منگل , 04 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 21 April,2026

شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اللہ علیہ

شیخ المشائخ طریقت آفتابِ عالم حقیقت  شیخ بدر الملۃ  والدین سلیمان ہیں جو علم تقوی کے ساتھ مشہور اور  مشائخ کبار کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ شیخ شیوخ العالم  کے انتقال کے بعد جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین اپنے والد کے سجادہ  پر باتفاق راے تمام بھائیوں اور  ان اہل  ارادت  کے جو وہاں حاضر و موجود بیٹھے تھے اور اس  مقام کو نور  حضور حضور سے منور  و روشن کیا۔ کیونکہ آپ ہی الولد سر لابیہ کے پور سے فوٹو تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ شیخ بدر الدین سلیمان محلوق نہ تھے بلکہ سر پر مانگ رکھتے تھے جیسا کہ مشائخ چشت قدس اللہ سرہم العزیز کا طریقہ ہے کیونکہ آپ خلفائے چشت سے بیعت  رکھتے اور دست خلافت  حاصل کیے ہوئے تھے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب لوگوں نے خواجہ قطب الدین چشتی قدس۔۔۔

مزید

خواجہ یعقوب رحمتہ اللہ علیہ

سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور  دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس  کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر  ہے کہ خطہ  اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و  تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور کسی جگہ ۔۔۔

مزید

شیخ کمال الدین رحمتہ اللہ علیہ

کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی  سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا  ساطباق خدام نے ل۔۔۔

مزید

خواجہ محمد رحمتہ اللہ علیہ

شیخ شیوخ العالم کے عام نواسوں کے سر دفتر شیخ زادہ معظم و مکرم خواجہ محمد ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جن کی والدۂ محترمہ شیخ شیوخ العالم کی صاحبزادی تھیں۔ یہ شیخ زادے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف اور علوم دینی اور تقویٰ و طہارت موزونی طبع ذوق سماع  جگر سوز گریہ اور فیاضی طبع سخاوت  شجاعت  میں مشہور  و مذکور تھے۔ بچپنے کے زمانے سےلے کر بڑھاپے تک حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی۔ کلام ربانی کے حافظ ہوئے اور علوم و افر عشق کامل حاصل کیا حتی کہ سلطان المشائخ کی حالت زندگی ہی میں آپ کی خلافت  کے معزز و ممتاز  مرتبے کو پہنچ گئے۔ اور سلطان المشائخ کی حیات  میں خلق خدا سے بیعت لینے لگے۔ خواجہ محمد سلطان المشائخ کی امامت کے ساتھ مخصوص تھے۔ چنانچہ آج کے دن تک لوگ آپ کو خواجہ محمد امام کہہ کر پکارتے ہیں۔ سلطان المشائخ کو آپ کی امامت میں رقت و ذوق ح۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ فخر الدین روزی

آپ سلطان الاولیاء کے مصاحبان خاص میں سے تھے بڑے متقی اور پرہیزگار تھے قرآن پاک کی کتابت کرتے عام لوگوں سے علیحدہ رہتے اور رجال الغیب آپ کی مجالس میں آیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے حضرت محبوب الٰہی دہلوی قدس سرہ کی خدمت میں عرض کی کہ ایک دن مجھے سخت پیاس لگی مجھے غائب سے ایک کوزہ آتا نظر آیا، میں نے اسے توڑ ڈالا اور سارا پانی زمین پر گر گیا اور کہا میں کرامت سے درآمد شدہ پانی نہیں پیوں گا، حضرت شیخ نے سن کر فرمایا پی لینا چاہیے تھا یہ غیب سے تھا، بے عیب تھا میں نے بھی ایک بار کنگھی کرنا چاہی مگر میرے پاس اپنی کنگھی نہ تھی دیوار پھٹی ایک شخص ظاہر ہوا اس کے ہاتھ میں کنگھی تھی پکڑ کر میں نے کنگھی کرلی، ایک بار میں وضو کر رہا تھا میں نے چاہا کہ داڑھی کو کنگھی کروں میری کنگھی خانقاہ کے اندر طاق میں پڑی ہوئی تھی وہ کنگھی اپنے طور پر اڑتی اڑتی میرے ہاتھ میں آپہنچی میں نے پکڑی اور کنگھی کرلی۔ شیخ فخرال۔۔۔

مزید

حضرت شیخ قطب الدین منور

آپ خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ کے خاص خلیفہ تھے تجرید و تفرید میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری عمر خلوت میں گزار دی، اپنی مرضی سے حجرے سے ایک قدم بھی باہر نہیں رکھا اور کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے آپ کے والد برہان الدین بن شیخ جمال الدین  ہانسوی قدس سرہما تھے، بچپن میں والد کے انتقال کے بعد خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں حاضر ہوئے، ظاہری و باطنی تعلیم حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی، آپ ہر سال ہانسی سے دہلی آتے اور حضرت محبو ب الٰہی کی صحبت میں رہ کر تربیت پاتے۔ ایک بار سلطان محمد تغلق نے قاضی کمال الدین حیدر جہاں کو حضرت شیخ قطب الدین کی خدمت میں ہانسی بھیجا، اور ساتھ ہی چند مواضعات کی ملکیت کے کاغذات بھی بھیجے۔ اس کی خواہش تھی کہ پہلے آپ کو دنیاوی لالچ میں دے کر زیر کرے پھر شاہی عتاب سے سرنگوں کرے کیونکہ یہ بادشاہ درویشوں اور فقراء کے خلاف تھا قاضی کمال الدین۔۔۔

مزید

شیخ نظام الدین پکہاری علیہ رحمۃ اللہ الباری

آپ شیخ یوسف رحمۃ اللہ کے فرزند ارجمند تھے اور برہان پور کی ولایت کے صاحب منصب تھے بڑے متقی پرہیز گار اور ذوق و شوق کے مالک تھے۔ معارج الولایت میں لکھا ہے کہ آپ اپنی والدہ کے پیٹ میں بارہ سال تک رہے بڑے علاج کروائے گئے بڑے بڑے طبیبوں سے مشورے لیے گئے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا آخر بارہ سال کے بعد شیخ نظام الدین پیدا ہوئے چالیس دن گزرنے کے بعد والدہ نے غسل کیا اور مسکرا کر اپنے بیٹے کو کہنے لگیں میں تمہارے لیے بارہ سال تک کڑوی دوائیاں کھاتی رہی ہوں اور بڑی ہی تکلیف کا سامنا کرتی رہی ہوں ماں کی بات سُنتے ہی شاہ پکہاری نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا ’’اماں آپ سچ کہہ  رہی ہیں وہ تمام کڑوی دوائیاں میں ہی بارہ سال  آپ کے پیٹ میں رہ کر کھاتا رہا ہوں‘‘ ماں چالیس روزہ بچے کے منہ سے یہ بات سن کر حیران رہ  گئیں اور اسی حیرانی اور ڈر میں فوت ہوگئیں آپ کی بڑی بہن بی بی الل۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ موید الدین

آپ سلطان المشائخ کے خلیفہ اعظم تھے ابتدائی عمر دنیا داری میں گزری بڑے صاحب منصب اور جاہ و جلال کے مالک تھے ۔سلطان  علاء الدین کے دورِ حکومت میں بڑے اہم معرکے سر کیے، اور بڑی بڑی شاندار خدمات بجائے، لیکن جس دن حضرت سلطان المشائخ کے مرید ہوئے تو دنیا سے دست بردار ہوگئے، سلطان علاؤالدین بادشاہی تخت پر جلوہ فرما ہوئے تو آپ نے خواجہ معین الدین کو یاد کیا اور حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ موید الدین کو اجازت دیں کہ وہ دربار  میں آئیں کیونکہ اُن کے بغیر میرا کام نہیں چلتا، حضرت شیخ نے جواب میں کہا کہ انہوں نے اور کام بھی کرنے  ہیں، اب ان کاموں کی تکمیل میں مصروف ہیں، بادشاہ نے یہ جواب سنا تو بہت ناراض ہوا اور کہلا بھیجا کہ آپ تمام لوگوں کو اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا اپنے جیسا نہیں بلکہ اپنےسے کہیں بہتر دیکھنا چاہتا ہوں، بادشاہ نے یہ بات سنی تو خاموش ہوگی۔۔۔

مزید

حضرت شیخ وجیہہ الدین یوسف

آپ خواجہ نظام الدین کے عظیم خلفاء میں سے تھے حضرت سلطان المشائخ آپ پر بڑی رحمت و شفقت فرماتے، کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے پیر کی خدمت میں حاض رہوتے تو پاؤں کی آواز بھی نہ ہونے دیتے، یوں معلوم ہوتا کہ آپ  سر کے بل حاضرِ خدمت ہو رہے ہیں ،کئی دفعہ لوگوں نے آپ کو ہاتھوں کے بل جاتے ہوئے دیکھا۔ حضرت شیخ نے آپ کو  دعا دی، آپ ہوا میں اُڑ سکتے  تھے پھر حاضر ہوتے وقت ہوا سے اُڑ کر آتے حضرت شیخ نے آپ کی تربیت  کی تو آپ مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے اور چندیری کے علاقے میں قیام فرمایا اور وہاں ہی سات سو انتیس ہجری میں فوت ہوئے، آپ کا مزار چندیری میں ہے۔ شد ز دنیا چو در بہشت بریں شیخ مسعود یوسف ثانے یوسف عاقبت بگو سالش ہم  نجوان بود یوسف ثانی ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محمد امام چشتی

آپ چشتی بزرگان برصغیر میں سے تھے۔ حضرت خواجہ شیخ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خواہرزادے تھے، آپ کے والد گرامی کا نام  شیخ بدرالدین اسحاق بخاری رحمۃ اللہ علیہ تھا اگرچہ آپ اپنے ولاد سے بھی بیعت تھے۔ مگر آپ کو حضرت شیخ المشائخ سے بڑا فیض ملا تھا آپ نے حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی دہلوی کے ملفوظات پر ایک کتاب انوار المجالس لکھی جو بہت مشہو رہوئی، آپ کو علوم ظاہری و باطنی کے ساتھ ساتھ علوم موسیقی میں بھی کامل مہارت تھی، آپ کا وصال ۷۳۴ھ کو ہوا۔ رفت چوں از جہاں بخلد بریں شیخ اسعد امام عارف دہر رحلتش معتبر حبیب نجواں ہم محمد امام عارف دہر ۷۳۴ھ۔۔۔

مزید