بن عمر نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں عبدالحمید بن جعفر نے محمد بن علی یعنی ابو جعفر سے انھوں نے رافع بن بشڑ سلمی سے انوں نے اپنے والد سے روایت کر کے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا مقام حبس سیل میں ایک آگ ظاہر ہوگی وہ مثل سست رفتار اونٹ کے حرکت کرے گی رات کو غائب ہو جایا کرے گی اور ان کو چلے گی صبح شام چلا کرے گی لوگ کہیں گے کہ اب صبح کو آگ چل رہی ہے اے لوگو چلو اور آپ آگ نے قیلولہ کیا ہے اے لوگو تم بھی قیلولہ کر لو اور اب شام کو آگ چلی ہے اے لوو چلو وہ آگ جس کو پالے گی اسے کھا جائے گی اور یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ ایک آگ مقام بصرے میں ظاہر ہوگی۔ اس حدی۔۔۔
مزید
ابن راعی العیر۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ ان کا ذکر سلمہ بن اکوع کی حدیچ میں ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو دیکھا جس ک نام بشربن راعی العیر تھا وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا الی آخر الحدیث ان کا تذکرہ بسر کے بیان میں ہوچکا ہے۔ابو نعیم نے کہا ہے کہ صحیح بسر ہے یعنی سین مہملہ کے ساتھ۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو خلیفہ۔ انکا صحابی ہونا ثابت ہے۔انکا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ ان سے صرف ان کے بیٹے خلیفہ روایت کرتے ہیں کہ یہ اسلام لائے تو نبی ﷺنے ان کیمال اور اولاد کو (جو بطور غنیمت ک لوٹ لئے گئے تھے) واپس کر دیا پر نبی ﷺ سے اور ان سے (تھوڑی دیر بعد) ملاقات ہوئی تو آپنے ان کو اور ان کیبیٹے کو ایک رسی میں بندھا ہوا دیکھا حضرت نے ان سے پوچھا ہ اے بشر یہ کیا ہے انھوں نے کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ میرے مال اور اولاد کو واپس کر دے گا تو ہم دونوں اس طرح ایک ساتھ حج کریں گے نبی ﷺ نے رسی کو کاٹ دیا اور ان سے فرمایا کہ (معمول کے موافق) حج کرو یہ تو شیطانی فعل ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور ابن مندہ نے کہا ہے ہ یہ حدیث غریب ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن حنظلہ جعفی۔ ان کا تذکرہ ابن قانع نے لکھا ہے اور انھوں نے اپنی سند سے بواعطہ سوید بن غفلہ کے یا اور کسی شخص کے بشر بن حنظلہ جعفی سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا ہم بقصد زیارت رسول خدا ﷺ وائل بن حجر حضری کے ہمراہ چلے اتفاقا ہمارا گذر ان لوگوں پر ہوا و وائل اور ان کے گھر والوںکے دشمن تھے ان کو تلاش کیا کرتے تھے ان لوگوں نے ہمس ے پوچھا کہ کیا تمہارے ہمراہ وائل بھی ہیں ہم لوگوں نے کہا کہ نہیں ان لوگوں نے کہا یہ وائل تو ہیں تو میں نے ان کے امنے قسم کھائی کہ یہ میرے بھائی ہیں میرے ماں باپ کے بیٹے ہیں چنانچہ وہ لوگ (ان کے قتل سے) باز رہے پھر جب ہم رسول کدا ﷺ کے حضور میں پہنچے تو آپ سے یہ سب واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا تم نے سچی قسم کھائی وہ تمہارے بھائی ہیں تم دونوں کے باپ آدمہیں ور ان دونوں کی حوا ہیں۔ یہ حدیث سوید بن حنظلہ کی ہے جس کو ابن دباغ اندلسی نے یہاں بیان کیا ہے۔ (اسد الغابۃ ج۔۔۔
مزید