ابن عمروبن حلحلہ ۔ان کا ذکر لوگوں نے صحابہ میں کیا ہے مگر یہ غلطی ہے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن حلحلہ نے اپنے والدسے اور رافع بن خدیج سے روایت کی ہے کہ یہ دونوں کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنااورمسواک کرنا ہربالغ پرواجب ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7) ۔۔۔
مزید
ابن عمروبن حلحلہ ۔ان کا ذکر لوگوں نے صحابہ میں کیا ہے مگر یہ غلطی ہے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن حلحلہ نے اپنے والدسے اور رافع بن خدیج سے روایت کی ہے کہ یہ دونوں کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنااورمسواک کرنا ہربالغ پرواجب ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7) ۔۔۔
مزید
۔حضری۔بنی امیہ کے حلیف تھے۔واقدی نے کہا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے تھے۔انھوں نے حضرت عمربن خطاب سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصراً لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حزم انصاری۔عمارہ بن عمرو بن حزم کے بھائی ہیں ان کا ذکر مغازی میں آتا ہے مگر ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عمرو حمجی۔مدنی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہی کہ آپ اپنی موچھیں اور ناخون جمعہ کے دن ترشواتے تھے اس کی سند میں کچھ کلام ہے۔ ان سے ابراہیم بن قدامہ نے روایت کی ہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔
مزید
ابن (امیرالمومنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ) قریشی عدوی۔ان کا نسب ان کے والدکے تذکرہ میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔ان کی والدہ اور ان کی بہن ام المومنین حفصہ کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب جمحہ ہیں۔یہ اپنے والد کے ساتھ مسلمان ہوگئے تھے سن بلوغ کو نہ پہنچے تھے۔اوربعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ ان کا اسلام ان کے والد کے اسلام سے بھی پہلے تھامگریہ صحیح نہیں۔ سب لوگوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ غزوہ ٔبدر میں شریک نہ تھے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سنی کے سبب واپس کردیاتھااوران کی شرکت ِاحد میں لوگوں کا اختلاف ہےبعض کاقول ہے کہ احد میں شریک تھے اوربعض کابیان ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسوقت بھی ان کو نابالغوں کے ساتھ واپس کردیاتھا۔ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک خبردی وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے تھے انھوں نے کہا، مجھے نافع نے حضرت ابن عمر سے رو۔۔۔
مزید
ابن (امیرالمومنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ) قریشی عدوی۔ان کا نسب ان کے والدکے تذکرہ میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔ان کی والدہ اور ان کی بہن ام المومنین حفصہ کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب جمحہ ہیں۔یہ اپنے والد کے ساتھ مسلمان ہوگئے تھے سن بلوغ کو نہ پہنچے تھے۔اوربعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ ان کا اسلام ان کے والد کے اسلام سے بھی پہلے تھامگریہ صحیح نہیں۔ سب لوگوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ غزوہ ٔبدر میں شریک نہ تھے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سنی کے سبب واپس کردیاتھااوران کی شرکت ِاحد میں لوگوں کا اختلاف ہےبعض کاقول ہے کہ احد میں شریک تھے اوربعض کابیان ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسوقت بھی ان کو نابالغوں کے ساتھ واپس کردیاتھا۔ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک خبردی وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے تھے انھوں نے کہا، مجھے نافع نے حضرت ابن عمر سے رو۔۔۔
مزید
ابن عمار انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے مگران کی حدیث محدثین کے نزدیک مرسل ہے۔ان سے عبداللہ بن یربوع نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید