بن عمروانصاری ہیں جعفرنے کہاہے کہ ان کا صحابی ہونابیان کیاجاتاہے مگرانھوں نے ان کی کوئی روایت نہیں بیان کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدالاسد قریشی مخزومی ہیں ان کانسب پہلے بیان ہوچکاہے جنگ یرموک میں شہید ہوئے اوریہ ہبار ابن سفیان کے بھائی ہیں۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدربہ عبداللہ کے بھائی تھے عبداللہ بن محمد بن زیدنے اپنے چچاعبیداللہ بن زیدسے روایت کرکےبیان کیاہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نےیہ چاہاکہ نمازکی اطلاع۱؎کاکوئی انتظام کریں عبداللہ بن زید آپ کے پاس حاضرہوئے اورعرض کیایارسول اللہ میں اذان کے کلمات خواب میں دیکھے ہیں آپ نے فرمایاجاؤ(وہ کلمات)بلال کوبتادو انھوں نے بلال کوبتادیے پھررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کیایارسول اللہ مجھی کو اذان خواب میں دکھائی گئی اور میں چاہتاتھا کہ میں ہی اذان دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اچھا)تم ہی دو زیدکہتے تھے پس عبداللہ کھڑے ہوگئے اور انھوں نے اذان دی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ ۱؎جانناچاہیے کہ اذان کی ابتدا مدینہ منورہ میں ۱ھ سے ہوئی اس سے پہلے نمازبےاذان پڑھی جاتی تھی چونکہ اس وقت تک مسلمانوں کی تعدادکچھ ایسی کثیرنہ تھی اس لیے ان کا جماعت کے لیے جمع ہونا بغیرکسی ا۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کا ذکرعبداللہ بن عمرکی حدیث میں ہے۔عطاء بن ابی رباح نے ابن عمر سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسناآپ فرمارہے تھے کہ میرا خط شاہ روم کے پاس کون لے جائے گااس معاوضہ پر کہ اسے جنت ملے۔ابن عمرنے کہا ہے کہ ایک شخص انصاری جس کولوگ عبیدبن عبدالخالق کہتےتھے کھڑے ہوئے اورکہاکہ میں لے جاؤں گااگر مرجاؤں گاتومیرے لیے جنت ہے آپ نے فرمایاہاں تمہارے لیےجنت ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کے والدتھے سلمی ہیں یحییٰ اپنی سندکوابوبکریعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک پہنچاکر کتابتاً خبردی وہ کہتے تھے ہم سے عبدالوہاب بن ضحاک نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن عیاش نے عقیل بن مدرک سے انھوں نے خالد بن عبیدسلمی سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ عزوجل نے تم کو تمھاری وفات کے وقت تیسراحصہ۱؎ تمھارے مال کا(اس واسطے)عنایت کیاہے کہ (اس کی وجہ سے)تمھاری نیکیوں میں زیادتی ہوجائے۔ ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسٰی نے لکھاہے کہ ابوعبداللہ نے ان کا تذکرہ عبداللہ کے بیان میں لکھاہے مگرعبیداللہ بہت صحیح ہے۔ ۱؎اس کامطلب یہ ہے کہ مرتے وقت تم کوایک تہائی مال کی وصیت کااختیاردیاہے جس کوچاہودلاجاؤ جس کارخیرمیں چاہوصرف کراجاؤ۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حرب کے والد تھے ثقفی ہیں بعض لوگوں نے ان کوحرب بن عبیداللہ بیان کیاہے عطاء بن سائب نے حرب بن عبیداللہ سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وفدمیں)آئے تھے اورکہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ مجھ کواسلام کی تعلیم کیجیے آپ نے (مجھ کواسلام)تعلیم فرمایاپھرعبیداللہ نے کہا کہ اسلام تو مجھ کومعلوم ہوگیامگرزکوۃ اورعشورکی کیاکیفیت ہے آپ نے فرمایاکہ عشورتونصاریٰ اور یہود پر مقررہے اہل اسلام پر نہیں ہاں ان پرزکوۃ فرض ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب عبداللہ بن حارث ملقب بہ ببَّہ کے بھائی تھے زہری نے اعرج سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم نے عبداللہ بن حارث کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جونمازسب سے آخرمیں پڑھی وہ مغرب کی نمازتھی آپ نے پہلی رکعت میں (سورۂ)طوراوردوسری میں(سورۂ)قل یاایہاالکافرون پڑھی تھی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مالک بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامربن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرویہ بن عمرونسیت بن مالک بن اوس انصاری اوسی ہیں یہ ابوہیثم اورعبیدفرزندان تیہان کے بھائی تھے غزوۂ احد میں شریک تھے (ان کے بعد)زعوراء کی اولاد میں سے کوئی شخص باقی نہیں رہا اور ان کازمانہ گذرکیایہ زعورا عبدالاشہل کے بھائی تھے بعض نے بیان کیا ہے کہ ابوہیثم اور ان کے بھائی قضاعہ کے خاندان سے ہیں پھربلی کے خاندان سے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مازنی نازن بن قیس کی اولاد سے ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے اس کو ابوالفضل سلیمانی نے بیان کیاہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اسدوسی ہیں یہ کہتے تھے میں بنی سدوس کے وفد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیاتھا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید