اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی ثمامہ جذامی کنیت ان کی ابو سوادہ۔ ابن مندہ نے ابو سعید بن یونس سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے عمرو بن حارث کی کتاب میں بکر بن سوادہ سے جو ان کے مولی تھے یہ روایت لکھی ہوئی دیکھی کہ نبی ﷺ نے ان کے دادا ثمامہ کے لئے دعا فرمائی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن بجاد عبدی۔ صحابی ہیں۔ ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے انھوں نے کوئی حدیث نہیں روایت کی ان سے ابو اسحاق سبیعی نے اور عیزار بن حریث نے رویت کی ہے۔ شعبہ نے اور زہیر نے ابو اسحاق سے انھوں نے ثمامہ بن بجاد سے جو صحابی ہیں روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں تمہیں ڈراتا ہوں اس (قسم کے حیلے بہانوں) سے کہ میں عنقریب (٭مقصود یہ ہے کہ جو کام کرتا ہے کر لو اس وقت کا کام دوسرے وقت پر اٹھا رکھنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ اس قسم کی طبیعت کا آدمی کبھی اپنے ارادے میں پورا نہیں اترتا) عبادت کروں گا عنقریب روزہ رکھوں گا عنقریب نماز پڑھوں گا۔ اس قول کو اسرائیل نے ابو اسحاق سے انھوں نے عیزار بن حریث سے انھوںنے ثمامہ بن بجاد سے اسی طرح روایت کی اہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثمامہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن اثال بن نعمان بن مسلمہ بن عبد بن ثعلبہ بن یربوع بن ثعلبہ بن دول بن حنیفہ بن طیم۔ حنیفہ بھائی ہیں عجل کے۔ ہمیں ابو جعفر یعنی عبید اللہ بن حمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک خبر دی وہ ابن اسحاق سے وہ سعید مقری سے وہ ابوہریرہ سے روی ہیں کہ انھوں نے کہا ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ اس طرح پر ہے کہ رسول خدا ﷺ نے دعا مانگی تھی جب یہ برے ارادہ سے آپ کے سامنے آئے کہ اللہ آپ کو ان پر قابو دے یہ مشرک تھے اور بارادہ قتل آنحضرت ﷺ یہ حضرت کے سامنے آئے تھے (اتفاق سے چند روز کے بعد) ثمامہ اسی حالت شرک میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے یہاں تک کہ (اثنائے سفر میں) مدینہ پہنچے اور وہاں سبہوت ہوگئے یہاں تک کہ گرفتار کر لئے گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے حضور میں لائے گئے آپ نے حکم دیا کہ یہ مسجد کے کسی ستون سے باندھ دئے جائیں پھر رسول خدا ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے ثمام تمہار۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثلب (رضی اللہ عنہ)

ابن ثعلبہ بن عطیہ بن احنف بن مجفر بن کعب بن عنبر تمیمی عنبری۔ کنیت ان کی ابو ہلقام ہے بعض لوگ ان کو تلب تای ثناۃ کے ساتھ کہتے ہیں ان کا تذکرہ گذر چکا ہے ان کا ذکر لوگوں نے وہیں لکھاہے یہاں کسی نے نہیں لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد  نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثقف (رضی اللہ عنہ)

    ابن عمرو بن سمیط۔ بنی غنم بن دودان بن اسد سے ہیں خیبر کے دن شہید ہوئے۔ یہموسی بن عقبہ نے بن شہاب سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انصار کے حلیف تھے ابن اسحاق نے بھی ایسا ہی کہا ہے مگر انھوں نے کہا ہے کہ یہ بنی غنم کے حنیف تھے اور عروہ نے کہا ہے کہ خیبر کے دن قریش کی شاخ بنی عبد مناف سے ثقف بن عمرو شہید ہوئے جو قریش کے حلیف تھے اور بنی اسد بن خزیمہ کے خاندان سے تھے اس کو ابن مندہ اور ابو نعیم نے نقل کیا ہے۔ عروہ کا قول بہت صحیح ہے کیوں کہ بنی غنم بن دودان قریش کے حلیف تھے اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اپنے حلف پر قائم رہے۔ اور ابو عمر نے کہا ہے کہ ثقف بن عمرو اسلمی جن کو بعض لوگ اسدی کہتے ہیں بنی عبد شمس کے حلیف تھے کنیت ان کی ابو مالک ہے وہ اور ان کے بھائی علاج اور مالک بدر شریک تھے۔ یہ ثقف احد کے دن شہید ہوئے اور انھوں نے کہا ہے کہ موسی بن عقبہ نے یمان کیا کہ وہ خیبر ک۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ودیعہ انصاری۔ یہ ان لوگوں میں ہیں جو غزوہ تبوک میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ نہیں گئے تھے پھر انھوں نے اپنے آپ کو (مسجد نبوی کے) ستونوں سے باندھ دیا تھا یہاں تک کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور اعش نے ابو سفیان سے انھوں نے جابر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جو لوگ (غزوہ تبوک میں) رسول خدا ﷺ کے ہمراہ نہیں گئے تھے چھ آدمی تھے ابو لبابہ، اوس بن خزام ثعلبہ بن ودیعہ کعب بن مالک مرارہ ہلال بن امیہ پس ابو لبابہ اور اوس بن خذام اور ثعلبہ آئے اور انھوں نے اپنے آپ کو (ستونوں سے) باندھ دیا اور اپنے مال لے آئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ان مالوں کو لے لیجئے انھیں نے ہم کو آپ کے ہمراہ جانے سے روک دیا تھا رسول خدا ﷺ نے فرمایا میں ان لوگوں کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ پھر کوئی غزوہ پیش آئے پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی واخرون اعتر فوابذنوبھم خلطوا عملا صالحا و اغر سئیا (٭ترجمہ اور کچھ لوگ ہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی مالک قرظی۔ کنیت ان کی ابو یحیی ہے۔ قبیلہ بن ی قریضہ کے امام تھے رسول خدا ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد بن سعد نے کہا ہے کہ (ان ثعلبہ کے والد) ابو مالک یمن سے آئے تھے وہ یہودی تھے انھوں نے بنی قریضہ کی ایک عورت سے نکاح کیا لہذا یہ ان کی طرف منسوب ہوگئے حالانکہ یہ خود قبیلہ کندہ کے ہیں۔ یحیی بن معین نے کہا ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے۔ اور مصعب زبیری نے کہا ہے کہ ثعلب بن ابی مالک کی عمرو ہی ہے جو عطیہ قرظی کی عمر ہے اور ان کا قصہ بھی ان کے قصہ کے مثل (٭ان کا قصہ یہ ہے کہ بنی قریضہ کے قیدی جب گرفتار ہو کر آئے تو جو لوگ بالغ ہوچکے تھے وہ قتل کر دیئے جاتے تھے اور نابالغ چھوڑ دیے جاتے تھے یہ بھی چونکہ نابالغ تھے اس لئے قتل نہیں کئے گئے) ہے یہ دونوں چھوڑ دیئے گئے تھے قتل نہیں کئے گئے۔ محمد بن اسحاق نے ابو مالک بن ثعلبہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کے حضور ۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن قیظی۔ ہمیں ابو موسی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو نعیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن عبداللہ حضرمی نے خبر دی وہ کہتے تھے ابن ابی رافع کی حدیث میں مروی ہے کہ ثعلبہ بن قبطی بن صخر بن سلمہ بدری ہیں۔ ان کا تذکرہ ابو نعیم اور ابو موسی نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن غنمہ بن عدی بن نابی بن عمرو بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی عقبہ کی دونوں بیعتوں میں شریک تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے۔ یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے قبیلہ بنی سلمہ کے بت توڑے تھے۔ غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ یہ ابن اسحاق کا قول ہے انھیں ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی نے شہید کیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے کہا ہے کہ یہ غزوہ خیبر میں شہی ہوئے جن لوگوںنے (قبیلہ بنی سلمہ کے) بت توڑے تھے ان کے نام یہ ہیں معاذ بن جبل عبداللہ بن انیس ثعلبہ بن غنمہ اور ابو صالح نے ابن عباس سے اللہ تعالی کے قول ویسالونک عن الاھلۃ (٭ترجمہ اور اے نبی تم سے یہ لوگ ہلال کی بابت دریافت کرتے ہیں)کی تفسیر میں روایت کی اہے کہ انھوں نے کہا یہ آیت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنمہ کے حق میں نازل ہوئی تھی یہ دونوں انصاری تھے انھوں نے کہا تھا کہ یارسول اللہ کیا سبب ہے کہ چاند جب نیا نکلتا تو باریک ہوتا ہے پھر بڑھ۔۔۔

مزید

  (سیدنا) ثعلبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو۔ ابن اسحاق نے ان کا تذکرہ اس وفد میں کیا ہے جو رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوا تھا جن کو زید بن حارثہ نے قبیلہ جذام سے بعد ان کے مسلمان ہو جانے کے قید کر لیا تھا اور رسول خدا ﷺ نے ان کے چھوڑ دینے کا حکم دیا اور یہ کہ جو کچھ ان سے لیا گیا ہے ان کو واپس کر دیا جائے۔ ان کا تذکرہ ابن دباغ اندسلی نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید