ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

سیّدنا عثمان ابن ارقم رضی اللہ عنہ

   مخزومی ہیں۔ہم کوابوالفرح بن ابی الرجانے اپنی سند کے ساتھ احمد بن عمربن ضحاک سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن علی نےبیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے عطاف بن خالد مخزومی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن عثمان بن ارقم نے اپنے داداعثمان بن ارقم سے روایت کرکے بیان کیاکہ میں (ایک روز)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہواآپ نے مجھ سے فرمایاکہ کہاں(جانے)کاارادہ رکھتے ہو میں نے عرض کیا کہ بیت المقدس کا ارادہ کرتاہوں آپ نے فرمایاکیاسوداگری کے ارادے سے وہاں جاتے ہو میں نے کہانہیں لیکن یارسول اللہ میراارادہ ہے کہ اس میں نمازپڑھوں آپ نے فرمایا کہ اس مسجد میں ایک نمازہزارنمازوں سے بہترہے پھربیت المقدس کاکوئی کیوں ارادہ کرے اس کو ابن عفیرنے عطاف بن خالد مخزومی سے انھوں نے عبداللہ بن عثمان بن ارقم سے انھوں نے اپنے دادا ارقم ۔۔۔

مزید

سیّدنا عثم ابن ربعہ رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدمیں آئے تھے(پہلے ) ان کانام عبدالعزٰی تھااس کورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثامہ ابن قیس رضی اللہ عنہ

   بعض نے ان کا نام عسامہ بیان کیاہےابوبشیربن عثامہ بن قیس ازدی نے عبداللہ بن سفیان ازدی سے روایت کی ہے یہ دونوں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے کہ رسول خدا صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتاہے اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے بقدر سوبرس کی مسافت کے دورکردےگا۔عبداللہ بن سفیان نے کہاہے کہ میں تم سے وہی بیان کرتاہوں جو میں نے سناہے عثامہ سے بلال بن ابی بلال نے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ ہم ابراہیم سے زیادہ شک۱؎ کرنے کے حقدارہیں اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط پر رحم کرے کہ وہ رکن شدید ۲؎کی طرف پناہ ڈھونڈتے تھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ۱؎اشارہ ہے ان آیات قرآنی کی طرف کہ حضرت ابراہیم نے ایک مرتبہ عرض کیاتھاکہ میرے پروردگارمجھے دکھادےکہ تومردوں کوکس طرح زندہ کرتاہے اللہ نے فرمایا کیاتم ایمان نہیں ۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیک ابن قیس بن ہشیر رضی اللہ عنہ

  بن حارث بن امیہ بن معاویہ بن مالک ان کوابن ہشام نے بیان کیاہے ان سے ان کے بیٹے جابرنے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ایک غیرت وہ ہے کہ اس کواللہ پسندکرتاہےاورایک غیرت وہ ہے جس کواللہ نا پسند کرتاہے اور ایک تکبروہ ہے جس کو اللہ پسندکرتاہے اورایک تکبروہ ہے جس کواللہ ناپسند کرتاہے پس وہ غیرت کہ جس کو اللہ تعالیٰ پسندکرتاہے وہ غیرت کہ جومقام شک میں ہوتی ہے اور وہ غیرت کہ جس کو اللہ ناپسند کرتاہے وہ ہے جوغیرشک میں ہوتی ہےاوروہ تکبرجس کواللہ پسندکرتاہے وہ ہے کہ انسان لڑائی کے وقت بطورجزکے کرتاہے اور وہ تکبرجس کواللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے وہ تکبر ہےجوناحق فسق وفجور میں ہوتاہے اس کو بہت لوگوں نے جابربن عتیک سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کیاہے اور یہ بہت صحیح ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیک ابن قیس بن ہشیر رضی اللہ عنہ

  بن حارث بن امیہ بن معاویہ بن مالک ان کوابن ہشام نے بیان کیاہے ان سے ان کے بیٹے جابرنے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ایک غیرت وہ ہے کہ اس کواللہ پسندکرتاہےاورایک غیرت وہ ہے جس کواللہ نا پسند کرتاہے اور ایک تکبروہ ہے جس کو اللہ پسندکرتاہے اورایک تکبروہ ہے جس کواللہ ناپسند کرتاہے پس وہ غیرت کہ جس کو اللہ تعالیٰ پسندکرتاہے وہ غیرت کہ جومقام شک میں ہوتی ہے اور وہ غیرت کہ جس کو اللہ ناپسند کرتاہے وہ ہے جوغیرشک میں ہوتی ہےاوروہ تکبرجس کواللہ پسندکرتاہے وہ ہے کہ انسان لڑائی کے وقت بطورجزکے کرتاہے اور وہ تکبرجس کواللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے وہ تکبر ہےجوناحق فسق وفجور میں ہوتاہے اس کو بہت لوگوں نے جابربن عتیک سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کیاہے اور یہ بہت صحیح ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیک ابن تیہان رضی اللہ عنہ

   یہ ابوہیثم ہیں تیہان کے بھائی تھے انصاری اوسی اشہلی ہیں اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کانام عتیک بیان کیاہے اورمیرے نسخہ میں عتید ہے اور وہ زہری اورابن اسحاق سے روایت کیاگیاہے ابوعمرنے کہاہے کہ ان کا نام عتیک بن تیہان ہے اوران کا نام عبیدبھی بیان کیاجاتاہےاورابوعمرنے یہ بھی کہاہے کہ ہم نے اس کوبھی ذکرکیاہے جس نے عبیدکے نام میں کہاہے کہ وہ غزوہ بدرمیں شریک تھے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے بعض نے کہاہے کہ صفین میں شہیدہوئے ابن ہشام نےکہاہے کہ یہ تیہمان کہے جاتے ہیں اورتیہان بھی کہے جاتے ہیں ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیقہ رضی اللہ عنہ

  ان سے عبداللہ بن صفوان نے روایت کی ہے اور ان کی (روایت کردہ)حدیث صحیح نہیں ہے بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے مگران کی کوئی حدیث نہیں بیان  کی ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصرلکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیقہ ابن حارث رضی اللہ عنہ

   انصاری ہیں ۔مکحول نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے کہ ایک روزہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ یکایک عتیقہ بن حارث آئے اور کہاکہ اس وقت مجھ اچھا موقع ملاہے چاہتاہوں کہ آپ سے چند باتیں پوچھوں آپ نے فرمایاجوچاہے پوچھوانھوں نے کہا یارسول اللہ جوشخص اپنی گردن میں فی سبیل اللہ تلوارلٹکائے (یعنی جہادکرے)تو اس کو کیا(ثواب) ہے آپ نے فرمایا کہ اس کے واسطے جنت کے ہاروں میں سے ایک ہارہوگا(جو)موتی اوریاقوت اور زبرجد(کا)ہوگا۔پھرانھوں نے کہایارسول اللہ جس نے نیزے کوفی سبیل اللہ پاؤں اوررکاب کے درمیان میں رکھااس کے واسطے (قیامت میں)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے قیامت کے دن ایک جھنڈاہوگاجس سے وہ شخص پہچاناجائے گاپھر کہایارسول اللہ جو شخص فی سبیل اللہ کمان کو اپنے کندھے پرلٹکائے اس کے واسطے (قیامت کے دن)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے جنت کی چادروں میں سے ایک سبزچادرہوگی۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیق ابن قیس رضی اللہ عنہ

   ہم نے ان کا حال ان کے بیٹے حارث کے نام میں ذکرکیاہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتیر عذری رضی اللہ عنہ

   ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کی نسبت ابوزکریانے اپنے داداپراستدراک کیاہے حالاں کہ ان کے دادانے ان کاذکرکیاہےاورکہاہے کہ عسس(ان کا نام)ہے اوربعض نے کہاہے کہ دونوں نام ہیں اور برذعی نے انک عش کہاہےاسی طرح عثامہ بن قیس کی بابت بعض لوگوں نے عسامہ کہا ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےابواحمد نے ان کے نام کوعثیرکہاہے اور ان کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ جب عورت کازفاف کیاجائے الخ ابواحمد نے ان دونوں کو ایک سمجھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید