بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

(سیدنا) ثابت ابن اثلہ انصاری (رضی اللہ عنہ)

     اوسی۔ خیبر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شہید ہوئے انکا تذکرہ عبدان نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تیہان (رضی اللہ عنہ)

    یہ ایک مجہول شخص ہیں۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ابو عبداللہ جعفی نے محمد بن سوقہ سے انھوں نے اسعد بن تیہان انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت یا ہے کہ انھوںنے رسول خدا ﷺ کو سنا کہ آپنے موذن کی آواز سن کر ویسا ہی فرمایا (یعنی یہ کہ ہمیں اپنے شعر سنائو) ابن مندہنے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے صرف ابن مندہ نے اس تذکرہ کو لکھا ہے اور ابو نعیم نے اس حدیث کو تیہان والد ابو الہثیم کے بیان میں لکھاہے اور کہا ہے کہ اس حدیث میں اور اس حدیث میں جو اس سے پہیلے گذر چکی کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تیہان (رضی اللہ عنہ)

    ابو الہثیم بن تیہان کے والد ہیں۔ محمد بن جعفر مطین نے ہناد بن سری سے انھوں نے یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انھوںنے مہمد بن ابراہیم بن حارث تیمیس ے انھوں نے ابو الہثیم بن تیہان سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اثنا ے سفر خیبر میں عامر بن اکوع سے یہ فرماتے ہوئے سنا اکوع کا نام سنان ہے کہ ہمیں کچھ اپنا اشعار انائو تو عامر اتر پڑِ اور انھوںنے رسول خدا ﷺ کے سامنے رجز پڑھنا شروع کیا اور یہ اشعار پڑھے۔ والیہ لولا اللہ ما اہتدینا        ولا تصدقنا ولا صلینا        فانزلن سکینتہ علینا        وثبت الاقدام ان لاقینا (٭ترجمہ۔ قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے پس اے اللہ تو ہم پر اطمیںان نازل کر اور جب ہم ۔۔۔

مزید

(سیدنا) توام ابو دخان (رضی اللہ عنہ)

    کنیت ان کی ابو دخان ہے۔ انکی حدیث عباس ازرق نے ہذیل بن مسعود سے انھوںنے شعبہ بن دخان بن قوام سے انھوںنے ان کے دادا سے روایتکی ہے کہ نبی ھ نے فرمایا یہ شعر موزوں کلام عربکا نام ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تمیم (رضی الہ عنہ)

    ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا۔ ان سے یزید بن حصین نے سباکے قصہ میں ایک حدیث رویت کی ہے مگر وہ حدیث صحیح نہیں ابو عمرو نے لیث بن سعد سے انھوںنیموسی بن علی سے انھوں نے یزید بن حصین سے انھوںنے تمیم سے روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا بی ﷺ سے سبا کے متعلق پچھا گیا کہ وہ عورت ہے یا مرد اس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) تمیم (رضی اللہ عنہ)

    ابن بعار بن قیس بن عدی بن امیہ بن خدرہ بن عوف بن حارث بن خزرج بن ہارثہ۔ جنگ بدر میں شریک تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ایسا ہی کہا ہے ہ یہ خدری ہیں اور ابن کلبی نے کہا ہے کہ یہ خدارہ بن عوف کی اولاد سے ہیں جو خدرہ کے بھائی تھے۔ اور ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ تمیم بیٹے ہیں یعار بن نسر بن عمرو انصاری خزرجی کے احد میں نبی ﷺ کے ہمراہ شریک تھے انھوں نے کہا ہے کہ علی بن عمر دارقطنی نے ان کا ذکر سی طرح کیا ہے۔ مں کہتا ہو کہ ابن ماکولا نے بھی ایساہی کہا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن بجیرہ طائی۔ ابوعمر نے کہا ہے کہ میں ان کی کوئی روایت نبی ﷺ سے نہیں جانتا ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں قتال مرتدین میں ان سے بہت بڑے بڑے کام ہوئے اور انھوں نے کچھ اشعار بھی کہے تھے جن کو ابن اسحق نے بیان کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ابو المعارک بن مرہ بن صخر بن بجیر طائی فیدی سے انھوں نے اپنے والد معارک سے انھوں نے انے والد صخر سے انھوں نے اپنے والد بجیر بن بجرہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں اس لشکر میں تھا جس کو رسول خدا ﷺ نے خالد بن ولید کے ہمراہ بھیجا تھا جب آپ نے اکیدر بادشاہ دومۃ الجندل کے پاس بھیجا رسول خدا ﷺ نے ہمسے فرمایا تھا کہ تم ا کیدر کو اس حال میں پائو گے کہ وہ چاندی رات یں گائے کا شکر کھیلرہا ہوگا یہ کہتے ہیں کہ م نے اسی حالت میں س کو پایا جیسا کہ رسول کدا ﷺ نے بیان فرمایا تھا پس ہم نے اسے گرفتار کر لیا اور  کے بھائی کو قتل کر دیا وہ م۔۔۔

مزید

سیدنا) ابجراہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عامر۔ انکی حدیث یہ ہے کہ یہ کہتے تھے ہم رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گئے اور اسلام لائے اور ہم نے آپ سے درخواست کی کہ نماز عشاء ہمس ے معاف کر دیں کیوں کہ ہم اس وقت اپنے اونٹوںکے وہنے میں مشغول رہتیہیں حضرت نے فرمایا تم انشاء اللہ اپنے اونٹوںکو بھی دوھ لو گے اور نماز بھی ڑھو گے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس حدیث کو بجیرہ کے تذکرہ میں لکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو بجرہ بھی کہتے ہی ہم بھی انشاء اللہ بجیرہ کے بیان میں ذکر کریں گے۔ بجیر ابن اوس بن حارثہ بن لام طائی۔ عروہ بن مضرس طائی کے چچا ہیں۔ انکے اسلام میں کلام ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بجاد (رضی اللہ عنہ)

  اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بجار بن سائب بن عویمر بن عائد بن عمران بن مخزوم بن یقیظ بن مرہ بن کعب بن لوی قرشی مخزومی۔ جنگ یماہ میں شہید ہوئے۔ ان کے صحابی ہونے میں  کلام ہے ان کے دو بھائی جابر اور عویمر بدر میں بحالت کفر مارے گئے ان دونوں کا ذکر موسی بن عقیہ کی کتاب میں نہیں ہے۔ ان کے ایک بھائی عائذ بن سائب بدر میں بحالت کفر گرفتار ہوگئے تھے اور انھوں نے رسول خدا ﷺ کی صحبت اٹھائی تھی ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) باذان (رضی اللہ عنہ)

  فارسی۔ یہ ان فارسیوں کی اولاد سے ہیں جن کو نوشیروان نے سیف بن ذی یزن کے ہمراہ یمن کی طرف حبشیوں سے لڑنے کے لئے بھیجا تھا اور وہ لوگ وہیں یمن میں رہ گئے تھے باذان صنعاء میں رہتے تھے اور نبی ﷺ کی حیات میں مسلمان ہوگئے تھے اسود حنسی کے قتل میں انھوں نے بڑا کار نمایں کیا ہے ہم نے ان کا حال تاریخ کامل میں لکھا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن دباغ اندسلی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید